فیفا عالمی کپ: عثمان ڈیمبیلے کی ہیٹ ٹرک، فرانس نے ناروے کو بہ آسانی 1-4 سے دی شکست، 32 سال بعد بنا ایک نیا ریکارڈ
عثمان ڈیمبیلے عالمی کپ تاریخ میں پہلے ہاف کے اندر ہی ہیٹ ٹرک پوری کرنے والے دنیا کے چنندہ کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ اب تک عالمی کپ کی تاریخ میں صرف چھٹی بار یہ کارنامہ دیکھنے کو ملا ہے۔

’فیفا عالمی کپ 2026‘ میں فرانس کے اسٹار فارورڈ عثمان ڈیمبیلے نے تاریخ کے صفحات میں اپنا نام درج کرا لیا ہے۔ انھوں نے تاریخی ہیٹ ٹرک لگائی ہے، جس کی بدولت ’گروپ-آئی‘ کے اپنے آخری مقابلے میں فرانس نے ناروے کو 4-1 سے بہ آسانی شکست دے دی۔ جلیٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے کے اصل ہیرو موجودہ بیلن ڈی اور فاتح ڈیمبیلے رہے، جنہوں نے میچ کے پہلے ہاف میں صرف 32 منٹ کے اندر 3 جادوئی گول داغ کر تہلکہ مچا دیا۔ اس مقابلے کو کیلیان ایمباپے بمقابلہ ایرلنگ ہالینڈ مانا جا رہا تھا، لیکن ہالینڈ کو بنچ پر آرام دیے جانے کے بعد ڈیمبیلے نے پوری محفل لوٹ لی۔
عثمان ڈیمبیلے عالمی کپ کی تاریخ میں پہلے ہاف کے اندر ہی ہیٹ ٹرک مکمل کرنے والے دنیا کے منتخب کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ عالمی کپ کی تاریخ میں صرف چھٹی بار یہ کارنامہ دیکھنے کو ملا۔ ساتھ ہی 1994 کے بعد فٹ بال کے اس سب سے بڑے اسٹیج پر یہ کارنامہ انجام دینے والے وہ پہلے کھلاڑی ہیں۔ ان سے پہلے 1994 کے عالمی کپ میں روس کے اولیگ سالینکو نے کیمرون کے خلاف پہلے ہاف میں 3 گول داغے تھے۔
علاوہ ازیں میچ کے آغاز سے صرف 32 منٹ میں ہیٹ ٹرک مکمل کرنا عالمی کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ہیٹ ٹرک ہے۔ اس معاملے میں سرفہرست آسٹریا کے ایرش پروبسٹ ہیں، جنہوں نے 1954 میں چیکوسلواکیہ کے خلاف ابتدائی 24 منٹ میں ہیٹ ٹرک بنائی تھی۔ ساتھ ہی ڈیمبیلے اب جسٹ فونٹین (1958 میں 2 بار) اور کیلیان ایمباپے (2022) کے بعد عالمی کپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے تاریخ کے صرف تیسرے فرانسیسی کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔
بہرحال، ناروے پر ملی اس جیت کے ساتھ فرانس کی ٹیم ’گروپ-آئی‘ میں اپنے تینوں میچ جیت کر 9 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست رہی۔ ناروے کی ٹیم شکست کے باوجود 6 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے مقام پر رہتے ہوئے راؤنڈ آف 32 (ناک آؤٹ) میں پہنچ گئی ہے۔ اب آگے کے مقابلے انتہائی دلچسپ ہونے کی امید ہے۔ غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ ڈیمبیلے کی شاندار کارکردگی نے حریف ٹیموں کی تشویش بڑھا دی ہے، کیونکہ اب ناک آؤٹ مرحلے سے پہلے مخالف دفاعی کھلاڑی صرف ایمباپے کو روکنے کی حکمت عملی نہیں بنا پائیں گے، بلکہ ان کے سامنے ڈیمبیلے جیسا بڑا چیلنج بھی ہوگا۔
