بہار: ’چمکی بخار‘ کا قہر، پچاس سے زیادہ اموات، معصوموں کے اہل خانہ کسی ’مسیحا‘ کے منتظر

مظفرپور کے ایس کے ایم سی ایچ میں اپنے بچوں کو کھو چکیں ماؤں کی آہ و فغاں سننے والوں کا کلیجہ پھٹا جارہا ہے۔ ہلاک شددہ بچوں کی مائیں زار و قطار رو رہی ہیں اور بچوں کے لاچار والد انہیں تسلی دے رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مظفرپور: بہار میں مظفرپور کے سری کرشن میموریل کالج اسپتال (ایس کے ایم سی ایچ) میں بروراج کے پگٹھیا کی رہنے والی 8 سالہ فریدہ کی امی شاہ بانو کی آنکھوں کے آنسو تھم نہیں پا رہے ہیں۔ وہ خالی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھتی رہتی ہیں اور رہ رہ کر ان کے سامنے اپنی بچی فریدہ کی تصویر نمایاں ہو جاتی ہے۔ تین روز قبل شاہ بانو نے اپنی پھول سی پیاری بچی کو شدید طبیعت خراب ہونے کے باعث اسپتال میں داخل کرایا تھا لیکن ڈاکٹر اسے بچا نہیں سکے۔ شاہ بانو کی تو گویا دنیا ہی اجڑ چکی ہے۔

ادھر مشرقی چمپارن کے پکڑی دیال کے 5 سالہ سونو کمار کے والد سری نواس رائے بھی سونو کے لگاتار چونکنے سے پریشان ہیں۔ حالانکہ لوگ انہیں دلاسہ دے رہے ہیں کہ اس کی حالت ابھی زیادہ خراب نہیں ہے۔ بچے کے پیٹ اور سینے پر بار بار ٹھنڈے پانی کا کپڑا بھگو کر رکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر لگاتار گلوکوز چڑھا رہے ہیں لیکن ان کے بغل کے بیڈ پر داخل بچے کی موت سے وہ بھی اپنے بچے کے لئے خوف زدہ ہیں۔ انہیں اب کسی ایسے مسیحا کا انتظار ہے جو ان کے بچے کو صحت یاب کر دے۔

یہی نظارہ تقریباً پورے ایس کے ایم سی ایچ میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہر کوئی اپنے لخت جگر کو بچانے کے لئے اسپتال کے ٹرالی مین تک کے پیر پکڑ کر بچے کو ٹھیک کرنے کی التجا کر رہے ہیں۔ اچانک علاقہ میں ’چمکی‘ بخار کے مریضوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے۔

مظفرپور کے ایس کے ایم سی ایچ میں اپنے بچوں کو کھو چکیں ماؤں کی آہ و فغاں سننے والوں کا کلیجہ پھٹا جا رہا ہے۔ ہلاک شددہ بچوں کی مائیں زار و قطار رو رہی ہیں اور بچوں کے لاچار والد انہیں تسلی دے رہے ہیں۔ بہار میں ہر سال کی طرح اس سال بھی نامعلوم بیماری سے مرنے والوں کی تعداد 50 سے زیادہ ہو چکی ہے۔ حالانکہ حکومت ابھی 10-12 اموات کی ہی بات کر رہی ہے۔

ریاست کے وزیر صحت منگل پانڈے نے کہا کہ مظفرپور میں 11 بچوں کی موت ہوئی ہے، جس میں ایک بچے کی موت اے ای ایس ( ایکیوٹ انسیفیلائٹس سنڈروم) سے ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر بچوں کی موت ’ہائیپوگلائی سیمیا‘ یعنی خون میں شکر کی مقدار گر جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ادھر مظفرپور کے ایس کے ایم سی ایچ اور کیجریوال اسپتال میں مشتبہ اے ای ایس یا چمکی بخار سے مرنے والوں کی تعداد 36 تک پہنچ گئی ہے، کچھ میڈیا رپورٹوں کے مطابق تعداد 50 سے تجاوز کر چکی ہے۔

ایس کے ایم سی ایچ کے سی ایم او ڈاکٹر سنیل شاہی نے منگل کے روز آئی اے این ایس کو بتایا کہ ایس کے ایم سی ایچ میں منگل کو بھی بخار سے متاثر بچے پہنچے ہیں، جنہیں پی سی آئی یو میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس اسپتال میں اب تک 90 متاثرہ بچوں کو داخل کرایا گیا ہے، جس میں سے علاج کے دوران 32 بچوں کی موت ہو چکی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’ان میں سے زیادہ تر بچون میں ہائی پوگلائی سیمیا یعنی اچانک خون میں شکر کی مقدار میں کمی اور کچھ بچوں کے بدن میں سوڈیم (نمک) کی مقدار میں بھی کمی پائی گئی ہے۔ اے ای ایس کے مشتبہ مریضوں کا علاج شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر اس کی جانچ کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اے ایس ایس کوئی بیماری نہیں ہے۔ اس میں کئی ’ڈیزیز‘ پائی جاتی ہیں اور ’چمکی بخار‘ بھی ان میں سے ایک ہے۔‘‘

ادھر کیجریوال اسپتال کے منیجر نے کہا، ’’ایک ہفتہ کے اندر یہاں چمکی بخار سے متاثرہ 42 بچوں کو داخل کرایا گیا، جن میں سے چار بچوں کی موت ہو گئی۔ سات بچوں کا ابھی علاج چل رہا ہے۔‘‘ غور طلب ہے کہ 15 سال تک کی عمر کے بچے اس بیماری کی زد میں آ رہے ہیں۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر کی عمر ایک سے سات سال کے درمیان ہے۔ اس بیماری کا شکار عام طور پر غریب خاندان کے بچے ہوتے ہیں۔

بیماری کی علامت

ڈاکٹروں کے مطابق اس بیماری کی اہم علامت تیز بخار، الٹی، دست، بے ہوشی اور بدن میں رہ رہ کر لرزن (چمکی) ہونا ہے۔

واضح رہے کہ ہر سال اس موسم میں مظفرپور علاقہ میں اس بیماری کا قہر نظر آتا ہے۔ گزشتہ سال گرمی کم ہونے کی وجہ سے اس بیماری کا اثر بھی کم نظر آیا تھا۔ اس بیماری کی جانچ کے لئے دہلی سے آئی نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کی ٹیم اور پونے کے انشنل اسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (این آئی وی) کی ٹیم بھی مظفر پور کا دورہ کر چکی ہے۔

(اے آئی این ایس کے لئے منوج پاٹھک کی رپورٹ)

Published: 11 Jun 2019, 7:10 PM