جب ’خوش خبری‘ نہ ہونا خوش خبر بن جائے...سنیتا پانڈے

میری ایک واقف کار کے چہرے کی رونق نے مجھے بتایا کہ اس کے لئے ’خوش خبری‘ نہ ملنا ہی سب سے بڑی خوش خبر تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سنیتا پانڈے

ببلی (بدلا ہوا نام) کی عمر تقریباً 44-45 سال ہے۔ اس کے بچوں کی عمر بھی کوئی 18-20 سال ہوگی۔ کئی دنوں سے وہ پریشان تھی۔ اس نے پریشانی مجھے بتائی۔ میں نے کہا کیوں فکر کرتی ہو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن اس کا فکر مند ہونا لازمی تھا اگر مجھ پر گزرتی تو مجھے بھی فکر ہوتی۔

ہوا یوں کے اس کے کچھ ایام زیادہ ہوگئے تھے اور وہ اسقاط حمل (ابورشن) کے سخت خلاف تھی۔ لہذا سوچ سوچ کر اس کی حالت خراب ہو رہی تھی کہ اگر اب ایک ننہا منا اس کے گھر میں آ گیا تو کیا ہوگا۔ اسی خوف کے سبب وہ اپنا ٹسٹ کرانے کی بھی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔

ببلی اس لئے بھی پریشان تھی کہ وہ دوسروں کو صلاح و مشورہ دیا کرتی تھی۔ اس کی واقف کار کے بچہ اس وقت پیدا ہوا تھا جب اس کی بیٹی کے یہاں بھی ایک بچہ کی ولادت ہوئی تھی۔ تو ببلی نے اس سے بہت بحث کی اور اپنی واقف کار کو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ پڑھی لکھی ہو کر بھی وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے! اب جب خود ببلی ایسی ہی صورت حال سے دو چار ہوئی تو اسے اپنی واقف کار سے ہمدردی ہونے لگی۔

ببلی بہت ٹنشن میں رہنے لگی تھی لیکن اچانک ایک روز اسے چہکتے ہوئے دیکھ کر میں نے پوچھا ، بھئی کیا خوش خبری ہے؟ ببلی تپاک سے بولی ’کبھی کبھی خوش خبری نہ ہو کرخوش خبر بن جاتی ہے‘۔پھر اس نے بتایا کہ وہ اپنی تاریخ ہی بھول گئی تھی۔

شکر، اس کی پریشانی تو دور ہوئی اورمیں سوچنے لگی کہ کبھی کبھی واقعی عورت ہونا بھی کتنا تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ سماجی برائیوں کا شکار بھی خواتین کو ہی بنایا جاتا ہے، آج میں ان پر بات نہیں کروں گی کیوں کہ جہیز، عصمت دری، غیر مساوات وغیرہ پر تو بحث و مباحثہ چلتا ہی رہتا ہے، میں آج بات کروں گی خواتین کو پیش آنے والی جسمانی پریشانیوں کی۔

بچی جب کچھ بڑی ہونے لگتی ہے تو اگر ماہواری وقت پر نہ آئے تو پریشانی ہو جاتی ہے اور آ جائے تو اس کے ساتھ ملنے والے بے انتہا قرب کو اسے سہنا پڑتا ہے، اس کے علاوہ ماہواری میں بے ضابطگی سے بدن میں خون کی کمی ، تھکان، چڑچڑاپن وغیرہ وغیرہ تمام طرح کی دقتوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

پھر جب ولادت کا وقت آتا ہے تو دوران زچگی میں ہونے والی تکلیف کا اندازہ صرف وہی عورت لگا سکتی ہے جس کے یہاں قدرتی ولادت ہوئی ہو ۔بلکہ یوں کہا جائے کہ ان کیفیات سے گزرنے کے بعد عورت کا دوسرا جنم ہوتا ہے۔ 9 ماہ تک بچے کو شکم مادر میں پرورش کرنا ، پھر ولادت کے ایک سخت مرحلے سے گزرنا، ولادت کے دوران جسم میں پیدا ہونے والے ان گنت مسائل۔ جیسےبلڈ پریشر کا بڑھنا گھٹنا، پیٹ کا اینٹھنا وغیرہ ، اگر بچہ آپریشن سے پیدا ہو تو اس سے وابستہ دیگرپریشانیاں۔

ولادت کے بعد بچہ کو دودھ پلانا بھی ایک مسئلہ ہے، اگر خاتون برسر روزگار ہے تو اس کی حالت کا اندازہ لگا پانا مشکل ہے۔ کئی بارپستانوں میں دودھ زیادہ جمع ہوجانے سےخاتون کو بخار تک آجاتا ہے اور پھر جب جمع دودھ کو زبردستی نکالا جاتا ہے تو اس سے ہونے والی تکلیف، ہائے.. شاید اسی لئے کسی نے کہا ہے۔

ابلا جیون ہائے تیری یہی کہانی

آنچل میں ہے دودھ اور آنکھوں میں پانی

جب یہ سب مرحلے گزر جاتے ہیں تو بڑھتی عمر کے ساتھ جسمانی مسائل پیدا ہو نے شروع ہو جاتے ہیں۔ مثلاً آسٹیوپوروسس(ہڈیاں کمزور ہونے والی بیماری) وغیر کی شکار بھی زیادہ تر خواتین ہی ہوتی ہیں۔ پھر 45-50 کی عمر تک پہنچنے کے بعد مینوپاز (ماہواری کا بند ہونا) کا مسئلہ جس میں کئی بار دھوکہ بھی ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ببلی کے ساتھ ہو اتھا۔

لب و لباب یہی کہ عورت کی زندگی ، چاہے وہ سماجی ہو یا پھر جسمانی ، کافی تکلیف دہ ہوتی ہے، اس لئے ضرورت اس بات کی اگر کبھی خاتون ایسے مسائل میں گھری ہو تو اس کو بے حد سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، خصوصاً قریبی لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس کی تکالیف کو سمجھیں اور دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ ویسے بھی عورت پیار کی بھوکی ہوتی ہے اگراسے پیار کے دو لفظ مل جائیں تو وہ ہر مشکل کو بخوشی مقابلہ کر سکتی ہے۔

یہاں میں خواتین سے بھی ایک بات کہنا چاہوں گی کہ وقت رہتے ہی اپنے جسم کا خیال رکھنا شروع کر دیں۔ اپنی غذا اور وزن پر خاص طور سے دھیان دیں، تاکہ جسمانی مسائل سے آپ بچ سکیں۔ کیونکہ اگر آپ خود تندرست رہیں گی تو ہی اپنے خاندان کو صحت مندرکھ پائیں گی۔

تندرستی ہزار نعمت ہے۔ یہ فقرہ ہمیں بچپن سے نصابوں میں پڑھایا اور روزمرہ میں بولا جاتا ہے۔

(سنیتا پانڈے ماہر نفسیات ہیں اور جے پور میں کاونسلنگ کلینک چلاتی ہیں)