اے یم یو کی تاریخ میں پہلی بار ہاکی کھیلیں گی طالبات

13 سالہ نسیم زہرہ کافی پُر جوش نظر آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل ہاکی کی پریکٹس کر رہی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ گول کریں اور اپنی ٹیم کی جیت میں تعاون دیں۔

اے ایم یو کی طالبات میدان پر ہاکی کی پریکٹس کرتی ہوئیں
اے ایم یو کی طالبات میدان پر ہاکی کی پریکٹس کرتی ہوئیں
user

قومی آوازبیورو

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی لڑکیاں بھی اب کھیل کے میدان میں ہاکی سے اپنے جوہر دکھانے کو بے تاب ہیں۔ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے طور پر 1875 میں قائم اور 1920 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طور پر تعلیم کا اہم مرکز بنے اس تعلیمی ادارے میں یہ پہلا موقع ہے جب یہاں کی لڑکیاں ہاکی کھیلنے کے لئے میدان پر اتر رہی ہیں۔ فی الحال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسکول کی گرلز ٹیم بنائی جا رہی ہے لیکن امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی طالبات کی بھی ٹیم تیار کی جائے گی۔

اے  یم یو کی تاریخ میں پہلی بار ہاکی کھیلیں گی طالبات

میڈیا سے بات کرتے ہوئے 13 سالہ نسیم زہرہ کافی پُر جوش نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل ہاکی کی پریکٹس کر رہی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ گول کریں اور اپنی ٹیم کی جیت میں تعاون دیں۔ پریکٹس میں مصروف عالیہ بھی پُر جوش ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ان کی کئی ساتھی کھلاڑی ہاکی اسٹک کو ہر وقت ہاتھ میں رکھتی ہیں۔ کئی مرتبہ تو کلاس میں بھی ہاکی لے کر پہنچ جاتی ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر ہاکی کھیل چکے انیس الرحمن طالبات ہاکی ٹیم کے کوچ ہیں۔ اسّی کی دہائی میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ رہے انیس اے ایم یو اسپورٹس کمیٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’یہ شروعات ہے، ہاکی کھیل میں بھی ہم لڑکیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور امید ہے کہ ہم کامباب بھی ہوں گے۔ ‘‘ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت یونیورسٹی کے اسکول کی لڑکیاں ہی کھیل رہی ہیں، یہ سبھی 8ویں، 9ویں اور 10ویں کلاس کی طالبات ہیں۔

یونیورسٹی کی گریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کورسز کی طالبات کی ٹیم ابھی کیوں نہیں بن رہی ہے، اس سوال کے جواب میں انیس کہتے ہیں کہ ’’ایک یا دو لڑکیوں سے ٹیم نہیں بنتی، کم عمر لڑکیاں جن میں صلاحیت ہے انہیں ہم سکھا سکتے ہیں لیکن بڑی لڑکیوں کو اچانک ہاکی اسٹک ہاتھ میں تھما کر میدان میں اتارنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔ابھی اسکول سطح سے ہم شروعات کر چکے ہیں، آگے یونیورسٹی میں بھی ہاکی ٹیم کی توسیع کریں گے۔‘‘

انیس بتاتے ہیں کہ ابھی 20 سےزاید لڑکیاں ہاکی کھیل رہی ہیں ، کچھ بہتر کھیلنے والی طالبات کو شارٹ لسٹ بھی کیا گیا ہے۔ فروری 2019 میں انٹر اسکول مقابلہ کرانے کا منصوبہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ لڑکیاں یونیورسٹی کی طرف سے اپنا پہلا میچ کھیلیں، انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت پہل ہے۔

اے  یم یو کی تاریخ میں پہلی بار ہاکی کھیلیں گی طالبات

واضح رہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام سن 1875 میں ہوا تھا۔ بانی یونیورسٹی سر سید احمد خاں تب اس کا نام محمڈن اینگلو اورینٹل کالج رکھا تھا۔ سن 1920 میں اس کا نام تبدیل کرکے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی رکھ دیا گیا ۔ اس یونیورسٹی کے طلبا و طالبات ملک و بیرون میں اہم مقام حاصل کر چکے ہیں۔

خواہ اے ایم یو کی لڑکیاں پہلی مرتبہ ہاکی اسٹک تھام رہی ہیں لیکن یہاں کے کئی طلبا کھیلوں میں اپنا نام روشن کر چکے ہیں۔ سن 1980 میں ہندوستانی ہاکی ٹیم کے کپتان رہے ظفر اقبال اے ایم یو کے ہی طالب علم تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 Dec 2018, 6:09 PM