مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کا قہر: زیرِ علاج نرس دم توڑ گئی، دوسری کی حالت تشویشناک

بیماری کی شروعات تیز بخار، سر درد اور الٹی سے ہوتی ہے، جو شدت اختیار کرنے پر دماغی ورم، دورے پڑنے اور سانس لینے میں شدید دشواری کا باعث بنتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

یو این آئی

مغربی بنگال کے ضلع شمالی 24 پرگنہ کے باراسات میں واقع ایک اسپتال میں زیرِ علاج نیپاہ وائرس سے متاثرہ نرس جمعرات کے روز دم توڑ گئی۔ ریاست میں اس مہلک وائرس سے ہلاکت کا یہ پہلا معاملہ ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق، متاثرہ نرس طویل عرصے سے کریٹیکل کیئر یونٹ میں داخل تھی، تاہم پھیپھڑوں میں دوبارہ انفیکشن ہونے کی وجہ سے اس کی حالت بگڑ گئی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔

اسی اسپتال میں نیپاہ سے متاثرہ ایک اور نرس بھی زیرِ علاج ہے جسے ماہر ڈاکٹروں کی سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ریاستی محکمہ صحت نے اس سے قبل نیا کیس سامنے نہ آنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ان دو کیسز کی تصدیق کے بعد حکام نے متاثرہ نرسوں کے رابطے میں آنے والے افراد کی بڑے پیمانے پر 'کانٹیکٹ ٹریسنگ' شروع کر دی ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک جن افراد کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے تھے، ان کی رپورٹس منفی آئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس مزید نہیں پھیلا ہے۔


طبی ماہرین کے مطابق نیپاہ ایک 'زونوٹک' بیماری ہے جس کا بنیادی ذریعہ 'فروٹ بیٹ' (پھل کھانے والے چمگادڑ) ہیں۔ یہ وائرس چمگادڑوں کے جھوٹے پھلوں یا ان کے فضلے سے آلودہ اشیاء کے استعمال سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق خنزیر بھی اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ انسانی سطح پر یہ وائرس متاثرہ شخص کے زیرِ استعمال بستر، کپڑوں یا دیگر اشیاء کے ذریعے دوسرے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔

اگرچہ اس کے ابتدائی علامات عام وائرل بخار جیسی ہوتی ہیں، لیکن اس کی شرحِ اموات 50 سے 60 فیصد تک ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ بیماری کی شروعات تیز بخار، سر درد اور الٹی سے ہوتی ہے، جو شدت اختیار کرنے پر دماغی ورم، دورے پڑنے اور سانس لینے میں شدید دشواری کا باعث بنتی ہے۔ سنگین صورتحال میں مریض 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر کومہ میں جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ نیپاہ وائرس کا تاحال کوئی مخصوص علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے اور مریضوں کا علاج صرف علامات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔