پاکستانی فوج کے7 جوان بلوچ جنگجوؤں کی حراست میں، قیدیوں کے تبادلے کے لیے بی ایل اے نے دی7 دن کی مہلت

بی ایل اے کے آپریشن ہیروف 2.0 کے دوران 17 پاکستانی یرغمال بنائے گئے تھے۔ ان میں سے 10 کو اگلے دن چھوڑ دیا گیا کیونکہ وہ انتظامی افسر تھے اور صرف 7 فوجیوں کو بلوچ جنگجو اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پاکستان کے بلوچستان صوبے میں31 جنوری سے 6 فروری تک جاری رہنے والے ’آپریشن ہیروف 2.0 ‘ کے بعد ایک بار پھر حالات دھماکہ خیز ہوگئے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پاکستانی فوج کے 7 اہلکاروں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان فوجیوں کی ایک ویڈیو اور تصویر جاری کرتے ہوئے بی ایل اے نے کہا کہ اگر پاکستانی فوج انہیں رہا کرانا چاہتی ہے تو اسے 31 جنوری سے 6 فروری کے درمیان گرفتار کیے گئے بلوچ جنگجوؤں کو آزاد کرنا ہوگا۔ تنظیم نے اسے قیدیوں کے تبادلے کی شرط بتایا ہے۔

بلوچ جنگجوؤں نے پاکستانی فوج کو 7 دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستانی فوج مقررہ مدت کے اندر تبادلے پر راضی نہ ہوئی تو یرغمال بنائے فوجیوں کو پھانسی دے دی جائے گی۔ بلوچ لبریشن آرمی نے یہ بھی بتایا ہے کہ آپریشن ہیروف 2.0 کے دوران اس نے 17 سرکاری ملازمین کو یرغمال بنایا تھا۔ ان میں سے 10 کو اگلے دن چھوڑ دیا گیا کیونکہ وہ انتظامی افسر تھے اور صرف 7 فوجیوں کو بلوچ جنگجو اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔


بلوچ آرمی کی ویڈیو میں 7 فوجیوں میں سے 2 کی شناخت کی گئی ہے۔ ایک فوجی کا نام جمیل اور دوسرا شمس تبریز ہے جو نائیک رینک کا سپاہی ہے۔ ویڈیو میں صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی آرمی نائیک شمس تبریز نے اپنا شناختی کارڈ دکھاتے ہوئے پاکستانی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں چھڑانے کے لئے فوج بی ایل اے کے مطالبات تسلیم کرے تاکہ ان تمام 7 فوجی اپنے گھروں کو واپس ہوسکیں۔

ویسے تو یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بی ایل اے نے پاکستانی فوجیوں کو یرغمال بنایا ہے اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سب سے پہلے 2013 میں بی ایل اے نے ضلع آواران میں فرنٹیئر کور کے دو جوانوں کو یرغمال بنایا تھا اور پاکستانی فوج سے بدلے میں بی ایل اے کے کچھ جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ مطالبات پورے نہ ہونے پر بی ایل اے نے ان جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اسی طرح 2015 میں بی ایل اے نے مستونگ اور تربت میں 6 پاکستانی فوجیوں کو یرغمال بنایا تھا اور فوج کے زیر حراست بلوچستان کے لاپتہ اہلکاروں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور مطالبات پورے نہ کئے جانے پر انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔


سال2025  میں بی ایل اے نے تربت میں 3 فوجیوں کو یرغمال بنایا تھا اور اس کے عوض اپنے جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کے بعد پہلی بار پاکستان کی حکومت نے بی ایل اے کے ساتھ بیک چینل سے بات چیت کی تھی اور تبادلہ ہوا تھا۔ اب ایک بار پھر بی ایل اے نے پاکستانی فوج کے 7 جوانوں کو یرغمال بنا لیا ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ خودسپردگی کرنے کے لیے مشہور پاکستان کی فوج بی ایل اے کی طرف سے دی گئی 7 دنوں کی مہلت کے دوران کیا قدم اٹھاتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔