ہمسائے ماں جائے: ایٹم بموں کو ’چولہے‘ میں رکھ کر ’ٹھمکے‘ لگانے کی خواہش!

پاکستان کی اداکارہ بہنیں بشری انصاری اور اسماء عباس کا گانا تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، ایک بہن ہندوستانی کردار میں ہے تو دوسری پاکستانی، دونوں بہنیں ایٹم بموں کو چولہے میں جھونکنے کی بات کر رہی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

تقسیم ہند کے بعد جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے دونوں کے درمیان لاکھ مسائل ہونے کے باوجود دونوں ہی ممالک کے عوام ایک دوسرے کو ہمیشہ پسند کرتے رہے ہیں۔ ان دونوں ہمسایہ ممالک کے لوگوں کی ہمیشہ یہی خواہش رہتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں جانیں کہ وہاں کے لوگ کیا کر رہے ہیں، کیا سوچ رہے ہیں، کیا کھا پی رہے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں! انہی جذبات کی عکاسی کرتا ایک گانا سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

گانا ہندوستان اور پاکستان کے ایک بڑے علاقہ میں بولی اور متعدد علاقوں میں سمجھی جانے والی پنجابی زبان میں ہے۔ گانے کے ذریعہ پاکستان کی تین بہنوں نے پیغام دیا گیا ہے کہ چاہے پاکستان ہو یا ہندوستان دونوں ممالک کے عوام  ایٹمی جنگ کے خلاف ہیں اور وہ مل کر امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ گانے میں دو بہنیں بشری انصٓری اور اسماء عباس ہندوستانی اور پاکستانی خاتون کے طور پر نظر آتی ہیں جبنکہ تیسری بہن نیلم احمد بشیر جو کہ ایک شاعرہ ہیں، انہوں نے اس گانے کو تخلیق کیا ہے۔

گانے کو دیکھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں:

گانے میں بشری انصاری نے ماتھے پر بندی اور مانگ میں سندور لگایا ہوا ہے اور وہ ایک ہندوستانی خاتون کے کردار میں ہیں جبکہ اسماء عباس پاکستانی خاتون بنی ہیں۔ گانا بات چیت کے انداز میں ہے جس میں وہ ایک دوسرے سے سوال و جواب کر رہی ہیں۔ دونوں خواتین ایک دیوار کی آڑ سے اپنے مسائل اور خدشات کے ساتھ محبتوں کا اظہار کرتی ہیں۔ آخر میں دونوں خواتین اپنے دوپٹے ایک دوسرے سے تبدیل کر لیتی ہیں۔

ان دنوں عام انتخابات کا شور ہے اور انتہا پسند ہر اس چھوٹی سی چھوٹی چیز کو ڈھونڈ کر منظر عام پر لا رہے ہیں جس کی مدد سے اقلیتوں اور پاکستان کا نشانہ بنایا جا سکے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی تین بہنوں کی مشترکہ کاوشوں سے تخلیق کردہ ’ہم سائے ماں جائے‘ گانا روح کو سکون بخشتا ہے اور یہ یقین دلاتا ہے کہ محبت کا جذبہ کبھی نفرتوں سے ہار نہیں سکتا اور امید کا ننہا پودا وقت آنے پر پتھروں اور چٹانوں کو چیرتا ہوا بھی نمودار ہو سکتا ہے۔

’ہمسائے ماں جائے‘ کو بشری انصاری کی بڑی بہن شاعرہ نیلم احمد بشیر نے پنجابی میں لکھا ہے جبکہ ان کی چھوٹی بہن اداکارہ اسماء عباس اور خود بشری انصاری نے اسے گایا اور پرفارم کیا ہے۔
یو ٹیوب گریب
یو ٹیوب گریب

اس گانے کے حوالے سے بی بی سی سے گفتگو میں بشری انصاری نے کہا کہ ’’عوام کے دل ایک دوسرے سے دور نہیں ہیں۔ اُن میں ملنے جلنے کا جذبہ ہے البتہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کی کچھ مصلحتیں ہیں۔

بشری نے ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک سے سوشل میڈیا پہ لوگوں کے مثبت ردعمل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’سب لوگوں کو ایسا لگا کہ یہ ان کی روح کی آواز ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ گانا سن کر اپنے آنسو نہیں روک سکے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ وڈیو پر بیجا ٹرولنگ سے بچنے کے لیے انہوں نے کمنٹ بکس بند کر رکھا ہے۔

بشری نے کہا، ’’دونوں ملکوں کے عوام اور اس خطے کے لیے ہم نے ایک سچ بات کی ہے۔ تو اگر کوئی ذہنی طور پر بیمار یا پریشان ہے تو میں نے اُس کی بات نہیں سُنّی۔‘‘

ویڈیو میں دونوں فنکاروں کے دوپٹے تبدیل کرنے لینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بشری انصاری نے کہا کہ ’’دونوں معاشروں میں دوپٹہ اور پگڑی عزت کی علامت سمجھے جاتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے چنیاں بدلنے کا مطلب ہے ایک دوسرے کو پیار دینا۔‘‘

’ہم سائے ماں جائے‘ گانے کو ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک کے عوام کافی پسند کر رہے ہیں، پیش ہیں کچھ لوگوں کی طرف سے کیے گئے مثبت تبصرے۔

Published: 6 Apr 2019, 7:10 PM