سرسید کا نظریۂ علم و عمل ... پروفیسر صغیر افراہیم

جس طرح سرسید نے منطقی انداز اختیار کیا، جو محض عوام کے لیے ہی نہیں، فرنگیوں کو بھی متنبہ کرنے کا ایک زبردست آلہ کار ثابت ہوا، دورِ حاضر کے تناظر میں اسے سمجھنے اور عوام کو سمجھانے کی اشد ضرورت ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پروفیسر صغیر افراہیم

سرسید تحریک برصغیرِ ہند کی جدید تاریخ رقم کیے جانے کا وہ باب ہے جو ذہنی کُشادگی اور عملی جدوجہد کی تصویر کو اُبھارتا ہے۔ اِس کے معاونین محمدحسین آزاد، نذیر احمد، ذکاء اللہ، زین العابدین، راجہ جے کشن داس، سمیع اللہ خاں، الطاف حسین حالیؔ، محسن الملک، وقار الملک، چراغ علی، سید محمود، اسماعیل خاں شروانی، شبلی نعمانی، سلطان جہاں بیگم، تھیوڈورماریسن، وحیدالدین سلیم وغیرہ نے وقت اور حالات کی نبض کو ٹٹولتے ہوئے مفید اور کارآمد نسخے تجویز کیے۔ رفقائے سرسید نے جوش سے نہیں ہوش سے کام لیتے ہوئے منطقی اور استدلالی طریقِ کار پر زور دیا۔ اسی بنا پر علی گڑھ تحریک ہندوستانیوں میں آپسی نفاق کو کم کرنے کا اعلانیہ اور مذہب وذات پات سے بلند ہوکر ملک وقوم کے لیے جذبۂ جاں نثاری کا مظہر ہے۔ مؤرخین نے اس کوسابقہ صورت حال کے محاسبہ اور تلافی کادربھی قرار دیا ہے۔ خوابِ غفلت میں مبتلا قوم کے ذہنوں پر دی جانے والی دستکیں اس کی گواہ ہیں کہ 1857 کے آس پاس تمام حساس افراد خصوصاً علماء کو فرنگیوں نے اس لیے اذیتیں دیں کہ وہ صداقت کا سبق دے رہے تھے۔ آزادئ اظہار اور آزادئ رائے کی اہمیت کو سمجھ اور سمجھا رہے تھے۔ اُن کی بے مثال قربانیوں کی بدولت ہمیں آزادی جیسی نعمت تو مل گئی لیکن رفتہ رفتہ اُن جانثاروں کے کارنامے جنھیں سُنہرے حروف میں لکھا جانا چاہیے تھا، نہ جانے کیوں صفحۂ قرطاس پر دُھندلے ہوتے چلے گئے۔ آخر کیوں؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ کیسا لائحہ عمل ہے؟ نذرانۂ عقیدت کا یہ کون سا طریقہ ہے کہ ہم جمہوری آئینی نظام میں اپنے محسنوں، رفیقوں سے چشم پوشی اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔

نتائج گواہ ہیں کہ علی گڑھ تحریک اِس لیے امر ہوگئی کہ سرسید کی دُور رسی اور دُور بینی کے مظاہر حد درجہ کرشماتی ہیں۔ انھوں نے استعماری اور قہرمانی قوتوں سے ٹکّر لینے کے لیے مزاحمتی اور مدافعتی طریقِ کار نہیں بلکہ مفاہمتی انداز بصورت مسابقانہ اختیار کیا، مفاہمت میں فرار کا راستہ ترک کیا اور عزیمت کا راستہ منتخب کیا، آزمائشوں کو اپنی دانش ورانہ صلح جوئی کے ذریعہ حل کیا، تشدّد کی جگہ عدم تشدّد کی راہ کو اپنایا، اور حاکمانِ وقت کو بغیر کسی تردّد وتامل، ایک پیغام دیا کہ ہمیں باغی کہنا غلط ہے اور اسے ثابت بھی کردکھایا۔ دورِ حاضر کے تناظر میں اسے سمجھنے اورعوام کو سمجھانے کی اشد ضرورت ہے۔ جس طرح سرسید نے منطقی انداز اختیار کیا، جو محض عوام کے لیے ہی نہیں، فرنگیوں کو بھی متنبہ کرنے کا ایک زبردست آلہ کار ثابت ہوا۔ ہمیں بھی اُسی طرح لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے عملی اقدام کرنے ہوں گے۔ اُن صاف گو، بے باک اور منصف مزاج حکماء نے ارضِ ہند کی منتشر بساط کو اپنی مفاہمت آمیز دانش وری سے ترتیب دیا، اس کو مربوط کیا اور وطن کی قومی توقیر کو سربلند کیا۔ گم شدہ بازیافت کا جذبہ سرسید اور رفیقانِ سرسید کے یہاں شدّت سے موجود تھا مگر استدلالی اور منطقی انداز میں۔ انھوں نے مطالبات منوانے اور باعزت زندگی گزارنے کا جو نسخہ استعمال کیا، اُس پر ہمارے سربرآوردہ قائدین نے عمل کیا اور تاریخ ساز کامرانی سے ہمکنار ہوئے۔ اُن کی قائدانہ صلاحیت کا اعتراف علامہ اقبالؔ نے اپنے کئی فن پاروں میں کیا ہے۔ مثلاً نظم ’’سیّد کی لوحِ تُربت‘‘ فنّی خوبیوں کے ساتھ انسانیت کی اعلیٰ قدروں کی بھی ضامن ہے۔ پیرومرشد کا انتخاب واستعمال انھوں نے اسی لیے کیا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں قوم وملت کی فلاح وبہبود کے لیے کوشاں رہے، اُسے خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے امکانی جتن کرتے رہے۔ شاعرِ مشرق نے نہایت موثر اور مدلل طریقہ سے قوم کو سمجھایا کہ دین کے ساتھ دنیا کی بھی فکر لازم ہے، اور پھر دُنیا کے مکروفریب اور چمک دمک سے بھی متنبہ کرتے ہیں۔ نظم کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ اِس میں اپنے مثالی کردار یعنی سرسیداحمد خاں کے توسط سے سب کچھ کہا گیا ہے۔ لوحِ مزار کی زبانی ادا ہونے والے ڈرامائی مناظر قاری کو غوروفکر پر مجبور کردیتے ہیں اور وہ اِس کے توسط سے اپنی تاریخ، تہذیب وثقافت کے مدوجزر کو اشاراتی طور پر محسوس کرلیتاہے۔ یہی آفاقی پیغام ’’طلبائے علی گڑھ کالج کے نام‘‘ میں بھی ہے۔ اِس نظم میں علم وآگہی کو تقویت بخشتے ہوئے باغِ سرسید کے نونہالوں کو جدید تعلیم وتربیت کی طرف راغب کیا گیا ہے۔ کج کلانانہ شان رکھنے و الے مولانا ابوالکلام آزادؔ، سرسید اور رفقائے سرسید سے بے پناہ محبت وعقیدت رکھتے تھے۔ ۲۰؍فروری ۱۹۴۹ء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کنووکیشن میں دیا جانے والا خطاب اس کا غماز ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کی قوتِ ارادی، تعمیری فکراور علم دوستی کے قائل تھے۔ مولانا حسرتؔ موہانی، مولانا محمدعلی جوہرؔ اور مولانا شوکت علی نے بھی سرسید تحریک سے وابستہ شخصیات کی عالمانہ قابلیت اور مدبرانہ بصیرت کا بارہا اعتراف کیا ہے۔ ان دانش وروں نے سیدوالا گُہر کے خوابوں کی تعبیریں اس طرح پیش کی ہیں کہ مسلمان ہر راہ میں کامیاب وکامران ہوں، اُن کی عزت وتوقیر میں اضافہ ہو۔

اِن عظیم المرتبت شخصیات نے بیدار مغزی، حریت پسندی اور اپنی بھرپور قوتِ اظہار کے توسط سے بیداری کی نئی لہر پیدا کی ہے۔ حالاںکہ اُن میں فکری اختلافات بھی تھے۔ لیکن علمی، ادبی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی بیداری کی وجہ سے سب ایک تھے۔ لیکن بُغض وعناد اور انتشار وخلفشار کو فروغ دینے والے نو آبادیاتی نظام کے ڈگمگاتے قدم اور اُکھڑتے ہوئے خیموں نے اِس وبا کو اور بھی مہمیز کیا۔ نتیجتاً پریم چند جیسا ہوش مند ادیب سرسید کے لسانی اور قومی نظریے کے بارے میں سہوِ فکر کا شکار ہوا۔ کوتاہی کا احساس ہوتے ہی اسباب تلاش کیے اور دُرست نتائج اخذ کرنے کے لیے علی گڑھ کا دورہ کیا مگر اُنھیں اُکسانے اور اپنی بات پر اڑے رہنے والے ادیبوں نے پریم چند کی تحقیقی کاوش اور مثبت فکر پر توجہ دینے کے بجائے مفروضہ پر مبنی بیانات سے دلائل پیش کرنے میں پریم چند کی دانشورانہ فکر کے ساتھ زیادتی کی۔ آزادی ملنے کے بعد اِس نے اور بھی پر پُرزے پھیلائے ہیں۔ آج دروغ گوئی اور مہمل کلامی کے جو نمونے سامنے آرہے ہیں اور جس طرح فرضی وقیاسی باتوں کو حقیقت بناکر پیش کیا جارہا ہے اُس سے حساس دل چھلنی ہورہے ہیں۔

تہمت لگانے سے زمانہ کب باز آیا ہے۔ اعتراض برائے اعتراض ہمیشہ سے نکتہ چینیوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے لیکن کسی نکتے کو بے بنیاد طول دینا، اپنے طور پر اُسے ثابت کرنے کے جتن کرنا اور پھر خود ساختہ رائے کو دوسروں پر زبردستی تھوپنا غیر اخلاقی عمل ہی نہیں، بلکہ تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف بھی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ اور ’’انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ نے اِن کی دستک بہت پہلے محسوس کرکرلی تھی اور ان سے احتیاط برتنے کی تجاویز سے بھی آگاہ کردیا تھا ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے والے تصور کا اُنھیں وہم وگمان بھی نہیں ہوگا۔

نوآبادیاتی نظام کے تصور سے کانپتا ہوا فرد اگر جدید جمہوری آئینی نظام میں رہتے ہوئے بھی خوفزدہ ہوگیا تو یہ باعثِ شرم ہوگا۔ میرجعفر ومیر صادق کے نقشِ قدم پر چلنے والے مفاد پرست چمچماتی ہوئی سڑکوں کے خواب دِکھلا کر عوام الناس کو درختوں کے سائے سے بھی دُور کردینے کے نہ صرف منصوبے بنارہے ہیں بلکہ ان پر عمل بھی کرارہے ہیں۔ اُن کی ترغیب پر زمین مافیا سرکاری اور غیر سرکاری کی تمیز وتخصیص سے مُبرّا، وقف املاک کو بھی ہڑپتا جارہا ہے۔ ووٹ کی سیاست نے دھیرے دھیرے نفرت کے ایسے بیج بودئیے ہیں کہ خاردار جھاڑیوں اور زہریلے پھلوں کی بہتات ہے۔ ہجومی تشدّد نے قانون کو بالائے طاق رکھ دیاہے۔ بھیڑ کی شکل میں بے قابو ہوتے ہوئے واقعات نے مسلمانوں کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ اشتعال انگیزی کی وجہ سے معاشرہ دوخانوں میں بٹتا جارہا ہے۔ ایک خاموش تماشائی بن کر خود کو محفوظ سمجھ رہا ہے اور دوسرا رقصِ ابلیس پر آمادہ ہے۔ اس کی وجہ سے جعل سازی اور ہٹ دھرمی کا بول بالا ہے۔ ڈگریوں کے انبار میں علم کی چاہت ورغبت گم ہوچکی ہے۔ نصابی کتب پر تعلیمی مافیا قبضہ کرتا جارہا ہے۔ اُن کے اشاروں پر وہ کتابیں ترتیب پارہی ہیں جو کمسن ذہنوں میں تنفر و انتشار کا زہر گھول سکتی ہیں۔ پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا حقائق سے واقف ہوتے ہوئے بھی لاپرواہی برت رہا ہے۔ اُس کے سامنے اشتعال انگیز ویڈیو بناکر فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش رچی جارہی ہے۔ سرِ عام اس طرح کے گیت کا ویڈیو جاری ہورہا ہے ؎

سب پر بھاری، بھگوا دھاری

جو نہ بولے جے سری رام، بھیجو اُس کو قبرستان

نوآبادیاتی نظام نے گنگاجمنی تہذیب کو نقصان پہنچاتے ہوئے تقسیم کا بیج بویا، مذہبی، مسلکی اور لسانی بنیادوں پر نفرت وتعصب کو ہوادی۔ سرسید نے معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مصالحت ومفاہمت کا درمیانی راستہ نکالا۔ انھوں نے اندھی تقلید، غیر عقلیت اور توہم پرستی کی شدید مخالفت کی، جدید سائنسی علوم وفنون اور انگریزی کوناگُزیر قرار دیا لیکن اپنی شناخت ، تہذیب وثقافت اور مادری زبان پر بھی زور دیا۔ اس معتدل اور دُور رس انداز کی بدولت وہ ہندوستانی معاشرے میں جدید تصوراتِ انقلاب کے بانی اور زندہ اقدار کے حامی قرار پائے۔ فکر انگیز مکالمے، تعبیر وتفہیم اور بحث ومباحثہ کے نئے دروازے کھولنے والے مردآہن نے اُنیسویں صدی میں سیاست سے گُریز برتنے کا مشورہ دیا تھا مگر آج اکیسویں صدی کی سیاست میں بڑے نشیب وفرا ز آچکے ہیں۔ موجودہ منظر نامے کے تحت نظامِ حکومت میں شمولیت کے لیے سیاست سے نہیں منفی سوچ، تعصب اور تنگ نظری سے بچنے کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ آج ذہنی دیوالیہ پن اسی کی طرف لے جا رہا ہے کہ یاتری وزائرین، ریل اورہوائی سفر میں ہی نہیں اسکولی بچوں سے متعلق بس حادثے میں بھی اموات کی شناخت مذہب ومسلک کی بنیاد پر کرنے لگے ہیں۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ عصرِ حاضر کا میڈیا ایک بے سرپیر کی فوج اور ایک شتربے مہار ہے۔ بازاری پن اتنا حاوی ہوچکا ہے کہ اب لوگوں کو بھی اس طرح کی خبریں پسند آتی ہیں۔ پسندیدگی کی بنا پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، رائی کو پربت بنانے کی کوشش میں ادب وآداب، پاس ولحاظ کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں روزی، روٹی، پانی، ماحولیات، خواتین کی بے حرمتی ، عصمت دری، عوامی تحفظ اور انسانی اقدار پر مبنی بڑے مسائل ذاتی مفاد کے نعروں میں دب کر رہ جاتے ہیں۔ حساس ذہن تلملاتاہے۔ ماضی کی خوشگواریادوں میں اُسے بزرگوں کے نقشِ قدم اُبھرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور وہ سوچتا ہے کہ سرسید کے حیات افروز پیغام، اُن کی روشن فکر، ثابت قدمی اوراولوالعزمی کو آج مزید مہمیز کرنے اور عمل میں لانے کی شدید ضرورت ہے۔

(مضمون نگار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ شعبۂ اردو کے صدر رہ چکے ہیں)

Published: 17 Oct 2020, 10:11 AM
next