کورونا کے نئے ویرینٹ ’اومیکرون‘ سے دنیا میں دہشت! وزیر اعظم مودی نے اجلاس طلب کیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران پی ایم مودی کورونا کی تازہ صورت حال اور ملک میں ٹیکہ کاری کے حوالہ سے اعلیٰ افسران سے معلومات حاصل کریں گے۔

کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا وائرس کے ایک اور ویرنیٹ کا پتا چلا ہے، جس کا نام ’اومیکرون‘ رکھا گیا ہے۔ اس ویرینٹ کے پائے جانے کے بعد متعدد ممالک نے اقدامات اٹھانے شروع کر دیئے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے افریقی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے، وہیں ڈبلیو ٹی او کی وزراء کانفرنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ہندوستان میں بھی نئے ویرینٹ کے خطرے کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی کورونا کی تازہ صورت حال اور ملک میں ٹیکہ کاری کے حوالہ سے اعلیٰ افسران سے معلومات حاصل کریں گے۔


’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کورونا معاملے پر طلب کئے گئے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کابینہ سکریٹری راجیو گوبا کے ساتھ کئی دیگر افسران بھی شامل ہوں گے۔ وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری پی کے مشرا، ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن اور نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال بھی شامل ہوں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا ہے، جب ملک بھر کے اسکول کالجوں میں بھی کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کرناٹک، تلنگانہ، راجستھان، اوڈیشہ سمیت ملک کی مختلف ریاستوں سے طلبا اور اساتذہ کے کورونا کی زد میں آنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اب کورونا کے نئے ویرینٹ نے بھی دنیا کو دہشت میں مبتلا کر دیا ہے۔


خیال رہے کہ امریکہ سمیت کئی ممالک نے بین الاقوامی پروازوں بالخصوص جنوبی افریقہ کے لیے پروازوں کے حوالے سے سختی کا اعلان کیا ہے، جب کہ ہندوستان اس طرح کا اعلان کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ایک روز قبل ہی وزارت شہری ہوا بازی نے 15 دسمبر سے بین الاقوامی فلائٹ سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جو تقریباً ایک سال سے تعطل کا شکار ہے۔ کورونا سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کے بعد بھی لوگ انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں، اس سے بھی حکومت کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔