سوڈان میں اقتدار پر قبضہ کرنے والی فوجی قیادت کے لیے نئی مشکل

افریقی یونین نے سول حکومت کے خاتمے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوجی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور اقتدار چھوڑ کر جمہوریت بحال کرے اور فیصلوں کا اختیار عوامی نمائندوں کو دے۔

سوڈان کے فوجی جنرل عبدالفتح، تصویر آئی اے این ایس
سوڈان کے فوجی جنرل عبدالفتح، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

خرطوم: سوڈان میں فوجی بغاوت کے بعد افریقی یونین نے سوڈان کی جمہوری حکومت کو گھر بھیجنے اور تخت پر فوجی قابض ہونے کے بعد پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق افریقن یونین نے سوڈان میں سویلین حکومت کی بحالی تک ہر قسم کے رابطے منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افریقن یونین کی جانب سے گزشتہ روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقتدار پر فوجی قبضے تک کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جائے گا اور تجارت، دو طرفہ تعلقات، ایوی ایشن سمیت پابندیاں برقرار رہیں گی۔ افریقی یونین نے سول حکومت کے خاتمے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوجی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور اقتدار چھوڑ کر جمہوریت بحال کرے اور فیصلوں کا اختیار عوامی نمائندوں کو دے۔


قبل ازیں یورپین یونین نے بھی سوڈان کے وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک، وزرا کی گرفتاری اور حکومت کے خاتمے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ دو روز قبل یعنی پیر کو سوڈان کے فوجی جنرل عبدالفتح نے حکومت کے خاتمے اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سویلین حکومت کو تحلیل کرنے کی وجہ سے ملک میں جاری سیاسی چپقلش تھی۔

یاد رہے کہ سوڈانی فوج 2019 میں صدر عمرالبشیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ عبوری حکومت میں شریک اقتدار ہے۔ فوج نے کئی گروپس کے سیاسی اتحاد فورسز فار فریڈم اینڈ چینج (ایف ایف سی) کے ساتھ اقتدار میں شریک ہونے کے لیے ایک ڈیل کی تھی جس کے بعد ایک آزاد کونسل کا قیام عمل میں کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔