عالمی آٹزم بیداری کا دن 2026: سمجھ، قبولیت اور احترام کی طرف ایک قدم
’آٹزم‘ کوئی بیماری نہیں جسے ٹھیک کیا جائے۔ یہ دماغ کے کام کرنے کا ایک الگ طریقہ ہے۔ آٹزم سے متاثرہ افراد دنیا کو، لوگوں کو اور چیزوں کو ایک الگ نظریے سے محسوس کرتے ہیں۔

ہر سال 2 اپریل کو ’عالمی آٹزم بیداری کا دن‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک رسم نہیں ہے، بلکہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارے آس پاس ایسے کئی لوگ ہیں جو دنیا کو تھوڑا الگ طریقے سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ انہیں ہماری ہمدردی کی نہیں، بلکہ سمجھ، قبولیت اور احترام کی ضرورت ہے۔ آٹزم جسے ’آٹزم اسپیکٹرم ڈِس آرڈر‘ (اے ایس ڈی) بھی کہا جاتا ہے، کوئی بیماری نہیں جسے ٹھیک کیا جائے۔ یہ دماغ کے کام کرنے کا ایک الگ طریقہ ہے۔ آٹزم سے متاثرہ لوگ دنیا کو، لوگوں کو اور چیزوں کو ایک الگ نظریے سے محسوس کرتے ہیں۔
اکثر دیکھا جاتا ہے کہ معاشرہ میں آٹزم کو لے کر کئی غلط فہمیاں ہیں۔ لوگ اسے کمزوری یا کمی سمجھ لیتے ہیں، جبکہ سچ یہ ہے کہ یہ ایک طرح کی ’نیورو ڈائیورسٹی‘ ہے۔ جیسے ہر انسان کا مزاج مختلف ہوتا ہے، ویسے ہی آٹزم کے شکار لوگوں کے سوچنے اور سمجھنے کا طریقہ بھی الگ ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ آٹزم کی کچھ عام علامات بچپن میں ہی نظر آنے لگتی ہیں۔ جیسے بچے کا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کم دیکھنا، بولنے میں تاخیر ہونا، بار بار ایک ہی حرکت کرنا یا روزمرہ کے معمولات میں تھوڑی سی تبدیلی ہونے پر پریشان ہو جانا۔ کچھ بچوں کو تیز آواز، روشنی یا کچھ خاص چیزوں سے زیادہ پریشانی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ہر آٹزم سے متاثرہ فرد مختلف ہوتا ہے۔ کسی میں علامات زیادہ ہوتی ہیں، تو کسی میں کم۔
واضح رہے کہ سماج میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے سب سے ضروری ہے بیداری۔ جب تک ہمیں درست معلومات نہیں ہوں گی، ہم صحیح رویہ بھی اختیار نہیں کر پائیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آٹزم کوئی غلط چیز نہیں ہے، بلکہ ایک مختلف قسم کی صلاحیت ہے۔ دوسری چیز ہے قبولیت۔ ہمیں آٹزم کے شکار لوگوں کو بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے، انہیں ویسے ہی قبول کرنا چاہیے جیسے وہ ہیں۔ اگر کوئی بچہ تھوڑا الگ رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے پرکھنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تیسری اور سب سے اہم چیز ہے احترام۔ ہر انسان کی طرح آٹزم سے متاثرہ افراد کو بھی برابری کا حق ہے، خواہ وہ اسکول ہو، نوکری ہو یا معاشرہ۔ انہیں بھی اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا مکمل حق ہے۔ آج کے وقت میں کئی تنظیم اور اسکول اس سمت میں کام کر رہے ہیں۔ اب پہلے کے مقابلے میں لوگ زیادہ بیدار ہو رہے ہیں۔ آٹزم کے شکار بچوں کے لیے خصوصی تعلیم اور تھراپی جیسی سہولیات بھی بڑھ رہی ہیں۔ اگر آٹزم کی علامات کی جلد تشخیص کر لی جائے تو صحیح تھراپی اور مدد سے بچوں کی زندگی میں بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اسپیچ تھراپی، آکیوپیشنل تھراپی، اور بیہیویئرل تھراپی جیسے طریقے کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔