حادثہ یا حملہ! آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ کا اپاچے اٹیک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، ریسکیو کئے گئے 2 پائلٹ
مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد کئی امریکی طیارے یا تو ایران کی کارروائی میں تباہ ہوئے یا غلطی سے لاپتہ ہو گئے لیکن یہ پہلی بار ہے جب اس جنگ میں اپاچے ہیلی کاپٹر کے گرنے کی بات سامنے آئی ہے۔

ایران-امریکہ اور اسرائیل تنازعہ کا مرکز بنے آبنائے ہرمز کے پاس امریکی فوج کا ایک اپاچے اٹیک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا۔ حالانکہ ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں پائلٹوں کو بہ حفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ ہیلی کاپٹر ایرانی حملے کا شکار ہوا، اس میں تکنیکی خرابی آئی یا کسی دوسری وجہ سے حادثہ ہوا۔ امریکی اخبار ’دی نیویارک ٹائمس‘ کی رپورٹ کے مطابق اس واقعہ سے باخبر 2 افسران نے حادثے کی تصدیق کی ہے۔ حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان یا تازہ ترین اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی فوجی طیارہ جاپان کے قریب سمندر میں گر کر تباہ
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے بھی اس واقعہ پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ یہ حادثہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس علاقے میں لگاتار کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کئے ہیں۔ اس کے بعد حالات ’پر امن‘ ہوئے لیکن جنگ بندی جیسا ماحول ابھی بھی بہت کمزور مانا جا رہا ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد کچھ امریکی طیارے بھی یا تو ایران کی کارروائی میں تباہ ہوئے یا غلطی سے لاپتا ہوگئے لیکن یہ پہلی بار ہے جب اس جنگ میں اپاچے ہیلی کاپٹر کے گرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ امریکی فوج اس علاقے میں کئی طرح کے ہتھیار اور طیارے استعمال کرتی رہی ہے۔ ان میں اپاچے ہیلی کاپٹر، ایم کیو-9 ریپر ڈرون اور ایف/اے -18 نیز ایف -35 جنگی طیارے شامل ہیں۔ ان کا استعمال ایران کی سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز میں اس کے اثرات کو روکنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اب تک تقریباً 30 ریپر ڈرون مار گرائے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے 4 مئی کو سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کی تھیں جن میں سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کو آبنائے ہرمز کے پاس اپاچے ہیلی کاپٹر میں پرواز کرتے دکھایا تھا۔ یہ اس وقت ہوا تھا جب امریکی بحریہ نے پروجیکٹ فریڈم شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد تجارتی جہازوں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد کرنا تھا لیکن یہ مہم زیادہ وقت نہیں چل سکی۔
اے ایس-64 اپاچے ہیلی کاپٹر کو دنیا کے سب سے خطرناک اور طاقتور جنگی ہیلی کاپٹروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں ہیل فائر میزائلیں لگی ہوتی ہیں اور اس کا استعمال ڈرون کو گرانے اور چھوٹی کشتیوں کے حملوں سے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں یہ ہیلی کاپٹر ایران کے نزدیکی علاقوں اور خلیجی خطے میں زیادہ سرگرم ہوئے ہیں۔ اپریل میں ایران نے امریکہ کے ایف -15اے اسٹرائیک ایگل طیارے کو مار گرایا تھا جس کے بعد امریکہ نے اپنے 2 کرو ممبرس کو ایران سے ریسکیو کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
