پاکستان: لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

لاہور کے کاہنہ علاقے میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئیں جبکہ عمارت کے مالک اور ٹھیکیدار کو حراست میں لے لیا گیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ سوشل میڈیا</p></div>
i

لاہور کے علاقے کاہنہ میں منگل کو ایک اندوہناک حادثے میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گرنے سے کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، حادثے کے وقت ٹیوشن سینٹر میں 30 سے زائد بچے موجود تھے، جن میں سے کئی ملبے تلے دب گئے۔ امدادی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمی بچوں کو اسپتال منتقل کیا اور کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد تمام متاثرین کو ملبے سے نکال لیا گیا۔

لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز فیصل کامران نے 14 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 8 بچوں کی عمر 5 سے سولہ برس کے درمیان تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والے متعدد بچوں کو فوری طور پر کاہنہ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پانچ بچوں کا علاج جاری تھا جبکہ دیگر زخمیوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔


صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ مجموعی طور پر 19 زخمی بچوں کو اسپتال پہنچایا گیا تھا، جن میں سے 14 دم توڑ گئے جبکہ باقی بچوں کو طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ واقعے کے بعد قریبی لاہور جنرل اسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی اور ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا تاکہ زخمی بچوں کا بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔

پولیس اور امدادی اداروں کے مطابق جس عمارت میں ٹیوشن سینٹر قائم تھا، اس کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا جبکہ نچلی منزل پر معمول کے مطابق کلاسیں ہو رہی تھیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اسی دوران اچانک چھت منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں کمسن بچے ملبے تلے دب گئے۔ امدادی اہلکاروں نے کئی گھنٹے مسلسل کام کرتے ہوئے شام تک ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا۔

پولیس نے واقعے کے بعد عمارت کے مالک اور حالیہ تعمیراتی کام کرنے والے ٹھیکیدار کو حراست میں لے لیا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کی تعمیر، مرمت اور حفاظتی انتظامات سے متعلق تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اگر غفلت یا لاپروائی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے وقت دو کمروں میں بچوں کو پڑھایا جا رہا تھا اور چھت گرنے سے دونوں کمرے شدید متاثر ہوئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق منہدم ہونے والی چھت میں تعمیر کے دوران ٹی آر گرڈر استعمال کیے گئے تھے، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے تکنیکی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔


وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ حادثے کے ذمہ دار افراد کا فوری تعین کیا جائے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ضلعی تعلیمی حکام کے مطابق متاثرہ عمارت میں ایک مقامی خاتون نجی ٹیوشن سینٹر چلا رہی تھیں، جبکہ واقعے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے مختلف سرکاری ادارے مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں۔