افغانستان: ووٹوں کی دوبارہ گنتی مکمل، صدارتی انتخابات کا نتیجہ تین دن میں

ووٹوں کی دوبارہ گنتی عہدہ صدارت کے مضبوط امیدوار عبداللہ کے اس دعوے کے بعد کرائی جارہی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 28 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے تقریباً تین لاکھ ووٹ غیر مجاز تھے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

کابل: افغانستان میں الیکشن کمیشن صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا کام ملک بھر میں بنائے گئے 8400 گنتی مراکز پرکر ے گا ، جس کے تین دن میں مکمل ہونے کی توقع ہے ۔ جمعہ کو الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ کے سربراہ حبیب الرحمن نانگ نے یہ اطلاع دی۔

واضح رہے کہ انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی دوبارہ گنتی عہدہ صدارت کے مضبوط امیدوار عبداللہ عبداللہ کے اس دعوے کے بعد کرائی جار ہی ہے ، جس میں کہا گیا کہ 28 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے تقریباً تین لاکھ ووٹ غیر مجاز تھے۔

انتخابات کے دوران جس درمالاگ جرمن بائیو میٹرکس کمپنی کے آلات کا انتخابات کے دوران استعمال کیا تھا اس نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ متنازعہ ووٹوں میں سے 137000 ووٹ درست پائے گئے۔ نانگ نے کہا، ’’کمیشن 8400 گنتی مراکز پر دوبارہ ووٹوں کی گنتی کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ کام آئندہ تین دن میں مکمل کرلیا جائے گا اور اس کا نتیجہ مقررہ وقت پر اعلان کردیا جائے گا۔‘‘

اس بیان کے منظر عام پر آنے کے بعد، انتخابی شکایات کمیشن نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ وہ اپنے عمل کو تیز کرے تاکہ بغیر کسی تاخیر کے نتائج کا اعلان کیا جاسکے۔ اس سے قبل انتخابی نتائج کا اعلان 19 اکتوبر کو ہونا تھا لیکن ووٹوں کی گنتی کی کچھ مشینیں خراب ہونے اور کچھ دیگر تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔