منفی خیالات سے نجات کیسے پائیں! .. سنیتا پانڈے

ایسا شخص خود کو ایک ایسے بھنور میں پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے اور بعض اوقات وہ خودکشی جیسے فعل کی بات بھی سوچنے لگتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سنیتا پانڈے

جب کسی شخص کے ذہن میں ہر بات کے لئے منفی خیال آئے یا ایک ہی خیال بار بار آئے اور ان خیالات سے خود ہی سب سے زیادہ پریشان ہو تو ایساشخص اوبسیسیو کمپلسیو ڈس آرڈر (او ایس ڈی، منفی خیالات کی بیماری ) کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔

اس بیماری میں مبتلا شخص کسی دوسرے انسان کو قابل رحم حالت میں دیکھتا ہے مثلاً اسے کوئی انتہائی مفلس شخص نظر آ ئے یا پھر اسپتال میں بیمار لوگوں کو دیکھے تو اس کے ذہن میں یہ خیال آنے لگتا ہے کہ یہ اب مر جائےگا۔ سڑک پر کسی کتے کے بچےکو دیکھے تو اسے لگے گا کہ یہ گاڑی کے نیچے آکر مر جائے گا۔ کسی پارک میں کسی بچی کو دیکھ کر اس کے ذہن میں یہ خیال بار بار آئے گا کہ اس کی عصمت دری کر دی جائے گی۔ بیمار شخص کے چہرے پر اگر کوئی داغ ہے تو اسے ہر وقت یہی محسوس ہوتا رہے گا کہ سامنے والا اس کے داغ کے بارے میں ہی سوچ رہا ہوگا۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ذہن میں ایک ہی خیال گردش کرتا رہتا ہے، جس کے سبب اس کا حسب معمول جینا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو ایک ایسے بھنور میں پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے کہ بعض اوقات خودکشی کرنے کی بات بھی سوچنے لگتا ہے۔

ایک ہی طرح کا خیال یا ہر بات پر منفی خیالات کا بار بار ذہن میں آنا سائیکالوجی کی زبان میں ’اوبسیشن ‘ کہلاتا ہے۔

منفی خیالات انسان میں بے چینی پیدا کرتے ہیں جس کے سبب وہ ان خیالات سے بھاگنا چاہتا ہے۔ وہ کچھ اس طرح کے عمل ظاہر کرتا ہے جن سے اسے کچھ راحت ملتی ہے۔

مثال کے طور پر کچھ لوگ بار بار تالا چیک کرتے ہیں، کچھ لوگ بار بار گیس چیک کرتے ہیں اور کچھ لوگ بار بار جیب چیک کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ہر چیز کو بے حد منظم طریقہ سے رکھتے ہیں، اتنا منظم کہ اگر وہ شئی ذرا بھی اپنی جگہ سے ہل جائے تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ گندگی یا دھول مٹی کو بالکل برداشت نہیں کر پاتے۔ اگر ان کا بستر چھو بھی لیا جائے تو وہ پورا بستر پانی میں تر بتر کر دیتے ہیں۔ باہر جانے پر وہ کسی خاص جگہ پر جاکر ہی چین محسوس کرتے ہیں ۔

کچھ دیر تک خاص عمل کرنے سے انہیں چین تو مل جاتا ہے لیکن پھر کچھ دیر بعد منفی خیالات ذہن میں آنے شروع ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے بے چین ہو کر پھر اسی مخصوص عمل کو کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بار بار دوہرائے جانے والے عمل کو کمپلشن کہتے ہیں۔

جب خیالات اور عمل خود کو یا اس کے آس پاس کے لوگوں کو پریشان کرنے لگ جاتے ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ بیماری (اوبسیسیو کمپلسیو ڈس آرڈر ) کی شروعات ہو چکی ہے۔

بیماری کے اسباب

اگر کسی شخص کے ذہن میں کوئی ایسی بات ذہن نشیں رہ جائے جسے وہ کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر پایا ہو، لیکن اندر ہی اندر پریشان رہتا ہو۔

عدم تحفظ کا احساس

کسی دوسرے شخص کا کوئی ایسا راز جو صرف اسے یا دوسرے شخص کو ہی معلوم ہو ، لیکن اسے اندر ہی اندر ایسالگ رہا ہو کہ یہ غلط ہوا ہے۔

  • دل میں کسی بات کا خوف۔
  • ماضی میں جنسی استحصال کا کوئی واقعہ۔
  • ڈر یا خوف۔
  • بچپن میں والدین سے علیحدگی وغیرہ۔

بعض اوقات گھر میں بہت زیادہ بےسکونی یا انتہائی سکون کا ماحول ہو۔ یعنی گھر میں ہمیشہ لڑائی جھگڑے کا ماحول رہنا یا پھر گھر میں بالکل خاموشی کا ہونا۔ ایسے حالات میں جب بات کسی سے شیئر نہیں کی جاسکے یا پھر سننے والا ہی کوئی نہ ہو تو ایسی بات دل میں دبی رہ جاتی ہے۔ ایسے میں وہ شخص بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

طویل مدت تک جب ایسے خیالات پریشان کرنے لگتے ہیں تو بدن کا کیمیائی توازن بگڑ جاتا ہے اور وہ بیماری کا روپ اختیار کرنے لگتا ہے۔ اس کے علاج کے لئے معقول دوائیں ، سائیکوتھیرپی اور معمول زندگی لازمی ہے۔

اگر بیماری کا ابتدائی دو رہے تو کاؤنسلنگ اور معمول زندگی سے بھی آرام مل جاتا ہے، لیکن اگر آرام نہیں ملے تو پھر ماہر نفسیات سے مل کر صحیح علاج کرانا چاہئے۔ صحیح معمول زندگی سے مراد معقول غذا، ورزش اور پوری نیند سے ہے۔