میٹھے مشروبات کی لذّت کے پیچھے صحت سے متعلق سنگین خطرات!

شکر سے تیار کیے گئے میٹھے مشروبات اگرچہ ذائقے میں اچھے ہوتے ہیں تاہم صحت پر ان کے اثرات اپنے ذائقے جیسے میٹھے نہیں ہوتے

تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

شکر سے تیار کیے گئے میٹھے مشروبات اگرچہ ذائقے میں اچھے ہوتے ہیں تاہم صحت پر ان کے اثرات اپنے ذائقے جیسے میٹھے نہیں ہوتے۔

انگریزی ویب سائٹ "سائنس ڈیلی" نے ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے ہیں۔ یہ تحقیق امریکا میں دو جامعات "جورجیا" اور "ساؤتھ کیلی فورنیا" یونیورسٹیوں کے سائنس دانوں نے انجام دی۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق میٹھے مشروبات بچوں کے حافظے اور ان کے سیکھنے کی صلاحیتوں کو کمزور کرتے ہیں۔

محققین نے اس حوالے سے چُوہوں پر بھی تجربات کیے۔ اس دوران میں یہ بات سامنے آئی کہ جن چوہوں نے بچپن میں روزانہ شکر سے میٹھا بنایا گیا پانی پیا تھا انہیں حافظے کی مسائل کا زیادہ سامنا کرنا پڑا۔

اس سلسلے میں محققین مستقبل میں اس بات کے تعین کی امید رکھتے ہیں کہ آیا ایک صحت مند طرز حیات ،،، بچپن میں کثرت سے پیے گئے میٹھے مشروبات کے نقصانات کو زائل کر دیتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ڈنمارک کی آرہوس یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے سُوروں پر تجربات کیے تھے۔ ان تجربات کے دوران میں یہ بات واضح ہوئی کہ شکر دماغ کے عمل کے نظام پر منشیات کی مانند اثر انداز ہوتی ہے۔

شکر سے میٹھے بنائے گئے مشروبات سے ملنے والے حراروں میں بہت کم غذائیت ہوتی ہے۔ یہ سیر ہونے کا ویسا احساس بھی نہیں دیتے جو ٹھوس غذا سے ملتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کے اندر داخل ہونے والی مجموعی توانائی بڑھ جاتی ہے اور اس سے غیر صحت مند طور پر وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔