بہار: سیلاب کے بعد اب بیماریاں پھیلنے کا خطرہ

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں اکثر بیمایروں کے پھیلنے کا خدشہ بنا رہتا ہے۔ محکمہ صحت اور آفت انتظامی محکمہ بیماریوں سے نمٹنے کی تیاری میں مصروف ہے۔

تصویر اے آئی این ایس
تصویر اے آئی این ایس

قومی آوازبیورو

بہار کے 13 اضلاع میں پانی کی تباہی برپا ہونے کے بعد ریاست کی اہم ندیوں کی آبی سطح کم ہونے لگی ہے۔ لوگ اپنے اجڑے گاؤں اور گھروں کی طرف لوٹنے لگے ہیں۔ کئی گاؤں کے سیلاب متاثرین حالانکہ تاحال راحت کیموں میں کمیونٹی کچن کے سہارے وقت گزارنے پر مجبور ہیں۔

سیلاب متاثرہ علاقوں سے پانی نکل جانے کے بعد اب لوگوں کو بیماریوں کا خوف ستا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں اکثر بیمایروں کے پھیلنے کا خدشہ بنا رہتا ہے۔ محکمہ صحت اور آفت انتظامی محکمہ بیماریوں سے نمٹنے کی تیاری میں مصروف ہے۔

پٹنہ کے نالندہ میڈیکل کالج اسپتال (این ایم سی ایچ) کے ڈاکٹر سدھیر کمار نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں صاف صفائی کی کمی کی وجہ سے حیضہ اور دست جیسی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ایسے علاقوں میں صاف اور اُبلا ہوا پانی پی کر بیماریوں سے کچھ حد تک بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سیلاب متاثر علاقوں میں گیسٹرو انسٹرو ٹائیٹس، ملیریا، ٹائیفائیڈ، ڈائرییا، آنکھوں اور جلد کی پریشانی نظر آ سکتی ہیں۔‘‘

پٹنہ کے معروف جلد کی بیماریوں (اسکن ڈیزیز) کے ڈاکٹر وکرم سنگھ نے اے آئی این ایس سے کہا کہ سیلاب کے دوران گندے پانی میں جراثیم پیدا ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو کئی طرح کی جلد کی بیماریاں ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے پانی کو ابال کر پینے کی مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ لوگ جس میں ضروری منرل کی ترسیل کے لئے ناریل پانی یا صاف پانی کا استعمال کر سکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’کئی مقامات پر لوگ زیر زمین پانی پر منحصر ہوتے ہیں وہ وائرل انفیکشن کے بچنے کے لئے پانی میں کلورین ملا سکتے ہیں۔

ریاست کے کئی علاقوں میں سیلاب کا پانی اتر چکا ہے جبکہ کئی علاقوں میں پانی رفتہ رفتہ اتر رہا ہے۔ کئی علاقوں میں سڑکیں بیت الخلاء میں تبدیل ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے بیماروں کے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ کئی متاثرہ گاؤں ایسے ہیں جہاں لوگوں کو گندے پانی اور کیچڑ سے گزر کر گھر تک جانا پڑتا ہے۔ ریاستی محکمہ صحت کے ایک افسر کا دعوی ہے کہ ریاست کے سیلاب زدہ علاقوں کے تمام ابتدائی صحت مراکز میں بلیچنگ پاؤڈر، بیمیکسن، چونا اور ضروری ادویات اسٹاک کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ریاست کے 13 اضلاع ، شیو ہر، سیتا مڑھی، مظرپور، ایسٹ چمپارن، مدھوبنی، دربھنگہ، سہرسہ، سپورل، کشن گنج، ارریہ، پورنیہ، کٹیہار اور ویسٹ چمپارن ضلع متاثر ہے۔ سیلاب سے اب تک 130 افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں اور 88 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔