ایران میں جوہری تنصیبات مضبوط بنانے کی سرگرمیاں جاری، نئی سیٹلائٹ تصاویر سے امریکہ، اسرائیل کو تشویش
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیل اور امریکی حملوں کے بعد ایران نے اپنے جوہری مقامات پرنئی چھتیں تعمیر کی ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایران باقی ماندہ جوہری مواد چھپانے یا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے گزشتہ سال کیے گئے تباہ کن فضائی حملوں کے بعد ایک بار پھرایران کی جوہری تنصیبات پر سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔ تازہ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے اپنی دواہم جوہری تنصیبات، اصفہان اور نطنز میں تباہ شدہ ڈھانچوں کے اوپر نئی چھتیں (روف اسٹرکچر) اور کور تیار کرلئے ہیں۔
پلانیٹ لیبز پی بی سی کی طرف سے جاری کردہ حالیہ سیٹلائٹ تصاویر کے بعد بین الاقوامی برادری میں ان خدشات میں اضافہ ہونے لگا ہے کہ تہران شاید حملوں کے بعد بچے ہوئے حساس جوہری وسائل کو چھپانے یا دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد یہ پہلا بڑا تعمیری کام ہے جو کسی بھی بمباری متاثرہ جوہری سائٹ پر دیکھا جارہا ہے۔ نئی چھتوں کی وجہ سے سیٹلائٹ کے لیے زمین پرہورہی سرگرمیوں کو دیکھ پانا مشکل ہوگیا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے اور ایسے میں ریموٹ مانیٹرنگ ہی نگرانی کا واحد ذریعہ بچا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ان چھتوں کا مقصد کسی نئی جوہری تعمیر سے زیادہ ملبے کے نیچے دبے حساس آلات اور یورنیم کے ذخیرے کو دنیا کی نظروں سے محفوظ نکالنا (سالویج آپریشن) ہو سکتا ہے۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کی اینڈریا اسٹرائیکر کے مطابق ایران اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اسرائیل یا امریکہ یہ نہ دیکھ سکیں کہ ان کے حملوں میں کیا کیا محفوظ رہ گیا ہے۔
تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر کے فاصلے پر نظنز، ایران کا سب سے اہم یورینیم افزودگی مرکز رہاہے جہاں 60 فیصد تک افزودہ یورینیم تیار کیاجاتا تھا۔ جون میں اسرائیل نے یہاں کی زمین کے اوپر واقع افزودگی کی اہم مرکزی یونٹ کو تباہ کر دیا تھا جب کہ بعد میں امریکہ نے زیر زمین حصوں پر بنکر بسٹر بموں سے حملہ کیا۔
سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ نطنز میں دسمبر میں ایک نئی چھت کی تعمیر شروع ہوئی تھی اور مہینے کے آخر تک مکمل ہو گئی تھی، حالانکہ بجلی کا نظام اب بھی ناکام بتایا جارہا ہے۔ اسی طرح کی چھت جنوری کے اوائل میں اصفہان میں بھی تعمیر کی گئی تھی۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان حملوں میں سینٹری فیوز بنانے والی یونٹوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کچھ سرنگوں کو مٹی سے بھرتے دیکھا گیا اور ایک سرنگ کو مضبوط بناتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
تصاویر میں نطنز کے قریب پکیکس ماؤنٹین نامی جگہ پر مسلسل کھدائی بھی دکھائی دیتی ہے جہاں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران ایک نئی زیر زمین جوہری تنصیب تعمیر کر رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک سائٹس پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔