سی وی ڈی: تیزی سے بڑھ رہا ہے ’سائلنٹ کلر‘، مرض میں مبتلا 50 فیصد افراد لاعِلم

میکس اسپتال میں کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر منوج کمار کے مطابق موروثی اور بہت سے معاملات میں خراب طرز زندگی کے سبب ہونے والے ہائی بلڈ پریشر کو ہارٹ اٹیک کے لئے بڑا ’رسک فیکٹر‘ سمجھا جاتا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: کارڈیو ویسكلر ڈسیز (سی وی ڈی) کے اہم وجوہات میں سے ایک ہائی بلڈ پریشر ملک کے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس میں مبتلا 50 فیصد لوگوں كو اس کے بارے میں پتہ ہی نہیں ہوتا اور جنہیں معلوم بھی ہے ان میں سے صرف 50 فیصد ہی اسے کنٹرول کرنے کے تئیں چوکس و مستعد ہیں۔ زائد عمر کے ہی نہیں بلکہ کم عمر کے لوگ بھی اس کی زد میں ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے بڑھنے کی رفتار یہی رہی تو 2025 میں تقریباً 21 کروڑ لوگ اس کی زد میں ہوں گے۔ کثیر الاشاعت سائنس جرنل ’لینسیٹ‘ میں حال ہی میں شائع ایک تحقیقی مقالہ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں کارڈیو ویسكلر بیماریوں (سی وی ڈی) کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح زیادہ ہے۔

میکس اسپتال میں کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اور انٹرنیشنل كارڈيولوجی کے سربراہ ڈاکٹر منوج کمار نے ’یو این آئی‘ کو بتایا کہ موروثی اور بہت سے معاملات میں خراب طرز زندگی کی وجہ سے ہونے والے ہائی بلڈ پریشر کو ہارٹ اٹیک کے لئے بڑا ’رسک فیکٹر‘ سمجھا جاتا ہے ۔ اس کا گردے پر بھی منفی اثر پڑتا ہے اور اس سے اسٹروک کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کے تئیں احتیاط برتنے کے لیے ضروری ہے کہ 40 سال کی عمر کے بعد اس کی باقاعدگی کے ساتھ جانچ کرائی جائے۔ یوگا، کھانے پینے سمیت طرز زندگی میں کئی اقسام کی بہتری کر کے اسے کنٹرول میں کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا’’40 سال کے بعد ہر شخص کو اپنے پرائیویٹ طبی ایڈوائزر کے مشورہ کومانتے ہوئے وہ تمام جانچ کروانی چاہیے جو صحت مند زندگی کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ طبی زبان میں’ہائپر ٹینشن ‘کے نام سے مقبول ہائی بلڈ پریشر کو’سائلینٹ کلر-خاموش قاتل‘ کہا گیا ہے‘‘۔

ڈاکٹر کمار نے فلسفیانہ انداز میں کہا’’زندگی کو صحیح معنوں میں جینے کا وہی انسان قوت رکھتا ہے جو زندگی کے آسان ڈگر پر بھی سنبھل کرچلتا ہے اور مخملی گھاسوں میں چھپے’کانٹوں‘ پر گہری نظر رکھتا ہے۔ عام زندگی کے تجربہ گاہ میں یہ اکثر ثابت ہوتا رہا ہے کہ لوگوں کو وہ چیزیں بھاری پڑ جاتی ہیں جن کے تئیں تھوڑی سی سنجیدگی سے بچاؤ بہت آسان تھا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ڈاکٹروں کی تجاویز اور عمر کے ساتھ جانچ وغیرہ کے مقررہ معیار پر عمل کرنے پر کینسر سے لے کر دل کی بیماریوں سے 90 فیصد ریسکیو ہو سکتی ہے۔ذیابیطس، لپڈ پروفائل، كڈنی- جگر فنکشن، وغیرہ اہم جانچوں کے علاوہ شریانوں میں بلوكیج چیک بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے بھی آج کل بہت نئی اور آسان ٹیکنالوجی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر کی سنگینی کے تئیں تنبیہ کرتے ہوئے ڈاکٹر منوج نے کہا کہ یہ ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں مریضوں کو بھنک تک نہیں ہوتی اور وہ ان کوخاموشی سے موت کی نیند سلا دیتی ہے۔ اس کی زد میں ہونے کے کوئی خاص ہدف سامنے نہیں آتے، اس لئے لوگ اس کے تئیں کافی لاپرواہ رہتے ہیں۔ اس کی جانچ کے بارے میں شاید ہی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ یہ بیماری موروثی بھی ہو سکتی ہے اور ناقص طرز زندگی اور عمر کے ساتھ شریانوں کے سخت ہونے سے بھی اس کی زد میں آنے کا خطرہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر کی سسٹولك-اوپر 140 اور نیچے 90 سے کم رہنا چاہیے۔ اس کے بڑھنے کا مطلب ہوتا ہے کہ دل پر بوجھ پڑ رہا ہے۔ امبولیٹری بی پی مانیٹرنگ مشین سے 24 گھنٹے بلڈ پریشر جانچ کرکے اس کی صحیح پوزیشن جانی جا سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق سی وی ڈی عالمی سطح پر موت کا سب سے بڑا سبب ہے لیکن زیادہ آمدنی والے ممالک میں کینسر کی وجہ سے ہونے والی اموات سی وی ڈی کے مقابلہ میں دوگنی ہیں جبکہ ہندوستان سمیت کم آمدنی والے ممالک میں سی وی ڈی کی وجہ سے ہونے والی اموات کینسر کے مقابلے میں تین گنی ہیں۔ کم آمدنی والے ممالک اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں گھریلو فضائی آلودگی کو سی وی ڈی کے ایک اہم وجہ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں خطرے والے عوامل کے کم ہوتے ہوئے بھی اعلی شرح اموات کا سبب معیاری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کی کمی اور انشورنس کی سہولت کا فقدان ہے۔

Published: 10 Oct 2019, 11:10 PM