پاکستان نے کراچی حملہ کے بعد افغانستانی سرحد پر کیا زوردار حملہ، 30 افراد جاں بحق
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ طرار کے مطابق خیبر پختونخواں، بلوچستان اور کراچی میں پاکستان رینجرس کے کیمپ پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد افغان سرحد پر جوابی کارروائی کی گئی۔

پاکستان نے اتوار کو افغان سرحد کے پاس زوردار حملہ کیا، جس میں کم از کم 30 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ پاکستانی اخبار ’ڈان‘ کے مطابق یہ کارروائی حال میں پاکستان میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ طرار نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے خفیہ جانکاری کی بنیاد پر پہلے سے منصوبہ بنا کر سرحدی علاقہ میں زمینی مہم چلائی اور ساتھ ہی ہوائی حملے بھی کیے۔
عطاء اللہ طرار کے مطابق خیبر پختونخواں، بلوچستان اور کراچی میں پاکستان رینجرس کے کیمپ پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد افغان سرحد پر یہ جوابی کارروائی کی گئی۔ دراصل ہفتہ کی شب کراچی کے گلستانِ جوہر علاقہ میں موجود سندھ رینجرس کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ سندھ پولیس چیف جاوید عالم اودھو نے بتایا کہ دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مادوں سے بھری گاڑی کو صدر دروازہ سے ٹکرا دیا، جس کے بعد وہاں شدید گولی باری ہوئی۔ ابتدائی جانچ میں یہ واضح نہیں ہو پایا کہ گاڑی میں دھماکہ بھی ہوا تھا یا نہیں۔
اس حملہ میں 3 پاکستانی نیم فوجی اہلکار اور 3 دہشت گرد مارے گئے۔ ایک فوجی جوان کے پیر میں گولی بھی لگی جسے اسپتال میں داخ کرایا گیا۔ حملہ کے بعد اسپیشل سیکورٹی یونٹ (ایس ایس یو)، اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف)، رینجرس اور پولیس نے پورے علاقہ کو گھیر لیا اور تلاشی مہم شروع کی۔ ریسکیو 1122 سندھ کی ٹیم بھی موقع پر پہنچی اور راحت رسانی کا کام شروع کیا۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق اس حملہ کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے لی ہے۔ یہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ایک الگ گروپ ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس حملہ میں اس کے 9 جنگجوؤں نے حصہ لیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں پاکستان میں پولیس اور سیکورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے تیزی سے بڑھے ہیں۔ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے تحریک طالبات پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک دوسری دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ ٹی ٹی پی، افغان طالبان سے الگ تنظیم ہے، لیکن دونوں ایک دوسرے کے معاون تصور کیے جاتے ہیں۔ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں لوٹنے کے بعد سے سرحد پر کشیدگی لگاتار بڑھی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی سیکورٹی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
