کھیل رتن ایوارڈ کے لئے نامزد ہونا فخر کی بات: رانی

پدم شری ایوارڈ یافتہ رانی نے کہا کہ کھیل رتن ایوارڈ کے لئے نامزد ہونے پرمجھے فخر محسوس ہو رہا ہے، میں اس بات سے خوش ہوں کہ ہاکی انڈیا نے ملک کے سب سے اعلیٰ کھیل ایوارڈ کے لئے میرے نام کی سفارش کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بنگلورو: ہندوستانی خاتون ہاکی ٹیم کی کپتان رانی نے ملک کے سب سے اعلیٰ ترین کھیل اعزاز راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ کے لئے نامزد ہونے پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے لئے بڑے فخر کی بات ہے۔ ہاکی انڈیا نے گزشتہ روز کھیل رتن کے لئے رانی کو نامزد کیا تھا جبکہ وندنا کٹاریا اور مونیکا کو ارجن ایوارڈ کے لئے نامزد کیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈفینڈرہرمن پريت سنگھ کا نام ارجن ایوارڈ کے لئے وزارت کھیل کو بھیجا تھا۔

پدم شری ایوارڈ یافتہ رانی نے کہا کہ ’’کھیل رتن ایوارڈ کے لئے نامزد ہونے پرمجھے فخر محسوس ہو رہا ہے، میں اس بات سے خوش ہوں کہ ہاکی انڈیا نے ملک کے سب سے اعلیٰ کھیل ایوارڈ کے لئے میرے نام کی سفارش کی ہے۔ ان کا تعاون ہمیشہ ٹیم اور مجھے حوصلہ دیتا ہے‘‘۔

رانی نے ارجن ایوارڈ کے لئے نامزد وندنا اور مونیکا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بہت اچھا ہے کہ خاتون ٹیم سے دو کھلاڑیوں کے نام ارجن ایوارڈ کے لئے نامزد کیے گئے ہیں۔ میں وندنا اور مونیکا کو اس کے لئے مبارک باد دیتی ہوں۔ دونوں کھلاڑی اس کے حقدار ہیں۔ خاتون ٹیم سے دو کھلاڑیوں کے نام ارجن ایوارڈ کے لئے جانا، اشارہ ہے کہ ٹیم صحیح سمت میں ہے اور یہ ہمیں عالمی سطح پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے راغب کرے گا۔

کھیل رتن کے لئے یکم جنوری 2016 سے 31 دسمبر 2019 تک کی کارکردگی کو ذہن میں رکھا جائے گا۔ اس دوران رانی کی قیادت میں خواتین ہاکی ٹیم نے 2017 میں خواتین ایشیا کپ کا خطاب اور 2018 ایشیائی کھیلوں میں چاندی کا تمغہ جیتا جبکہ ایف آئی ایچ اولمپکس کوالیفائیر میں رانی کے فیصلہ کن گول سے ٹیم امریکہ کو شکست دے کر ٹوکیو اولمپکس کے لئے کوالیفائی کر سکی۔ رانی کی قیادت میں ہی ہندوستانی خاتون ہاکی ٹیم نے ایف آئی ایچ ورلڈ رینکنگ میں اب تک کی بہترین رینکنگ میں نواں مقام حاصل کیا۔

رانی کو سال 2019 کے لئے ورلڈ گیمزایتھلیٹ آف دی ایئر منتخب کیا گیا اور یہ کامیابی حاصل کرنے والی وہ پہلی ہندوستانی ہیں۔ رانی کو 2016 میں ارجن ایوارڈ اور 2020 میں پدم شری اعزازسے نوازا جا چکا ہے۔ رانی کے مطابق اولمپک کھیلوں میں پہلی بار کھیلنا ان کی زندگی کا اہم موڑ ہے۔ انہوں نے کہا’’مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ ریو اولمپکس میں کھیلنا ہمارے لئے اہم موڑ ثابت ہوا۔ ہماری کارکردگی مایوس کن تھی اور ہمیں پتہ تھا کہ اگر ٹیم کو عالمی سطح پر یا ایشیائی سطح پر بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہے تو ہمیں واقعی بہت محنت کرنی پڑے گی۔ ہم نے اسے ذہن میں رکھ کر پریکٹس شروع کی، جس سے ہمیں ایک مشکل ٹیم یا فاتح ٹیم کے نام سے شناخت ملے‘‘۔

انہوں نے کہا’’ ٹیم میں خود اعتماد نے اہم رول ادا کیا۔ چیف کوچ ایس میرینے کی قیادت میں مددگار عملہ نے ٹیم کا بہت ساتھ دیا۔ ٹیم کی کامیابی کا کریڈٹ مددگار عملہ کو بھی جاتا ہے جنہوں نے ہماری ہمیشہ حمایت کی‘‘۔ کپتان نے کہا’’ کورونا وائرس سے ہم سب کے لئے بہت مشکل وقت چل رہا ہے، لیکن ایک ٹیم کی حیثیت سے ہمیں اس وقت میں ایک دوسرے کو جاننے کا کافی موقع ملا۔ میرے خاندان نے کسی بھی صورتحال میں میرا ساتھ دیا اور میں اس کے لئے ہاکی کنبے کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے میری مدد کی۔ لاک ڈاؤن کے دوران مجھے کئی لوگوں نے پیغام بھیجے اور مبارک باد دی۔ اس حمایت سے ہمیں مضبوطی سے واپسی میں مدد ملے گی‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔