نادر امراض میں مبتلا بچوں کے والدین نے وزیر صحت مانسکھ منڈاویہ کو لکھا خط

لواحقین کا کہنا تھا کہ قومی پالیسی کے تحت دی جانے والی امداد کا فائدہ کسی کو نہیں ملا، متوفی مریض کے لواحقین نے کئی بار ایمس سے رابطہ کیا اور اسپتال بھی آئے، لیکن ہر بار انہیں مایوس لوٹنا پڑا۔

<div class="paragraphs"><p>مانسکھ منڈاویہ، تصویر ٹوئٹر&nbsp;@mansukhmandviya</p></div>

مانسکھ منڈاویہ، تصویر ٹوئٹر@mansukhmandviya

user

یو این آئی

نئی دہلی: آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) دہلی اور مولانا آزاد میڈیکل کالج دہلی میں علاج شروع ہونے کا انتظار کر نے والے نایاب بیماریوں میں مبتلا بچوں کے والدین نے وزیر صحت منسکھ منڈاویہ کو خط لکھ کر ان سے علاج شروع کرنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ ان تمام والدین نے منگل کے روز مرکزی صحت وخاندانی بہبود کے وزیر منڈاویہ کو خط لکھ کر اپنے درد وغم کا اظہار کیا۔ 70 سے زیادہ رجسٹرڈ نادر مریض ایمس دہلی اور مولانا آزاد میڈیکل کالج دہلی میں علاج شروع ہونے کے منتظر ہیں۔

 وزارت کی طرف سے دی گئی رقم کے بعد بھی والدین اپنے بچوں کے علاج کے لیے در در بھٹک رہے ہیں۔ دہلی کے سینٹر آف ایکسیلنس (CoE)، ایمس دہلی اور مولانا آزاد میڈیکل کالج، دہلی میں رجسٹرڈ یہ تمام مریض لائسوسومل ڈس اسٹوریج ڈس آرڈر جیسے MPS-1،MPS-2  پومپ اور Fabry کے امراض میں مبتلا ہیں۔ ان بیماریوں کو نادر امراض کی قومی پالیسی 2021 میں درج کیا گیا ہے جس کے لیے وزارت نے نایاب بیماری کے ہر مریض کے علاج کے لیے 50 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا تھا۔


اس نایاب بیماری میں مبتلا ایک چار سالہ بچہ دہلی ایمس میں رجسٹرڈ تھا لیکن دسمبر 2022 میں علاج کے لیے مدد کے انتظار میں اس کی موت ہوگئی اور 12 دیگر مریض دوا ساز کمپنیوں کی مدد سے تھراپی لے رہے ہیں۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ قومی پالیسی کے تحت دی جانے والی امداد کا فائدہ کسی مریض کو نہیں مل سکا ہے۔ متوفی مریض کے لواحقین نے کئی بار ایمس دہلی سے رابطہ کیا تھا اور اسپتال بھی آئے تھے، لیکن ہر بار انہیں مایوس لوٹنا پڑا۔ جبکہ چار سالہ بچہ جس مرض کا شکار ہوا اس کا علاج 50 لاکھ میں آسانی سے ہو سکتا تھا، لیکن یہ افسوسناک ہے کہ ایمس دہلی کے افسوسناک رویے کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی۔

وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے مئی 2022 میں نادر مریضوں کے تمام زمروں کے لیے 50 لاکھ روپے کی نظرثانی شدہ امداد کا اعلان کیا تھا۔ تقریباً 14 ماہ گزر چکے ہیں۔ اگر ان مریضوں کا فوری علاج نہ کیا جائے تو ان کے پاس بھی زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ طبی امداد کے منتظر مریضوں کے والدین کو دور دراز ریاستوں سے سفر کرنا پڑتا ہے۔ ان کی ریاستوں میں اس نایاب بیماری کے علاج کا کوئی مرکز نہیں ہے۔ ایمس اور مولانا آزاد میڈیکل کالج کی انتظامیہ کی لاپرواہی اور غیر انسانی رویے کی وجہ سے متعدد والدین نے اپنے بچوں کے علاج کی امید چھوڑ دی ہے۔ بہت سے ایسے مریض ہیں جو ابھی تک حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد سے لاعلم ہیں، کیونکہ ایمس اور مولانا آزاد میڈیکل کالج نے انہیں مطلع کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔