صحت

والدین اپنی صحت پرتوجہ نہیں دیتے، بچوں کو کیسے سمجھائیں… سنیتا پانڈے

بچوں کی کبھی صحیح معمول پر ستائش نہیں کی جاتی اور صحت کے تعلق سے والدین اور اساتذہ بچے سے اُتنی ہی بات کرتے ہیں جتنی اس موضوع کو چھونے کے لئے ضروری بھر ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سنیتا پانڈے

بڑے ہونے پر تمہیں بہت اچھا کیرئر بنانا ہے اور بہت سا پیسہ کمانا ہے۔ بل گیٹس کو دیکھو، امبانی کو دیکھو، مارک زکربرگ کو دیکھو، وہ بھی تو انسان ہی ہیں لیکن انہوں نے کیا نہ کیا؟

بچپن سے ہی والدین بچوں کو کیرئر کے حوالہ سے فکر مند بنا دیتے ہیں۔ بچے کو شاباشی بھی پڑھائی میں آئے نمبرات کی بنیاد پر ملتی ہے۔ بچوں کا ہمیشہ دوسروں سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ اسکول میں بھی اور گھر میں بھی۔ بچوں کی کبھی اس کے صحیح معمول پر ستائش نہیں کی جاتی اور صحت کے تعلق سے والدین اور اساتذہ بچے سی اُتنی ہی بات کرتے ہیں جتنی اس موضوع کو چھونے کے لئے ضروری ہے۔

ہندوستانی روایات کی قدیمی کتابوں میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ ’پہلا سکھ نروگی کایا‘ (پہلا سُکھ بیماریوں سے پاک جسم) ہے لیکن والدین اور اساتذہ اس اہم قول کو کبھی زور دیکر بچوں کو سمجھاتے ہی نہیں کیوںکہ ہم خود ہی اس پر عمل نہیں کرتے۔ جب والدین اور اساتذہ نے خود کے لئے ہی صحت کو ترجیحات میں شامل نہیں رکھا تو کس منہ سے بچوں کو صحت کی اہمیت کے بارے میں بیان کریں؟۔

بچہ سب سے زیادہ دیکھ کر ہی سیکھتا ہے اور وہ دیکھ دیکھ کر ہی بڑا ہو رہا ہے کہ اس کے والدین دیر سے سوکر اٹھ رہے ہیں، آفس جانے کی جلدی میں ٹھیک سے ناشتہ نہیں کر رہے ہیں، ورزش ان کی زندگی سے غائب ہے، رات کو دیر سے سو رہے ہیں، گھر پر بھی آفس کا کام کر رہے ہیں یا ہر وقت کیرئر کی بھاگم بھاگ میں ہی لگے ہیں۔ تو بچہ اسی معمول کو سمجھنے لگتا ہے۔ پھر جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے اس پر پڑھائی کا بوجھ پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس نے ٹھیک سے کھایا یا نہیں، وہ ٹھیک سے کھیلا یا نہیں، وہ ٹھیک سے سویا یا نہیں، ان سب ضروری باتوں پر اس کے والدین کا دھیان جانا بند ہو جاتا ہے اور بچہ خود بھی ان باتوں پر توجہ نہیں دیتا۔ زیادہ تر اساتذہ کو تو خیر اپنا سبجیکٹ پڑھانے کے علاوہ بچے کی کسی اور بات سے لینا دینا ہی نہیں ہوتا۔

پھر اسکولوں کے نظام کے مطابق زیادہ نمبرات لانے والے بچوں کو پورے اسکول کے سامنے اعزاز سے نوازا جاتا ہے، حالانکہ یہ اچھی بات ہے لیکن اوسط بچوں کے دل و دماغ پر اس کا کیا اثر پڑ رہا ہے اس کی اسکول والوں کو فکر نہیں ہوتی۔ زیادہ تر اسکول اور والدین بچوں کو انسانی روبوٹ بنانے میں لگے ہیں۔

کیا کبھی کسی بچے کو اس بات کے لئے بھی انعام سے نوازا جائے گا کہ اس بچے کا معمول بہتر ہے یا بچہ اپنا کھانا پینا، ورزش اور سونا سب کچھ صحیح مقدار اور صحیح کوالٹی میں پورا کرتا ہے۔

چونکہ بچپن سے صحت صحیح رکھنے پر زور نہیں دیا جاتا اور اس کے لئے ضروری کام نہیں کیے جاتے اس لئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت اچھا کیرئر بنا لینے کے بعد وہ بچہ جلد ہی یا تو جسمانی یا پھر نفسیاتی پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے، اور ایسا بچہ ہی ماں یا باپ بننے پر اپنی آنے والی نسل کو پریشانیوں پر تحفہ دے دیتا ہے۔

بہت ضروری ہے کہ ہم سب وقت رہتے ہی اپنے اور اپنے بچوں کی نفسیات اور جسمانی صحت پر کام کرنا شروع کر دیں، ورنہ بعد میں جو دولت کمانے کے لئے آج محنت کر رہے ہیں اسے ہی ڈاکٹروں اور اسپتالوں کو دینا ہوگا۔

جسمانی اور نفسیاتی صحت ایک دوسرے سے منسلک ہے، اگر ایک بھی خراب ہوتی ہے تو یہ طے ہے کہ دوسرے پر بھی اثر ہوگا۔ ان دونوں کو کس طرح درست رکھنا ہے اس کے لئے تین باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے:

  • صحیح کوالٹی اور کوانٹٹی (مقدار) میں کھانا
  • صحیح کوالٹی اور کوانٹٹی میں ایکسرسائز
  • صحیح کوالٹی اور کوانٹٹی میں آرام یعنی نیند

والدین اور اساتذہ سے گزارش ہے کہ ان تین باتوں کو وہ خود بھی اپنی زندگی میں اتاریں اور بچپن سے ہی بچوں سے بھی ان تین باتوں پر بات چیت کرتے ہوئے انہیں صحیح معمول اختیار کرنے کی صلاح دیتے رہیں۔

(مضمون نگار سنیتا پانڈے کاؤنسلر اور سائیکو تھیرپسٹ ہیں اور جے پور سے وابستہ ہیں)

Published: 6 Jan 2019, 10:09 PM