امن کی راہ پر افغانستان: طالبان اور افغان تشدد میں کمی لانے پر متفق

طالبان کے سخت حریف سمیت درجنوں سرکردہ افغان شخصیات اور طالبان کے نمائندگان کی طرف سے امن مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق فریقین تشدد میں کمی لانے پر متفق ہو گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

دوحہ: قطر کے دار الحکومت دوحہ میں جرمنی اور قطر کے تعاون سے طالبان اور سرکردہ افغان شخصیات کے مابین افغانستان میں تشدد میں کمی لانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ اطلاع قطری حکام کی طرف سے دی گئی ہے۔ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا، اس میں خواتین نمائندگان کے علاوہ وہ لوگ بھی شامل ہوئے تھے جو طالبان کے سخت حریف مانے جاتے ہیں۔

قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اتفاق پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امن کی راہ پر یہ پہلا قدم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے بعد فریقین نے افغانستان میں تشدد میں کمی لانےکی اپیل ہی نہیں کی بلکہ اس کی یقین دہانی بھی کرائی۔ افغان طالبان اور افغان نمائندوں کے درمیان جرمنی اور قطر کی حمایت سے دو روزہ مذاکرات سے حوصلہ افزا نتائج کے پیش نظر امید کی جا رہی ہے کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں 18 برسوں سے جاری نزاعی کیفیت کے خاتمے کی ایک متفقہ راہ ہموار کرنے پر جلدہی اتفاق ہو جائے گا۔ غور طلب ہے کہ اس مذاکرت میں امریکہ براہ راست شریک نہیں ہے۔

یہ روڈ میپ یکم ستمبر تک تیار ہو سکتا ہے جس کے بعد افغانستان میں متعین امریکہ اور نیٹو افواج کی واپسی بھی ممکن ہو پائے گی۔ افغانوں کے مابین بات چیت تو کل ہی ختم ہوگئی تھی تاہم مشترکہ بیان پر اتفاق رائے کا اظہار آج سامنے آیا ہے۔ ملاقات میں خواتین اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی۔ مذاکرات کے بعد خواتین کے حقوق کے اسلامی اقدار کے دائرے میں تحفظ کو یقینی بنانے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ڈی ڈبلیو ڈی اردو کے مطابق قطر اور جرمنی کی میزبانی میں ہونے والی افغانوں کے مابین اس کانفرنس کے حوالے سے جرمن سفارت کار نے بھی کہا ہے کہ افغان طالبان اور حکام نے ''تشدد میں کمی لانے کا وعدہ‘‘ کیا ہے۔ یہ مذاکرات جرمنی کی کوششوں سے ممکن ہوئے۔ افغانستان کے لیے جرمنی کے نمائندہ خصوصی مارکُس پوٹزل کے مطابق اس ملاقات کے بعد فریقین نے افغانستان میں تشدد میں کمی کی اپیل کی اور اس میں کمی لانے کی یقین دہائی کرائی۔

خیال رہے کہ افغان طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے نئے مرحلے کا آغاز آج منگل نو جولائی سے ہو رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے مطابق وہ امید کر رہے ہیں کہ یکم ستمبر تک ایک امن معاہدے پر اتفاق ہو جائے گا۔ دوسری طرف افغانستان کے لیے خصوصی امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے بھی کہا ہے کہ 'افغانوں کی طالبان کے ساتھ ہونے والی ملاقات ایک بڑی کامیابی ہے۔‘