کورونا وائرس جیسے خطروں سے دنیا کو بچانے کے لیے 3 سائنسداں خلائی اسٹیشن پہنچے!

جو تین خلائی مسافر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچے ہیں ان کے نام کرس کیسیڈی، اناتولی ایوانیشن اور ایوان واگنر ہیں۔ کرس کیسیڈی کا تعلق امریکہ سے ہے جب کہ بقیہ دو خلائی مسافر روس کے باشندہ ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور کچھ سائنسداں اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ آئندہ اس دنیا پر کورونا وائرس جیسے حملے کو کس طرح روکا جائے۔ اسی کوشش میں تین خلائی مسافر یعنی سائنسداں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (انٹرنیشنل اسپیس سنٹر) پہنچ گئے ہیں۔ ان سبھی خلائی مسافروں کو روسی خلائی ایجنسی 'راسکاسماس' نے سویوز ایم ایس-16 راکٹ سے خلائی اسٹیشن روانہ کیا۔ تینوں سائنسداں صبح ہی خلائی اسٹیشن پہنچ گئے اور اس کا ویڈیو بھی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن نے جاری کیا ہے۔

جو تین خلائی مسافر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچے ہیں ان کے نام کرس کیسیڈی، اناتولی ایوانیشن اور ایوان واگنر ہیں۔ کرس کیسیڈی کا تعلق امریکہ سے ہے جب کہ بقیہ دونوں خلائی مسافر روس کے باشندہ ہیں۔ تینوں خلائی مسافر قزاقستان کے بیکونور کاسموڈروم سے خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے اور بین الاقوامی وقت کے مطابق 2.13 بجے خلائی اسٹیشن پہنچ گئے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ اسپیس اسٹیشن پر امریکہ کے اینڈریو مارگن، جیسیکا میر اور روس کے اولیگ اسکریپوچکا پہلےسے ہی موجود ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچے تینوں خلائی مسافر اب 195 دنوں تک وہاں رہیں گے اور 160 قسم کے تجربات کریں گے۔ ان میں جغرافیہ، ٹیکنالوجیکل ڈیولپمنٹ، بایولوجی، انسانی تحقیق اور اَرتھ سائنس شامل ہیں۔ اس کے ذریعہ وہ زمین پر ہونے والے کسی بھی آفات کا پتہ لگائیں گے۔ کورونا وائرس جیسے خطرات سے نمٹنے کا طریقہ بھی وہ تلاش کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ خلائی اسٹیشن میں پہلے سے موجود تینوں خلائی مسافر 17 اپریل کو واپس زمین پر آنے والے ہیں۔ یہ تینوں خلائی مسافر سویوز ایم ایس-15 کیپسول سے زمین پر لوٹیں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان تینوں خلائی مسافر کی واپسی کے بعد مئی میں اسپیس ایکس کی طرف سے بھی کیپسول سے 2 خلائی مسافر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جا سکتے ہیں۔