کل کھیل میں ہم ہوں یا نہ ہوں پر ہم تمہارے رہیں گے ۔ ۔ ۔

بالی ووڈ سے ہالی ووڈ تک اپنی شاندار اداکاری سے مداحوں کو متحیر کردینے والے عرفان خان 29 اپریل کواس دنیا سےکوچ کر گئے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سال 2020 جہاں کورونا وائرس کے سبب پوری دنیا کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا ہے وہیں یہ سال بالی ووڈ فلم انڈسٹری کے لیے بھی کسی صدمے سے کم نہیں۔لاک ڈاؤن کے دوران بالی ووڈ نے باسو چٹرجی،رشی کپور،عرفان خان،واجد خان،یوکیش گوڑ،سشانت سنگھ راجپوت اور اب سروج خان جیسے کئی چمکتے ستاروں کو کھو دیا ہے۔

سال 2020میں بالی ووڈ انڈسٹری کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی ہو۔یکے بعد دیگرے بہترین فنکاروں نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔سشانت سنگھ تاجپوت کے جانے کا غم ابھی ہلکا بھی نہیں ہوا تھا کہ کل معروف کوریو گرافر سروج خان کا انتقال ہوگیا۔

بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے بالی ووڈ میں سبھی اسٹارس کو اپنی تال پر نچانے والی ڈانس ملکہ سروج خان ، 03 جولائی کو اس دنیا سے کوچ کرگئیں۔ سروج خان نے صرف تین سال کی عمر سے بطور چائلڈ آرٹسٹ فلموں میں کام کرنا شروع کردیا تھا۔ ان کی پہلی فلم نظرانہ تھی۔ سروج خان نے 1974 میں ریلیز ہونے والی فلم’ گیتا میرا نام‘ سے آزادانہ کوریوگرافر کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ سروج خان کی جوڑی سری دیوی اور بعد میں مادھوری دکشت کے ساتھ کافی اچھی ثابت ہوئی ۔بالی ووڈ میں شاید ہی ایسا کوئی بڑا اسٹار ہو جسے سروج نے رقص نہ کرایا ہو۔ ہر کسی کو اپنی تال پر نچانے والی سروج ،آج پورے ملک میں ڈانس ماسٹر کے نام سے معروف ہیں۔

فلمی پردے پر 50 اور 60کی دہائی میں اپنا جلوہ بکھیرنے والی نمّی نے اس سال کے آغاز میں دنیا کو الوداع کہہ دیا۔نمی نے اپنے فلمی سفر کی شروعات راج کپور کی فلم’برسات‘سے سال 1949 میں کی تھی۔نمی نے اپنے چار دہائی طویل کیریئر میں تقریباً 50فلموں میں اداکاری کی۔نمی کے کیریئر کی اہم فلمیں آن،امر،کندن،بھائی بھائی،انجلی،بسنت بہا،ر،چار دل چار راہیں،میرے محبوب اور آکاش ہیں۔

بالی ووڈ سے ہالی ووڈ تک اپنی شاندار اداکاری سے مداحوں کو متحیر کردینے والے عرفان خان 29 اپریل کواس دنیا سےکوچ کر گئے۔وہ طویل عرصہ سے کینسر میں مبتلا تھے اور ان کا علاج بیرون ملک میں ہوا تھا۔عرفان نے اپنے فلمی سفر کاآغاز سال 1988 میں ریلیز میرا نائر کی فلم ’سلام بامبے‘سے ایک چھوٹھے سے رول کے ساتھ کیا تھا۔سال 2011 میں ہندوستانی حکومت نے عرفان خان کو پدم شری سے نوازا۔

عرفان خان کی موت سے لوگ ابھی سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ اس کے اگلے ہی روز 30 اپریل کو معروف اداکار رشی کپور کا انتقال ہوگیا۔وہ بھی کینسر ہی سے متاثر تھے۔1973 میں اپنے والد راج کپور کے بینر تلے بنی فلم’بابی‘سے بطور اداکار رشی کپور نے اپنا کیریئر شروع کیا۔اس کے بعد رشی کپور نے چار دہائیوں تک اپنی اداکاری سے لوگوں کو تفریح فراہم کی۔

اپنے تیار کردہ نغموں سے سامعین میں انمٹ نقوش چھوڑنے والے یوگیش گوڑ کا 29 مئی کو انتقال ہوگیا۔ یوگیش نے ساٹھ اور ستر کی دہائی کے دوران ہندی سنیما کو بہت سارے بہترین نغمے دئے۔ ان میں راجیش کھنہ کی سپر ہٹ فلم آنند کے ’کہیں دورجب دن ڈھل جائے‘ اور 'زندگی کیسی ہے پہیلی‘ جیسے کلاسیکی نغمےشامل ہیں۔

بہترین موسیقی اور کھنکتی آواز سے سامعین کو دیوانہ بنانے والی موسیقار جوڑی ساجد-واجد کے واجد خان کا یکم جون کو انتقال ہوگیا۔واجد خان نے اپنے بھائی ساجد خان کے ساتھ اپنے کیریئر کی شروعات 1998 میں ریلیز ہوئی سلمان خان کی سپر ہٹ فلم’پیار کیا تو ڈرنا کیا‘سے کی تھی۔فلم دبنگ میں اپنے دمدار میوزک کے لئے انہیں 2011 میں فلم فیئر اوارڈ سے بھی نوازہ گیا۔

بالی ووڈ کے معروف نغمہ نگار انور ساگر کا 3جون کو انتقال ہوگیا۔انور نے 80،90 کی دہائی میں بالی ووڈ کی متعدد فلموں کے لیے گانے لکھے ہیں۔اکشے کمار کی سپر ہٹ فلم ’کھلاڑی‘میں انور ساگر کا لکھا نغمہ۔’وعدہ رہا صنم‘آج بھی لوگوں کی زبان پر رہتا ہے۔’یہ دعا ہے میری رب سے‘’عاشقی میں ہر عاشق ہوجاتا ہےمجبور‘’کبھی بھولا کبھی یاد کیا‘وغیرہ سیکڑوں کامیاب نغمے انور کے نام ہیں۔گدگداتی رومانٹک فلمیں بنانے والے باسو چٹر جی کا بھی انتقال 04جون کو ہوگیا۔باسو دا نے اپنے کیریئر کا آغاز بلٹس رسالہ سے بطور کارٹونسٹ کیا تھا۔

ہندوستانی متوسط طبقہ کی الجھنوں اور مسائل کو پردے پر پیش کرنے کے فن میں ماہر باسو چٹرجی نے ’چھوٹی سے بات‘’باتوں باتوں میں‘’کٹھا میٹھا‘’چمیلی کی شادی‘’رجنی گندھا‘’چت چور‘’پیا کا گھر‘’سارا آکاش‘’سوامی‘اور’شوقین جیسی ایک سے بڑھ کر ایک فلمیں بنائیں۔دوردرشن کے لئے انہوں نے ’رجنی‘’درپن‘’ککا جی کہِن‘اور بیوم کیش بخشی‘ جیسے سیریلوں کو تیار کیا۔

بطور ڈانسر اپنے کیریئر کی شروعات کر کے ٹی وی انڈسٹری کے ساتھ ہی فلم انڈسٹری میں اپنی اداکاری کا لوہا منوانے والے سشانت سنگھ راجپوت کی بھی 14جون کو موت ہوگئی۔ زی ٹی وی شو 'پوتر رشتہ' سشانت کے کیریئر کے لئے سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کے بعد وہ ڈانس رئیلٹی شو’ ذرا نچ کے دکھا-2‘ اور ’جھلک دکھلا جا 4‘ میں بھی نظر آئے۔ کم وقت میں ہی ٹیلی ویژن کے بڑے اسٹار بن چکے سشانت نے’کائے پوچے‘ ’شدھ دیسی رومانس‘’پی کے‘’ویوم کیش بخشی‘’ایم ایس دھونی: دی انٹولڈ اسٹوری‘’ رابتا‘’کیدارناتھ ‘’ سون چریّا اور چھچھور ےجیسی فلموں میں بھی کام کیا۔

ان سب کے ساتھ ہی مقبول سیریل’رامائن‘میں سوگریو کا کرداد ادا کرنے والے شیام سندر کلانی۔موہت بگھیل۔فلم ساز انل سوری،ٹی وی فنکار منمیت گریوال،سچن کمار سائی گنڈیور،شفیق انصاری،رنجیت چودھری سمیت متعدد ستاروں نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔

Published: 4 Jul 2020, 7:31 AM
next