خون کے ٹیسٹ سے چھاتی کے سرطان کی تشخیص کا طریقہ

طب پر تحقیق کرنے والے جرمن ڈاکٹروں نے خون کے ٹیسٹ سے چھاتی کے سرطان کی درست تشخیص کا طریقہ معلوم کر لیا ہے۔ اس طریقے سے چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص ممکن ہو جائے گی۔

خون کے ٹیسٹ سے چھاتی کے سرطان کی تشخیص کا طریقہ
خون کے ٹیسٹ سے چھاتی کے سرطان کی تشخیص کا طریقہ

ڈی. ڈبلیو

کثیر الاشاعتی جرمن اخبار ’بلڈ‘ کے مطابق جرمن شہر ہائیڈلبرگ کے یونیورسٹی ہسپتال سے وابستہ محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے خون کے نمونوں کی جانچ (بلڈ ٹیسٹ) کے ذریعے چھاتی کے کینسر کی درست اور قابل اعتماد تشخیص کرنے کا طریقہ معلوم کر لیا ہے۔

خون کے اس ٹیسٹ کو ’ہائی سکرین‘ کا نام دیا گیا ہے۔ طبی محققین کی ٹیم کے سربراہ پروفیسر کرسٹوف سون کے مطابق خون کے نمونوں کی جانچ کر کے چھاتی کے سرطان کی تشخیص اسکیننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے کینسر کی تشخیص سے بھی پہلے کی جا سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سرطان کی کسی بھی دیگر قسم کی نسبت ’بریسٹ کینسر‘ خواتین کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ ہر سال چھ لاکھ سے زائد خواتین چھاتی کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص نہ ہونے کے باعث ہوتی ہیں۔ اب تک اس مرض کی تشخیص کے لیے میموگرامز اور چھاتی کا جائزہ لیے جانے کا طریقہ اپنایا جاتا رہا ہے۔

پروفیسر کرسٹوف سون نے نئے تشخیصی طریقہ کار کے حوالے سے بتایا، ’’خون کے ٹیسٹ کا سب سے بڑا فائدہ اس کا حساس ہونا ہے، پچاس برس سے کم عمر خواتین میں چھاتی کے سرطان کی درست تشخیص کی شرح چھیاسی فیصد تک ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خون کے ٹیسٹ کا طریقہ دیگر رائج طریقوں سے زیادہ قابل بھروسہ اور کم ضرر رساں ہونے کے ساتھ ساتھ کم قیمت بھی ہے۔

’بلڈ‘ اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ طریقہ تشخیص رواں برس کے آخر تک مارکیٹ میں جاری کر دیا جائے گا۔