لکھنؤ: 4 دن میں ڈینگو بخار کے 61 معاملات

لکھنؤ شہر میں جنوری سے لے کر اب تک ڈینگو کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 811 ہو گئی ہے، یہ تعداد اتر پردیش کے تمام شہروں میں سب سے زیادہ ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں گذشتہ چار دنوں میں ڈینگو بخار کے 61 واقعات رونما ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ معاملات ہفتہ سے بدھ تک منظر عام پر آئے ہیں اور شہر میں جنوری سے لے کر اب تک اس بیماری کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 811 ہو گئی ہے۔ اتر پردیش کے کسی بھی شہر کے لئے یہ اعداد و شمار سب سے زیادہ ہیں۔

لکھنؤ میں اندرا نگر علاقے میں ڈینگو کے زیادہ سے زیادہ مریض پائے گئے ہیں۔ ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے جوائنٹ ڈائریکٹر، وکاس سنگھل نے کہا ہے کہ جنوری سے ریاست میں 4،000 ڈینگو کے معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر لکھنؤ سے ہیں، اس کے بعد کانپور (700) اور الہ آباد (325) کا نمبر آتا ہے۔

جولائی کے بعد سے مون سون کے سیزن میں 90 فیصد سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ سنگھل نے کہا کہ توقع ہے کہ ڈینگو کے معاملات نومبر کے تیسرے ہفتے سے کم ہو جائیں گے، کیوں کہ جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہوجائے گا، اس وقت تک لوگوں کو احتیاط برتنی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ محکمہ صحت پہلے ہی بڑے پیمانے پر مچھروں کی پیداوار کی روک تھام کے لئے کوششیں کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ ڈینگو بخار سے سے اب تک مجموعی طور پر 6 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں لکھنؤ کے چار اور انناؤ اور بارابنکی کا ایک ایک شخص شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق بالخصوص لکھنؤ اور کانپور میں سب سے زیادہ معاملات سامنے آئے ہیں کیونکہ آس پاس کے اضلاع کے مریض بھی علاج معالجے کے لئے یہاں منتقل کیے جاتے ہیں۔