’چرا لیا ہے تم نے جو دل کو‘ پنچم دا کی آواز آج بھی ذرے ذرے میں گونج رہی ہے

آر ڈی برمن نے بطور موسیقار اپنے فلمی سفر کا آغاز سال 1961 میں اداکار محمود کی فلم ’’چھوٹے نواب‘‘ سے کیا تھا لیکن اس فلم سے انہیں کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوئی۔

فائل تصویر آئی اے این ایس 
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

بالی ووڈ میں اپنی شیریں موسیقی سے سامعین کے دلوں پرجادو کرنے والے عظیم موسیقارراہل دیو برمن عرف آر ڈی برمن آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن آج بھی ان کی آواز سن کر سامعین کے دل سے بس ایک ہی صدا نکلتی ہے’’چرا لیا ہے تم نے جو دل کو.....‘‘۔

آر ڈی برمن کی پیدائش 27 جون 1939 کو کلکتہ میں ہوئی۔ ان کے والد ایس ڈی برمن مشہور فلمی موسیقار تھے۔گھر میں موسیقی کا ماحول ہونے کی وجہ سے ان کا رجحان بھی موسیقی کی جانب ہو گیا۔ انہوں نے اپنے والد سے موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ استاد علی اکبر خان سے سرودکی تعلیم حاصل کی۔

فلم انڈسٹری میں آر ڈی برمن کو پنچم نام اس وقت ملا جب انہوں نے اداکار اشوک کمار کو موسیقی کے پانچ سر’ سارے گاماپا ‘گا کر سنایا۔ نو برس کی چھوٹی سی عمر میں پنچم دا نے اپنی پہلی دھن’’ا ے میری ٹوپی پلٹ کے آ‘‘ بنائی ۔ بعدازاں ان کے والد سچن دیو برمن نے اس دھن کا استعمال 1956 میں ریلیز ہونے والی فلم فنٹوش میں کیا۔ علاوہ ازیں ان کی تیار کردہ دھن’’ سر جو تیراچکرائے‘‘ بھی گرودت کی فلم ’’پیاسا‘‘ میں استعمال کی گئی۔

آر ڈی برمن نے فلمی کیریئر کا آغاز اپنے والد کے ساتھ بطورمعاون موسیقار کے طور پر کیا۔ ان فلموں میں’’ چلتی کا نام گاڑی( 1958) اور کاغذ کے پھول (1959) جیسی سپر ہٹ فلمیں بھی شامل ہیں۔ بطور موسیقار انہوں نے اپنے فلمی سفر کا آغاز سال 1961 میں اداکار محمود کی فلم ’’چھوٹے نواب‘‘ سے کیا تھالیکن اس فلم سے انہیں کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوئی۔

فلم چھوٹے نواب کیلئے محمود موسیقار ایس ڈی برمن کو لینا چاہتے تھے لیکن ان کی ایس ڈی برمن سے کوئی جان پہچان نہیں تھی۔آر ڈی برمن چونکہ ایس ڈی برمن کے بیٹے تھے لہٰذا محمود نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بارے میں آر ڈی برمن سے بات کریں گے۔

ایک دن محمودآرڈی برمن کو اپنی گاڑی میں بٹھا کرسیرو تفریح کے لئے نکل گئے۔ سفر اچھا تھا‘ اس لئے آر ڈی برمن اپنا ماؤتھ آرگن نکال کر بجانے لگے۔ ان کی دھن سے محمود اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے ایس ڈی برمن کے بجائے آر ڈی برمن کو اپنی فلم چھوٹے نواب میں موسیقی دینے کا موقع فراہم کیا۔

دریں اثناآر ڈی برمن نے اپنے والد کے ساتھ بطورمعاون موسیقار، فلم بندنی (1963) تین دیویاں(1965) اور گائیڈ جیسی فلموں کے لیے بھی موسیقی دی۔ پنچم دابطور موسیقار کسی حد تک 1965 میں ریلیز ہونے والی فلم بھوت بنگلہ سے فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔اس فلم کا گانا’’آؤ ٹوسٹ کریں‘‘ سامعین میں بہت مقبول ہوا۔

آر ڈی برمن نے فلم انڈسٹری میں قدم جمانے کے لئے تقریباً 10برسوں تک کافی محنت و مشقت کی۔فلم ساز وہدایت کارناصر حسین کی فلم’’تیسری منزل‘‘ (1966)کاسپر ہٹ گانا ’آجا آجا میں ہوں پیار ترا ‘ اور ’او حسینہ زلفوں والی‘ جیسے سدابہارنغموں نے انہیں شہرت کی بلندیوں پرپہنچادیا۔

سال 1972 پنچم دا کے فلمی کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس سال ان کی موسیقی کا جادوفلم سیتا اور گیتا، میرے جیون ساتھی، بامبے ٹو گوا ، پریچے اور جوانی دیوانی جیسی کئی فلموں میں چھایا رہا۔ پنچم دا نے 1975 میں رمیش سپی کی سپر ہٹ فلم شعلے میں ’’محبوبہ محبوبہ‘‘ گاکر الگ سماں باندھا جبکہ آندھی، دیوار، اور خوشبو جیسی کئی فلموں میں ان کی موسیقی کا جادو سامعین کے سرچڑھ کر بولا۔

موسیقی کے شعبہ میں تجربہ کرنے میں مہارت رکھنے والے آر ڈی برمن مشرق و مغرب کی موسیقی کے امتزاج سے نئی دھن تیار کرتے تھے۔حالانکہ اس کے لئے انہیں تنقیدکا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس جدیدطرز کی موسیقی میں گلوکاری کرنے کے لیے انہیں ایک ایسی آواز کی تلاش تھی جو ان کی موسیقی سے ہم آہنگ ہو۔ یہ آواز انہیں معروف گلوکارہ آشا بھونسلے میں ملی۔ فلم تیسری منزل کے لئے آشا بھونسلے نے آجا آجا میں ہوں پیار ترا‘ او حسینہ زلفوں والی اور او میرے سونا رے سونارے جیسے نغمے گائے۔ ان گیتوں کے ہٹ ہونے کے بعد آر ڈی برمن نے اپنی موسیقی میں پلے بیک سنگنگ کے لئے آشا بھونسلے کا ہی انتخاب کیا۔پنچم دا اور آشا بھوسلے گیت اور موسیقی میں کافی دنوں تک ایک دوسرے کا ساتھ نبھاتے نبھاتے بالآخر زندگی بھر کے لیے ایک دوسرے کے ہوگئے اور اپنے سپر ہٹ نغموں سے سامعین کو مسحور کرتے رہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین
next