ریویو: ’اُڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک‘، ڈائریکٹر کی محنت کے باوجود بے اثر رہنے والی فلم

مؤثر اداکاروں اور کاسٹنگ کے باوجود کسی کہانی کی غیر موجودگی میں یہ ایک ڈاکومینٹری نما بوریت بھڑی فلم ہے۔ بس دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں کرداروں کو بہت اچھی طرح سے پیش کیا گیا ہے۔

پرگتی سکسینہ

کچھ مہینے پہلے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں جن میں فوج کے جوانوں کی بدحالی ظاہر کی گئی تھی اور اب یہ فلم آئی ہے جس میں فوج کے ایک سیکریٹ آپریشن کی عظمت بیان کی گئی ہے...اور کچھ ہو نہ ہو لیکن ہمارا انڈیا ضرور المیہ کی نذر ہو گیا ہے۔

’یہ جو انڈیا ہے نا، چپ نہیں بیٹھے گا، گھر میں گھسے گا بھی اور مارے گا بھی...‘ حالانکہ یہ فلم ایسا کہتی نظر آتی ہے (یہ ڈائیلاگ اسی فلم کا ہے) لیکن یہ سوال دماغ میں گردش کرتا رہتا ہے کہ یہاں ہم کون سے نئے انڈیا کی بات کر رہے ہیں؟ اس انڈیا میں تو ہم اپنے پڑوسی کے گھر میں اسے پیٹ پیٹ کر مار رہے ہیں، دشمن کے گھر میں گھسنے کی تو بات کہیں نظر ہی نہیں آتی!

ایک سوال اور کھڑا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آخر فوج کے ایک خفیہ آپریشن کی ستائش میں فلم بنائی ہی کیوں جائے؟ ہاں، فوج کے جوانوں اور ان کی زندگی پر مبنی فلم بنے تو وہ شاید زیادہ دلچسپ بن سکتی ہے۔ لیکن ’اُڑی..‘ ایک بوریت بھری اور سست فلم ہے، جس میں بدقسمتی سے اچھے اداکار موجود ہیں۔ وکی کوشل ایک بہترین اداکار ہیں لیکن کہانی ہی نہیں ہوگی تو بہترین اداکار بھی کیا کر سکتا ہے!سرجیکل اسٹرائیک کے علاوہ کوئی بات نہ ہونے کی وجہ سے ہیرو کا انتقال لینے کا احساس ایک بے حد کمزور کہانی میں ڈال دیا گیا جو اسے دلچسپ بنانے میں ناکام رہتا ہے۔

ہندوستانی جاسوس نشہ میں دھت پاکستانی افسر سے سیکریٹ انفارمیشن نکلواتا ہے، یہ مظر بے حد غیر سنجیدہ اور فلم سے الگ تھلگ نظر آتا ہے۔ ایک ہائی پروفائل ڈاکومینٹری کی طرح آگے بڑھنے والی اس فلم میں حالانکہ ایکشن کے مناظر زبردست ہیں لیکن وہ اتنی زیادہ تعداد میں ہیں کہ انٹرول تک آتے آتے بوریت ہونے لگتی ہے۔

سوروپ سمپت ایک مختصر رول میں ہیں لیکن مؤثر ہیں۔ وہ اصل معنی میں اپنے شوہر (پریش راول) سے کہیں زیادہ اچھی اداکار ہیں۔ ایک ٹی وی سیریل میں ہندو دیوتا شنکر کا کردار ادا کر چکے موہت رانا کی یہ پہلی فلم ہے۔ ان کی اسکرین پر پرزینس غضب کی ہے، انہیں احتیاط سے فلمیں اور کردان انتخاب کرنے چاہیں ورنہ قابل اداکار کو بالی ووڈ میں برباد ہوتے دیر نہیں لگتی۔

صرف ایک بات دلچسپ ہے، اصل زندگی کے کردار اس میں اتنے حقیقی نظر آتے ہیں کہ ان کے نام نا بھی بتائے جائیں تو بھی آپ انہیں پہچان سکتے ہیں۔ این ایس اے کے سربراہ اجیت ڈووال، سابق وزیر دفاع منوہر پاریکر اور وزیر اعظم نریندر مودی کی منظر کشی حقیقت کے بے حد قریب نظر آتی ہے، یعنی ڈائریکٹر نے محنت تو کی ہے مگر افسوس کہانی کی غیر موجودگی میں کسی بھی طرح کی محنت ضائع ہی ہوتی ہے۔

اگر ہم ہالی ووڈ کی طرز پر حب الوطنی پر مبنی فلمیں بنا رہے ہیں تو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہالی ووڈ نے ’ہرٹ لاکر‘، ’اے فیو گڈ مین‘ اور ’گڈ مارننگ ویتنام‘ جیسی کئی یادگار فلمیں دی ہیں جو جنگ کے خلاف اور انسانیت کا درس دینے والی ہیں۔

دراصل ہمارے یہاں حقیقی زندگی اور واقعات پر مبنی فلمیں بنانے کا چلن نیا نیا پیدا ہوا ہے۔ آج تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور موجودہ وقت کے واقعات اور افراد کی شان میں کشیدے پڑھنا عام ہو چلا ہے۔ یہاں تک کہ تاریخ میں افسانوں اور جھوٹے قصوں کی یا تو ملاوٹ کی جا رہی ہے یا پھر مرضی کے مطابق ان شکل بگاڑ دی جاتی ہے۔

تو اب جبکہ فوج کے خفیہ آپریشنز پر فلمیں بنائی جا رہی ہیں (پرمانو بھی ایک ایسی ہی فلم تھی) تو امید کی جا سکتی ہے کہ فوج میں بڑھتے خودکشی کے معاملات پر بھی کوئی فلم بنائی جائے گی۔ یہ بھی تو آخر کار فوج اور ایک نئے انڈیا کا المناک پہلو ہے!