افغانستان: طالبان حکومت کے خلاف حقوق کو لے کر خواتین کا مظاہرہ

مظاہرین نے بتایا کہ ہم اپنے حقوق کے دفاع کے لیے خواتین کے ایک گروپ میں شامل ہو کر صدارتی محل کی طرف مارچ کر رہے تھے، تبھی طالبان نے ہم پر حملہ کر دیا، آنسو گیس کے گولے داغے اور کئی خواتین کو پیٹا گیا۔

افغان خواتین، تصویر یو این آئی
افغان خواتین، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ملک بھر میں خواتین کے حقوق کے مطالبے کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور اسی دوران دارالحکومت کابل میں جاری مظاہرے نے پرتشدد شکل اختیار کر لی ہے، طلوع نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کی اسپیشل فورسز نے کابل کے پل محمود خان علاقے سے صدارتی محل کی طرف مارچ کر رہے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ طالبان نے کہا کہ مظاہرین کے ’قابو سے باہر‘ ہونے کی وجہ سے آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے۔

مظاہرین میں سے ایک نے طلوع نیوز کو بتایا کہ ’’ہم اپنے حقوق کے دفاع کے لیے خواتین کے ایک گروپ میں شامل ہو کر صدارتی محل کی طرف مارچ کر رہے تھے، تبھی طالبان نے ہم پر حملہ کر دیا، آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور کئی خواتین کو پیٹا گیا‘‘۔


قابل ذکر بات یہ ہے کہ طالبان کی حکومت کے بعد سے خواتین اپنے حقوق کے لیے مسلسل احتجاج کر رہی ہیں۔ اسی کڑی میں گزشتہ روز مسلسل دوسرے دن ایک ریلی نکالی گئی، جس میں زیادہ تر شرکت کرنے والی خواتین تھیں۔ گزشتہ ہفتے ہرات میں اسی طرح کی ریلی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ طالبان نے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے بعد آر ٹی اے (افغانستان میں نیشنل ریڈیو اور ٹیلی ویژن) میں کام کرنے والی بہت سی خواتین کو کام کرنے سے روک دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔