ہندوستانی وزیر خارجہ جئے شنکر سے ایرانی نائب وزیر خارجہ کی ہوئی ملاقات، 24 گھنٹہ میں تیسری بار ہوا ہند-تہران رابطہ
ایران کے نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ اس وقت دہلی میں موجود ہیں۔ خطیب زادہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے انتخاب سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

امریکہ اور ایران کی جنگ کے درمیان ایران سے ہندوستان کا رابطہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بڑھتا ہوا دکھائی دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 مواقع پر ایران اور ہندوستان کے سفارت کار ایک دوسرے کے رابطے میں آئے ہیں۔ تازہ معاملہ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کا ایران کے نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ سے ملاقات پر مبنی ہے۔ 6 مارچ کو رائے سینا ڈائیلاگ کے دوران نئی دہلی میں ایس جئے شنکر نے خطیب زادہ سے ملاقات کی۔ دونوں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی، اس کی تفصیلی جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو جئے شنکر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے فون پر بات کی تھی۔ علاوہ ازیں 5 مارچ کو ہی ہندوستانی خارجہ سکریٹری وکرم مسری نئی دہلی واقع ایرانی سفارت خانہ پہنچے تھے۔ یہاں پر ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق ایک دعائیہ جلسہ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ مسری نے یہاں اظہارِ تعزیت والے رجسٹر پر دستخط بھی کیا۔
قابل ذکر ہے کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ اس وقت دہلی میں ہی موجود ہیں۔ خطیب زادہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے انتخاب سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ٹرمپ نیویارک کے میئر منتخب نہیں کر سکتے، وہ ایران کے سپریم لیڈر کیسے منتخب کر سکتے ہیں؟‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کیا آپ اس نوآبادیاتی نظریہ کا تصور کر سکتے ہیں؟ جبکہ وہ اپنے ملک میں جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ایران کے جمہوری طریقے سے منتخب صدر کو ہٹانا چاہتے ہیں۔‘‘
خطیب زادہ نے اس دوران ’آئی آر آئی ایس ڈینا‘ کے بحر ہند میں غرق کیے جانے پر بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک اور انتہائی دردناک واقعہ ہے۔ جہاز خالی تھا اور اس پر کوئی اسلحہ موجود نہیں تھا۔ یہ بہت تشویش ناک ہے کہ میلان ایکسرسائز میں حصہ لینے آئے کئی نوجوان ایرانی بحریہ فوجیوں نے اپنی جان گنوا دی۔