میانمار میں اب تک 138 مظاہرین کی موت: اقوام متحدہ

ڈُجارِک نے کہا، کہ ’اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے دفتر کے مطابق میانمار میں یکم فروری سے جاری تشدد میں کم از کم 138 مظاہرین مارے گئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں‘۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ کے مطابق میانمار میں یکم فروری کو ہوئے فوجی تختہ پلٹ کے بعد سے جاری تشدد میں اب تک کم از کم 138 مظاہرین کی موت ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈُجارِک نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دی۔

ڈُجارِک نے کہا، کہ ’اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے دفتر کے مطابق میانمار میں یکم فروری سے جاری تشدد میں کم از کم 138 مظاہرین مارے گئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں‘۔ ترجمان نے بتایا کہ اتوار کے روز ہوئے تشدد میں ہی 38 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ یہ تشدد ینگون کے ہلائنگ تھائر علاقے میں ہوا۔


اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے میانمار میں پر امن ڈھنگ سے مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ ہوئے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ گوٹریس نے میانمار کے ہمسایہ ممالک سمیت عالمی برادری سے میانمار کے عوام اور ان کے جمہوری حقوق کے تئیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ غور طلب ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تمام رکن ممالک نے بھی گزشتہ ہفتے ایک بیان جاری کرکے میانمار میں فوج کی کارروائی کی سخت مذمت کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔