بچیوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ان کے تحفظ پر بھی دھیان دیں

اب تک اس بات کا رونا تھا کہ مسلم گھروں میں لڑکیوں کی تعلیم کا اہتمام نہیں لیکن اب تعلیم پر پوری توجہ ہے پھر بھی معاشرہ محبت کرنے والی ماؤں، وفا شعار بیویوں اور سلیقہ مند بہن و بیٹیوں سے محروم ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

معصوم زہرا

ہم بچیوں کی تعلیم و تربیت میں اس قدر مگن ہوجاتے ہیں کہ کئی بار ان کی حفاظت کا پہلو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بطور صنف نازک ایک ماں کے جذبات ہم سے اچھا بھلا کوئی سمجھ سکتا ہے؟ لیکن اس جذباتی لگاؤ سے زیادہ آگہی ضروری ہے کیونکہ تربیت کے ساتھ بیٹی کی حفاظت ضروری ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلا کردار ماں ہی ادا کرتی ہے، بچیاں محفوظ ہوں گی تو ان کی بہترین تربیت کا خواب پورا ہوسکے گا۔ بچیوں کے مسائل پر ہی نہیں بلکہ ان کی تمام حرکات و سکنات پر نظر رکھیں اور جہاں کہیں کچھ بھی غیر معمولی ہو ان سے پیار محبت سے پوچھنے کی کوشش کریں۔ اگر چہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اساتذہ، والدین کا دوسرا روپ ہوتے ہیں لیکن آپ کو اس بات پر آنکھیں بند کرکے اندھا اعتماد نہیں کرنا۔ یہ دیکھیں کہ جن اساتذہ کو آپ اپنی بچیوں کے لیے منتخب کر رہی ہیں وہ بھروسے کے قابل ہیں بھی یا نہیں۔ ہم اکثر یہ سنتے ہیں کہ فلاں بچی کے ساتھ اساتذہ نے غیر مناسب رویہ رکھا یا فلاں نے بچیوں کے ساتھ زیادتی کی۔ کچھ عرصہ قبل کسی سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ ان کے رشتہ دار اپنی بچی کا خوف سمجھنے سے قاصر تھے لیکن جب وہ ان کے گھر ملاقات کے لیے گئے تو اپنی دور اندیشی کی بدولت بھانپ گئے کہ بچی کو خوف کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے ٹیوٹر سے ہے۔

اب تک اس بات کا رونا تھا کہ مسلم گھروں میں لڑکیوں کی تعلیم کا اہتمام نہیں لیکن اب تعلیم پر پوری توجہ ہے پھر بھی معاشرہ محبت کرنے والی ماؤں، وفا شعار بیویوں اور سلیقہ مند، دین پسند بہن بیٹیوں سے محروم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ ضرور دی لیکن غلط ڈھنگ پر، والدین مطمئن ہیں کہ انھوں نے اپنی بچیوں کو پڑھنے میں لگا دیا مگر پھر اس کی فکر نہیں کہ وہ کیا پڑھ رہی ہیں اور ان کو جو ماحول مل رہا ہے وہ کس قدر ساز گار ہے؟

بچیوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ان کے تحفظ پر بھی دھیان دیں

تعلیم کے ساتھ تربیت کے اس فقدان کو گھر کے ماحول میں دور کیا جا سکتا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ جتنی اچھی تربیت والدین کر سکتے ہیں دوسرا کوئی نہیں کرسکتا بشرطیکہ انھیں اس کا احساس ہو اور پوری فکر بھی، پرانے دور میں جب تعلیم کی کمی تھی، والدین میں یہ احساس پوری شدت سے کار فرما تھا، تربیت کے معاملے میں کسی طرح کی تساہلی یا بے اعتنائی گوارا نہیں کی جاتی تھی، چنانچہ اس وقت کی لڑکیاں امور خانہ داری میں ماہر بھی ہوتی تھیں اور ساتھ ہی ان میں حد درجہ کا تحمل بھی ہوتا تھا، اچھی بری بات برداشت کرنے کا غیر معمولی مادہ ہوتا تھا، وہ جس گھر اور ماحول میں جاتی تھیں اپنے آپ کو اس رنگ میں رنگ لیتی تھیں، ان کی کسی بات سے اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا تھا، کوئی بات مرضی کے خلاف ہوتی تو خندہ پیشانی سے برداشت کرتی تھیں۔

لیکن آج کل کی لڑکیاں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان خوبیوں سے تہی دامن ہیں، اعلی ٰاخلاقی قدروں کا ان میں فقدان ہے، وہ اپنی مرضی کے خلاف چھوٹی سی بات بھی گوارا نہیں کر سکتیں، سسرال والوں کی کمزوریوں کو تلاش کرنا پھر اس کو اچھالنا ان کی عادت سی بنتی جا رہی ہے۔ اگر اپنے ساتھ جہیز کی لعنت لے کر آئی ہیں تو اس کا غرور اس کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ آج کل کی لڑکیوں کا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزرتا ہے، اور اگر گھر میں رہتی ہیں تو اکثر موبائل فون پر مصروف رہتی ہیں۔

یورپ و امریکہ اور مغرب زدہ گھرانوں کی حالت ہمارے سامنے ہے، جہاں لڑکیوں کی تعلیم کا گراف سب سے اونچا ہے، تقریباً سبھی لڑکیاں پڑھی لکھی ہوتی ہیں، لیکن اخلاقی انارکی، نفسانیت اور عریانیت کی وبا ان میں بالکل عام ہے۔ اس لئے بچوں کو بچپن سے ہی تربیت دیں کہ جس طرح ان کی اپنی پرائیویسی ہے، اسی طرح دوسروں کی بھی ہے۔ چاہے بہن بھائی ہی کیوں نہ ہوں کوئی بھی کام کرنے سے قبل ایک دوسرے سے اجازت لیں مثلاً بھائی بہن کے کمرے میں اجازت لے کر جائے، اسی طرح بہن بھی مختلف باتوں کی اجازت لے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ خود یہ عمل کرکے دکھائیں مثلاً جہاں بیٹیاں بیٹھی ہوں اس حصے میں جاتے ہوئے ان سے اجازت لیجیے۔

بچیوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ان کے تحفظ پر بھی دھیان دیں

والدین کے سبب اکثر وبیشتر بچوں یا بچیوں کو ملازم کے سپرد کر جاتے ہیں۔ اگر آپ کا بچہ یا بچی کسی بڑے کے ساتھ کہیں باہر جانے میں یا تنہائی میں وقت گزارنے میں ہچکچائے تو کبھی بھی اس کو مجبور نہ کریں بلکہ وجہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی نظر رکھیں کہ اسے کہیں بڑی عمر کے کسی مخصوص شخص کی صحبت تو پسند نہیں۔

صرف بچے ہی نہیں بلکہ ہم میں سے کتنے ہی بڑے ایسے ہوں گے، جو یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آپ کے باڈی رائٹس کیا ہیں؟ آپ نے کتنے فاصلے پر رہ کر کسی سے بات کرنی ہے؟ کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بطور ماں آپ کا فرض ہے کہ آپ بچیوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ سے آگاہ کریں۔ بیڈ ٹچ اور گڈ ٹچ سے متعلق آگہی فراہم کرنا اساتذہ یا میڈیا کا ہی نہیں آپ کا بھی کام ہے۔ بچوں سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے شرمندگی محسوس نہ کریں، انھیں بتائیں کہ جسم کے مخصوص حصوں کو چھونے کی اجازت کسی کو بھی نہ دیں۔ بلاوجہ کسی کی گود میں بیٹھنے سے گریز کریں، پیار لینے سے ہی نہیں کسی کو بھی پیار کرنے یا چاکلیٹ لینے سے بھی گریز کریں۔ بچوں اور بچیوں کو اکیلے کمرے میں ہرگز ساتھ نہ سلائیں۔