اے آئی پر مبنی ٹیلی روبوٹکس صحت کی دیکھ بھال کو ایک نئی جہت دے گا: جتیندر سنگھ

مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ اختراع اے آئی، روبوٹکس، اور ریئل ٹائم طبی مہارت کے سنگم کی مثال ہے، جو جغرافیائی حدود کو ختم کرکے خصوصی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بڑھاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

یو این آئی

سائنس اور ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پیر کو کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ٹیلی روبوٹکس صحت کی دیکھ بھال کی خدمات میں انقلاب برپا کرے گا اور دور دراز علاقوں میں ماہر طبی دیکھ بھال فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ڈاکٹر سنگھ نے یہ بات مقامی ٹیلی روبوٹک الٹراسونوگرافی سسٹم کے کامیاب لائیو مظاہرے کے دوران اپنے خطاب کے دوران کہی۔ اس پروگرام میں ایمس نئی دہلی کو انٹارکٹیکا کے 'میتری ریسرچ اسٹیشن' سے منسلک کیا گیا، جہاں دہلی میں بیٹھے ڈاکٹر نے 12 ہزار کلومیٹر دور موجود رضاکار کا ریئل ٹائم الٹراساؤنڈ معائنہ کیا۔ یہ نظام ایمس نئی دہلی اور آئی آئی ٹی دہلی نے ارتھ سائنس کی وزارت کے نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشین ریسرچ کے تعاون سے تیار کیا ہے۔


مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ اختراع اے آئی، روبوٹکس، اور ریئل ٹائم طبی مہارت کے سنگم کی مثال ہے، جو جغرافیائی حدود کو ختم کرکے خصوصی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بڑھاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی انتہائی دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں خاص طور پر کارآمد ہے، جہاں فوری طور پر مریضوں کی آمدورفت مہنگی اور پیچیدہ ہے۔ انٹارکٹیکا جیسی جگہوں پر، اس سے یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا کسی مریض کا مقامی طور پر علاج کیا جا سکتا ہے یا اسے ایئرلفٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں، اسے سرحدی علاقوں، آفات سے متاثرہ علاقوں، دیہی صحت کے مراکز اور موبائل میڈیکل یونٹس میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم کے مجموعی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مختلف وزارتوں اور اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعہ قومی مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کی قطبی مہمات اور سمندری مشن اب صرف جیو سائنس ریسرچ تک محدود نہیں ہیں بلکہ عملی استعمال کے ساتھ تکنیکی اختراعات کی بنیاد بھی بن رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔