افغان پناہ گزینوں کو مشکلات کا سامنا، جرمنی میں 200 افراد کو ’ریڈ مارک‘ کیا گیا

امریکہ نے کہا ہے کہ جنرمنی میں رامسٹین بیس پر 30 ہزار افغان پنان گزینوں میں سے 200 کو ’ریڈ مارک‘ کیا گیا ہے

امریکہ کے ایک ہوائی اڈے پر پہنچے افغان پناہ گزین / Getty Images
امریکہ کے ایک ہوائی اڈے پر پہنچے افغان پناہ گزین / Getty Images
user

یو این آئی

واشنگٹن: طالبان کے افغانستان میں اقتدار حاصل کر لینے کے بعد بہتر مستقبل کے لئے دوسرے ممالک پہنچنے والے ہزاروں افغان پناہ گزینوں کی مشکلات ختم نہیں ہو رہی ہیں، کیونکہ دوسرے ممالک میں ان کی سخت جانچ کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا، امریکہ نے کہا ہے کہ جنرمنی میں رامسٹین بیس پر 30 ہزار افغان پنان گزینوں میں سے 200 کو ’ریڈ مارک‘ کیا گیا ہے۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے ہفتے کے روز فاکس نیوز چینل کو بتایا کہ ان لوگوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’’میرے خیال میں دو سو افراد کو ریڈ مارک کیا گیا ہے‘‘۔ ان لوگوں کے ناموں کی جانچ کی جا رہی ہے اور بائیومیٹرکس اور فنگر پرنٹ ملائے جا رہے ہیں۔


انہوں نے وضاحت کی کہ اگر کوئی شخص ریڈ مارک کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ وفاقی جانچ کے دائرے میں ہے ، لیکن بہت سے معاملات میں ریڈ مارک کو ختم کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق ، 15 اگست کو طالبان کے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کرنے اور 31 اگست کو امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد خانہ جنگی چھڑنے کا امکان ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔