’اسپرم ڈونیشن‘ سے پیدا خاتون نے چلائی خصوصی مہم، ڈھونڈ نکالے 63 بھائی-بہن

کورونا وائرس وبا کی وجہ سے 23 سالہ کیانی کی مہم ٹھہر سی گئی ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ وبا ختم ہونے پر وہ ایک بار پھر سے اپنے بھائی بہنوں کی تلاش شروع کرنا چاہتی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

امریکی باشندہ کیانی ایرویو ایک خاتون ہیں اور وہ اسپرم ڈونیشن یعنی نطفہ عطیہ کے ذریعہ پیدا ہوئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے والد کون ہیں۔ بس ان کے بارے میں اتنا پتہ تھا کہ وہ آرٹ اور اسپورٹس میں دلچسپی لیتے تھے۔ پھر ایک دن کچھ ایسا ہوا کہ کیانی نے اپنے بھائی بہنوں کی تلاش کے لیے مہم شروع کی، تاکہ وہ جان سکے کہ ان کے والد کے نطفہ سے کتنے لوگوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

دراصل 23 سالہ کیانی دو ہم جنس پرست خواتین کی بیٹی ہے۔ اس نے ’دی مرر‘ ویب سائٹ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ’’میں جب چار سال کی تھی تو اپنے ساتھ کے بچوں کو دیکھا کرتی تھی۔ ان کی فیملی میں ماں اور باپ سرپرست کے طور پر موجود تھے، لیکن میری فیملی میں سرپرست کے طور پر دونوں مائیں تھیں۔‘‘ کیانی نے مزید کہا کہ ’’میں بچپن میں اپنے والد کو بہت یاد کرتی تھی۔ میں اپنے اسپرم ڈونر والد کے لیے فادرس ڈے کارڈس بناتی تھی۔ کئی سالوں تک میرے ڈونر کی پروفائل پرائیویٹ تھی۔ یعنی میرے والد کے اسپرم سے پیدا ہوئے بچے ان سے رابطہ نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن میرا ایک ڈونر کمپنی کے لیے پروموشنل ویڈیو دیکھ کر والد نے اپنا من بدل لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنا پروفائل پبلک کر لیا۔‘‘


کیانی کہتی ہیں کہ اسپرم ڈونر والد کے ذریعہ پروفائل پبلک کیے جانے کا مطلب یہ تھا کہ وہ 18 سال کی عمر ہونے پر ان سے رابطہ کر سکتی تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ 18 سال کی ہونے سے پہلے ہی کیانی نے اپنے ان بھائی بہنوں کو تلاش کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا تھا جو کیانی کے اسپرم ڈونر کے ذریعہ ہی پیدا ہوئے تھے۔ منصوبہ بند طریقے سے کیانی نے اسپرم بینک کے رجسٹر پر سائن کیا تھا۔ اسپرم بینک سے رابطہ کرنے کے بعد انھیں اپنے بھائی بہنوں کو لے کر جانکاری ملی اور وہ انھیں تلاش کرنے میں مصروف ہو گئیں۔

کیانی کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے 15 سال کی عمر میں ایک فیملی سے ملی تھیں جس نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ اس خاتون کی دو جڑواں بچیاں تھیں اور وہ کیانی سے چھوٹی تھیں۔ یہ بچیاں بھی اسپرم ڈونیشن کی مدد سے ہی پیدا ہوئی تھیں۔ ان بچیوں کے ساتھ وقت گزار کر کیانی کو بہت اچھا لگا اور اس ملاقات سے متاثر ہو کر ہی کیانی نے اپنے بھائی بہنوں کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ کیانی بتاتی ہیں کہ ’’اب تک مجھے اپنے 63 بھائی بہن مل چکے ہیں۔ یہ امریکہ اور کناڈا سے لے کر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک میں بسے ہوئے ہیں۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیانی جس فلوریڈا شہر میں رہتی ہے، وہاں ان کے 12 بھائی بہن رہتے ہیں۔ وہ اکثر ان سے ملنے جاتی ہیں۔ کورونا وائرس وبا کی وجہ سے کیانی کی مہم ٹھہر سی گئی ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ وبا ختم ہونے پر وہ ایک بار پھر سے اپنے بھائی بہنوں کی تلاش شروع کرنا چاہتی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 03 Jun 2021, 5:48 PM