کورونا کی فائزر ویکسین ’ڈیلٹا ویرینٹ‘ کے خلاف 64 فیصد تک مؤثر

محققین نے بتایا کہ ڈیلٹا قسم بہت زیادہ متعدی ہے مگر نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین کا استعمال لوگوں کو کووڈ کی سنگین شدت اور موت سے بچانے میں مددگار ہے۔

فائزر، تصویر یو این آئی
فائزر، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

تل ابیب: فائزر۔بائیو این ٹیک کی تیار کردہ کووڈ۔19 ویکسین دنیا کی چند مؤثر ترین ویکسینز میں سے ایک ہے جس کی افادیت 90 فیصد سے زیادہ ہے۔ تاہم کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا کے خلاف یہ ویکسین اتنی زیادہ مؤثر نہیں۔ یہ بات اسرائیلی وزارت صحت کے زیرتحت ہونے والی ایک ابتدائی تحقیق میں سامنے آئی۔

اس تحقیق میں وائرس کی ابتدائی اقسام کے خلاف اس ویکسین کی 95 فیصد افادیت کا موازنہ ڈیلٹا قسم سے کیا گیا تھا۔ ہندوستان میں سب سے پہلے سامنے آنے والی یہ قسم گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران اسرائیل میں 90 فیصد سے زیادہ نئے کیسز کا باعث بنی ہے۔


تحقیق کے دوران جون کے مہینے میں اکٹھے کیے گئے ڈیٹا سے عندیہ ملا کہ فائزر ویکسین کی 2 خوراکوں کو استعمال کرنے والے افراد کو ڈیلٹا قسم کے خلاف 64 فیصد تک تحفظ ملتا ہے۔ تاہم تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسین بیماری کی سنگین شدت اور اسپتال میں داخلے سے بچانے کے لیے 93 فیصد تک مؤثر ہے۔ محققین نے بتایا کہ ڈیلٹا قسم بہت زیادہ متعدی ہے مگر نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین کا استعمال لوگوں کو کووڈ کی سنگین شدت اور موت سے بچانے میں مددگار ہے۔

اس سے قبل مئی 2021 میں پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ فائزر/بائیو این ٹیک اور ایسٹرازینیکا/آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ کووڈ ویکسینز کورونا وائرس کی اس نئی قسم کے خلاف بہت زیادہ مؤثر ہیں۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائزر ویکسین کورونا کی دوسری خوراک استعمال کرنے کے 2 ہفتے بعد ڈیلٹا سے 88 فیصد تک تحفظ ملتا ہے۔


اس کے مقابلے میں ایسٹرازینیکا ویکسین کی ڈیلٹا کے خلاف افادیت 60 فیصد ہے۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق دونوں ویکسینز کی افادیت میں ممکنہ فرق یہ ہے کہ ایسٹرازینیکا ویکسین کی دوسری خوراک فائزر ویکسین کے مقابلے میں زیادہ وقفے کے بعد دی جاتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔