نوعمروں کی ذہنی صحت پر حکومتِ ہند اور یونیسف متحرک، نوجوانوں کی آواز کو پالیسی کے مرکز میں رکھنے پر زور

گجرات میں منعقدہ قومی مشاورتی اجلاس میں نوعمروں کی ذہنی صحت، بدنامی کے خاتمے اور نوجوانوں کی شمولیت پر زور دیا گیا۔ یونیسف اور حکومتِ ہند نے خدمات کی رسائی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر پریس ریلیز</p></div>
i
user

پریس ریلیز

google_preferred_badge

گاندھی نگر میں حکومتِ ہند، یونیسف، محکمۂ صحت حکومتِ گجرات اور جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کے اشتراک سے نوجوانوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود پر ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ذہنی صحت سے جڑی بدنامی اور خاموشی نوجوانوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی ہے، جسے فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

دو روزہ اجلاس میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے اعلیٰ افسران، حکومتِ گجرات کے نمائندوں، ریاستی ذہنی صحت اتھارٹی، یونیسف اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں نوجوانوں کی رائے اور تجربات کو مرکزی اہمیت دی گئی تاکہ ذہنی صحت سے متعلق پالیسیوں اور پروگراموں کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر برائے نوعمر صحت ڈاکٹر زویا علی رضوی نے کہا کہ حکومتِ ہند راشٹریہ کشور سوستھیا کاریہ کرم اور آیوشمان بھارت اسکول ہیلتھ اینڈ ویلنیس پروگرام جیسے اقدامات کے ذریعے نوعمروں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ براہِ راست مشاورت سے خدمات کی رسائی اور افادیت مزید بہتر ہوگی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں تقریباً 8000 ایڈولیسنٹ فرینڈلی ہیلتھ کلینکس قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ تقریباً 10 لاکھ ہم عمر رہنما کمیونٹی سطح پر صحت اور ذہنی فلاح کے موضوعات پر سرگرم ہیں۔ اسی موقع پر ’ایڈولیسنٹ فرینڈلی ہیلتھ سینٹر‘ کی تشخیصی رپورٹ بھی جاری کی گئی، جس میں پندرہ ریاستوں کے پینتالیس مراکز کا جائزہ لیا گیا۔


رپورٹ کے مطابق ماڈل ایڈولیسنٹ فرینڈلی ہیلتھ سینٹروں میں نوجوانوں کو مشاورت، ذہنی صحت، غذائیت، جلدی بیماریوں، ماہواری کے مسائل اور دیگر طبی خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ زیادہ تر مراکز میں تربیت یافتہ مشیر اور طبی افسر موجود ہیں، تاہم کئی مقامات پر عملے پر کام کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور رازداری کے لیے بہتر سہولیات کی ضرورت ہے۔

یونیسف کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو صرف فائدہ اٹھانے والا طبقہ نہیں بلکہ تبدیلی کے شراکت دار کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اجلاس کے دوران نوجوانوں نے ذہنی دباؤ، امتحانی بوجھ، ڈیجیٹل لت، گھریلو مسائل اور سماجی دباؤ جیسے موضوعات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

ڈاکٹر سید حبّے علی نے کہا کہ ڈپریشن، بے چینی، کم خود اعتمادی اور خود کو نقصان پہنچانے کے رجحانات نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے خاندان، تعلیمی اداروں اور ماہرین کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ اجلاس کے اختتام پر نوجوان دوست صحت مراکز میں مزید بہتری، تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی اور کمیونٹی سطح پر آگاہی بڑھانے کی سفارشات پیش کی گئیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔