بہتر والدین بننا ہے، تو بچوں کی ذمہ داری اٹھائیں

بچے کو نظر انداز نہ کریں اور اس کے ساتھ خوب کھیلیں۔ یہ نہ سوچیں کہ وہ تو کچھ مہینے کا ہے اس سے کیا بات کریں! دھیان رکھیے وہ بول نہیں سکتا، لیکن سمجھ ضرورت لیتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سنیتا پانڈے

کسی شخص کی شخصیت کے تعین میں اس کے جین اور تجربہ کا بڑا کردار ہوتا ہے اور بچے میں پرسنالٹی ڈیولپمنٹ (شخصیت کی تعمیر) رحم مادر میں اس کےپہنچنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ لہذا ضروری یہ ہے کہ ماں اور باپ دونوں کی پرسنالٹی نارمل ہو۔ چونکہ پرسنالٹی تو اب ڈیولپ ہو چکی ہے تو اس میں اب بس سدھار لایا جا سکتا ہے اسے تعمیر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کسی شخص کی شخصیت کے تعین میں اس کے وہ جینز جو والدین کی طرف سے ملے ہیں اور اس کے آس پاس کا ماحول دونوں اثر انداز ہوتے ہیں ۔

جینز کی منتقلی پر تو ہمارا زور نہیں ہے لیکن ماحول ہم قابو میں کر سکتے ہیں۔

کنسیو (رحم مادر میں بچے کی آمد ) کے وقت (وہ لمحہ نہیں بلکہ ان دنوں) اور حاملہ رہنے کے دورانیہ میں اگر عورت کا دل بدسگونی میں ہے یا گھر میں لڑائی جھگڑے کا ماحول ہے تو اس وقت عورت ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور ہوگی۔ ایسی صورت حال کا آنے والے بچے کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ہوتا ہے۔

بچے کے جنم کے بعد سب کو معلوم ہی ہے کہ اگر گھر یا اسکول کا ماحول خوشگور نہیں ہے تو بچے پر منفی اثر پڑےگا اور یہ بچے کی شخصیت کا تعین کرتا چلا جائے گا۔ اس کے نتائج کبھی تو فوری طور پر نمایاں ہونے لگتے ہیں اور کبھی بچے کے بڑے ہونے کے بعد نمایاں ہوتے ہیں کیوں کہ وہ لاشعور میں دبے رہتے ہیں۔ انہیں باہر آنے کے لئے بس ایک ٹریگر کی ضرورت بھر ہوتی ہے۔

اگر کسی سبب گھر میں رنجش یا لڑا ئی جھگڑا ہوتا ہے تو اس سے بچہ سہم جاتا ہے یا پھر روتے ہوئے چونک جاتا، سانس اوپر چڑھا لیتا ہے، بہت زیادہ روتا ہے، ڈرتا ہے یا اسے بہت زیادہ غصہ آتا ہے یا پھر وہ گم سم ہو جاتا ہے۔ باہر جانے پر وہ دوسرے بچوں میں گھل مل نہیں پاتا اور اپنے کھلونے دوسروں کو چھونے نہیں دیتا، ناخون چباتا ہے یا بال کھاتا ہے۔ اپنے بال نوچتا ہے، خود کو یا دوسروں کو مارتا پیٹتا ہے اور غصہ میں کپڑوں میں ہی رفع حاجت کر دیتا ہے۔ اسکول نہیں جانا چاہتا یا پڑھائی میں بہت کمزور ہوتا ہے۔ وغیرہ۔ اگر بچے میں اس طرح کی علامتیں نظر آتی ہیں تو محتاط ہو جانا چاہئے (حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر بچے میں یہ علامات نظر آئیں)۔

اگر آپ کی شادی ہونے والی ہے یا پھر نئی نئی شادی ہوئی ہے یا آ پ کے بچے بہت چھوٹے ہیں تو آپ سے خصوصی گزارش ہے کہ گھر کا ماحول بے حد خوشگوار بنائیں۔ کم از کم بچے کے سامنے تو لڑائی جھگڑے سے گریز کریں ، حالانکہ بچے جنم سے ہی اشاروں کی زبان بخوبی سمجھتے ہیں، لہذا اشاروں میں بھی یہ بات ان تک نہیں پہنچنی چاہئے کہ گھر میں یا والدین کے بیچ کچھ غلط ہو رہا ہے۔

بچے کو کبھی نظر انداز نہ کریں اور اس کے ساتھ خوب کھیلیں۔ یہ نہ سوچیں کہ وہ تو کچھ مہینے کا ہے اس سے کیا بات کریں! دھیان رکھیے وہ بول نہیں سکتا، لیکن سمجھ ضرورت لیتا ہے۔ اس لئے اس سے خوب بات کریں۔ اسے سیر کے لئے لے جائیں۔ اس کے ساتھ مستی کریں۔ اسے کہانیاں سنائیں۔

جتنا بھی ہو سکے بچے کو اسکرین والی چیزوں جیسے موبائل وغیرہ سے دور رکھیں۔ اگر وہ ان کا عادی ہو گیا تو طے ہے کہ وہ وقت سے پہلے ہی اپنے لئے ایک الگ دنیا بنا لے گا اور آپ سوچتے رہ جائیں گے کہ ہم سے اس کی پرورش میں کہاں کمی رہ گئی۔

آپ اپنے بچے کو بڑے ہوکر جیسا دیکھنا چاہتے ہیں ویسا ہی رویہ آپ خود بھی اختیار کریں۔ والدین بچوں کے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ دھیان رکھیے کہ بچے بہت اچھے آبزرور (مبصر) ہوتے ہیں اس لئے ان کے سامنے احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ کبھی یہ مت سوچئے کہ بچہ ہے تو وہ کچھ سمجھ نہیں سکتا اس لئے اس کے سامنے کچھ بھی چلے گا۔

کسی کی بھی پرسنالٹی کے تعین میں تین چیزوں کی کافی اہمیت ہوتی ہے، وہ ہیں اخلاقیات ، ادب اور صحبت۔ اخلاقیات مطلب وہ باتیں جو بچہ گھر اور باہر سے سیکھتا ہے۔ بات چیت کے ذریعہ یا ایکشن کے ذریعہ۔ ادب یعنی وہ کہاں کیا پڑھ رہا ہے اور صحبت یعنی اس کا اٹھنا بیٹھنا، کھیلنا کودنا کیسے لوگوں کے ساتھ ہے۔ ان تینوں باتوں پر بچے کے والدین کو کم از کم اس کے بالغ ہونے تک تو نظر رکھنی ہی چاہئے۔

اگر بچے کا سلوک کچھ غلط لگے تو اسے روکیں، ٹوکیں اور ضرورت پڑےتو ’ٹھوکیں ‘ بھی لیکن سب سے پہلے اسے سمجھائیں۔ اگر آپ سے نہیں ہورہا یا آپ کو سمجھانے کا طریقہ نہیں آرہا تو کسی پیشہ ور کی مدد لیں۔ دھیان رکھیں بے شک خاتون ومرد سے ماں باپ میں تبدیل ہونے کا کام لمحہ بھر کا ہے لیکن بہتر والدین بہت محنت اور ذمہ داری اٹھانے کے بعد ہی بن سکتے ہیں۔

(سنیتا پانڈے ماہر نفسیات ہیں اور جے پور میں کاونسلنگ کلینک چلاتی ہیں)

Published: 10 Jun 2018, 11:33 AM