صرف ایک سال میں 56 باڈی بلڈرز کی موت، اوسط عمر محض 35 سال، فِٹ نظر آنے والے ایتھلیٹس کیوں ہار رہے ہیں جان کی بازی؟

پنجاب میں ’آرنلڈ شوارزنیگر آف انڈیا‘ کہے جانے والے 42 سال کے ورندر سنگھ گھمن کی ایک معمولی سرجری کے دوران اچانک حرکت قلب بند ہونے کے سبب جان چلی گئی۔

<div class="paragraphs"><p>باڈی بلڈرز، تصویر اے آئی</p></div>
i

مضبوط اور تندرست نظر آنے والے باڈی بلڈر اچانک کم عمر میں دنیا چھوڑ دے رہے ہیں۔ حال ہی میں برازیل کے ایک مشہور فٹنس انفلوئنسر نے اپنی جم کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں ان کا مضبوط جسم صاف نظر آ رہا تھا لیکن کچھ ہی گھنٹوں بعد گھر پر ان کی اچانک موت ہو گئی۔ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی نوجوان باڈی بلڈرز کی ہارٹ اٹیک اور کارڈیک اریسٹ جیسی وجوہات سے جان جا چکی ہے، جن میں امریکہ، جرمنی اور برازیل کے نامی ایتھلیٹ شامل ہیں۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جو لوگ باہر سے اتنے فٹ اور صحت مند نظر آتے ہیں ان کی صحت اندر سے اس قدر کمزور کیسے ہو جاتی ہے کہ ان کی جان چلی جاتی ہے؟

صرف 2025 میں 50 سے زائد مسابقتی باڈی بلڈرز کی موت ہو گئی، جن میں زیادہ تر 30 کی عمر کے تھے اور نصف سے زائد کی موت دل سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہوئی۔ ان میں پنجاب کے مشہور باڈی بلڈر اور اداکار ورندر سنگھ گھمن بھی شامل تھے، جن کا کندھے کی سرجری کے دوران کارڈیک اریسٹ کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ دسمبر میں ایک ابھرتے برازیلین ایتھلیٹ کا بھی محض 25 سال کی عمر میں کارڈیک اریسٹ کے سبب انتقال ہو گیا۔ ہندوستان میں ایک پاورلفٹر 330 پاؤنڈ بنچ پریس اور 770 پاؤنڈ ڈیڈلفٹ کرنے کے بعد سینے میں تیز درد کے بعد کارڈیک اریسٹ کے باعث مقابلے کے دوران ہی گر پڑے۔


واضح رہے کہ 2025 باڈی بلڈنگ کی دنیا کے لیے سب سے خوفناک سال ثابت ہوا۔ رپورٹس کے مطابق رواں سال مجموعی طور پر 56 باڈی بلڈرز کی موت ہوئی اور مرنے والوں کی اوسط عمر صرف 35 سال رہی، جن میں سے نصف زائد کی موت دل سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہوئی۔ پنجاب میں ’آرنلڈ شوارزنیگر آف انڈیا‘ کہے جانے والے 42 سال کے ورندر سنگھ گھمن کی ایک معمولی سرجری کے دوران اچانک حرکت قلب بند ہونے کے سبب جان چلی گئی۔ وہ 2009 میں مسٹر انڈیا رہ چکے تھے اور ’ویجیٹیرین‘ طرز زندگی کے لیے مشہور تھے۔

برازیل کے ایک 31 سالہ باڈی بلڈر جو ٹین ایج مسٹر آسٹریلیا رہ چکے تھے اور اپنی گرل فرینڈ کو پرپوز کرنے کے کچھ ہی ہفتوں بعد دنیا سے چل بسے۔ اسی طرح روس کے ایک مشہور باڈی بلڈر جنہیں ’رشین ہَلک‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، ان کا مئی 2025 میں جسم کے ملٹی-آرگن فیلیر ہونے کے سبب انتقال ہو گیا۔ وہ طویل عرصے سے سنتھول انجکشن کے استعمال اور مسلس کو لے کر ضرورت سے زیادہ بگوریکسیا کے شکار تھے۔ ماہرین اب مانتے ہیں کہ صرف اسٹیرائیڈ ہی نہیں بلکہ آلودہ انجکشن جسم میں پانی کی مقدار کو بہت کم کرنے (ڈی ہائیڈریشن) کی خطرناک تیاری اور بغیر کنٹرول کے ادویات کا استعمال بھی ان اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔


باڈی بلڈنگ سے متعلق خطرات کا مئی 2025 میں ’یورپین ہارٹ جرنل‘ میں شائع ایک اہم مطالعہ میں انکشاف کیا گیا۔ اٹلی کے ’پڈوا یونیورسٹی‘ کے محققین نے انٹرنیشنل فیڈریشن آف باڈی بلڈنگ اینڈ فٹنس (آئی ایف ایف بی) کے مقابلے میں 2005 سے 2020 کے درمیان حصہ لینے والے تقریباً 20300 ایتھلیٹوں کی جانچ کی اور جولائی 2023 تک اوسطاً 8 سال سے زیادہ وقت تک ان کی صحت پر نظر رکھی۔ اس مطالعہ میں 121 اموات درج ہوئیں، جن میں سے 46 اموات کی وجہ اچانک کارڈیک اریسٹ پائی گئی۔ موت کی اوسط عمر 34.7 سال رہی۔ محققین کے مطابق پیشہ ور باڈی بلڈرز میں شوقیہ کھلاڑیوں کے مقابلے میں اچانک کارڈیک اریسٹ سے موت کا خطرہ 5 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے لیڈ ریسرچر اور پڈوا یونیورسٹی میں اسپورٹس میڈیسن اسپیشلسٹ ڈاکرٹ مارکو ویکیاٹو کے مطابق باڈی بلڈنگ میں اپنائی جانے والی کئی عادتیں صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ جیسے بہت زیادہ ہیوی ویٹ ٹریننگ، بے حد خاص ڈائٹ، جسم میں پانی کم کر کے تیزی سے وزن گھٹانا اور پرفارمنس بڑھانے والی مختلف ادویات کا استعمال کرنا بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان اموات کے پیچھے کئی وجوہات ایک ساتھ ذمہ دار ہوتے ہیں۔ پرفارمنس بڑھانے والی ادویات یعنی انابولک اسٹیرائڈ کا استعمال، مقابلوں سے قبل تیزی سے وزن گھٹانا اور ضرورت سے زیادہ ہیوی اسٹرینتھ ٹریننگ اس میں اہم ہے۔ ڈنمارک کے محققین کے 2025 کے ایک مطالعہ کے مطابق اسٹیرائڈ استعمال کرنے والے تقریباً 1189 مردوں کا موازنہ 11 سال تک تقریباً 60000 عام مردوں سے کیا گیا۔ نتائج میں سامنے آیا کہ اسٹیرائڈ لینے والوں میں دل کے عضلات کے کمزور ہونے (کارڈیو مایوپیتھی) کا خطرہ تقریباً 9 گنا زیادہ تھا۔ ہارٹ اٹیک کا خطرہ 3 گنا زیادہ تھا اور دل کی دھڑکن رکنے کا خطرہ بھی 3 گنا سے زیادہ پایا گیا۔ اس کے علاوہ اسٹیرائڈ بلڈ پریشر بڑھا سکتے ہیں، شریانوں میں فیٹ کی تہہ کو جلدی سے جمع کر سکتے ہیں اور دل کی بناوٹ تک تبدیل کر سکتے ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ متوفی باڈی بلڈرز کی پوسٹ مارٹم رپورٹس میں بھی کئی حیران کن حقائق سامنے آئے۔ کئی معاملوں میں پوسٹ مارٹم میں دل کا معمول سے بڑا ہونا (کارڈیومیگلی) اور دل کے نچلے حصے کے عضلات کا ضرورت سے زیادہ موٹا ہونے جیسی تبدیلیاں پائی گئیں۔ یہ تبدیلیاں انابولک اسٹیرائڈ کے استعمال، ضرورت سے زیادہ مسلز ماس اور دل پر مسلسل پڑنے والے دباؤ سے جڑے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ زیر بحث معاملات میں سے ایک 26 سالہ امریکی باڈی بلڈر اسٹار کے پوسٹ مارٹم میں ان کے دل کا وزن 833 گرام نکلا، جو ایک عام بالغ مرد کے دہل سے دوگنا سے بھی زیادہ تھا۔ 2022 کے ایک مطالعہ میں یہ بھی سامنے آیا کہ امریکی باڈی بلڈرز کے دلوں کا اوسط وزن معمول سے تقریباً 74 فیصد زیادہ تھا اور دل کے عضلات عام لوگوں کے مقابلے میں 125 فیصد تک موٹے پائے گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔