پاکستانی فضائی حملوں پر افغانستان کا احتجاج، 36 شہریوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی ناظم الامور کو کیا طلب
افغانستان نے پاکستانی فضائی حملوں پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کیا۔ طالبان حکومت کے مطابق حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 36 شہری جاں بحق، جبکہ متعدد مکانات تباہ ہوئے

افغانستان نے پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کے بعد سخت سفارتی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر لیا ہے۔ افغان وزارتِ خارجہ نے پاکستانی طیاروں کی جانب سے افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی اور سرحدی صوبوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ادھر طالبان حکومت نے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 36 ہو گئی ہے، جبکہ 163 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
افغان وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستانی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے کنڑ، پکتیا اور پکتیکا صوبوں میں عام شہریوں کے گھروں پر بمباری اور افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی پر سخت اور دوٹوک احتجاج سے آگاہ کیا گیا۔ وزارت نے ان حملوں کو بین الاقوامی اصولوں اور افغانستان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔
طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں حملوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خواتین اور بچوں سمیت 36 شہری جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 163 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق تین رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
فطرت کے مطابق پکتیا صوبے کے ضلع چمکنی کے گاؤں مندوخیل میں پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ایک شہری کے گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک بزرگ اور ایک بچہ جاں بحق جبکہ خاندان کے دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب مقامی لوگ زخمیوں کو بچانے کے لیے جمع ہوئے تو اسی مقام پر دوبارہ بمباری کی گئی، جس میں 28 دیہاتی مارے گئے اور 158 دیگر زخمی ہو گئے۔
طالبان ترجمان کے مطابق دوسرا بڑا حملہ پکتیکا صوبے کے ضلع گیان کے گاؤں والُست میں کیا گیا، جہاں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ اسی طرح کنڑ صوبے کے ضلع منوگئی کے گاؤں بارولو میں بھی ایک گھر پر بمباری کی گئی، تاہم وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، البتہ مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان: غذائی امداد کی دشوار گزار راہیں
دوسری جانب پاکستان نے اس فوجی کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا ہے۔ پاکستانی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر زمینی کارروائی کی گئی، جس کی فضائی مدد بھی حاصل تھی۔ ان کے مطابق یہ کارروائی پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں، خصوصاً خیبر پختونخوا، بلوچستان، کراچی اور سندھ رینجرز کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئی۔
افغانستان کی جانب سے پاکستانی ناظم الامور کی طلبی اور شہری ہلاکتوں کے تازہ اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سفارتی اور سرحدی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
