نصیر الدین شاہ نے آرٹ فلموں کو نئی بلندی پر پہنچایا

90کی دہائی میں نصیر الدین نے ناظرین کی پسند کے پیش نظر چھوٹے پردے کا بھی رخ کیا اور سال 1988 میں گلزار کی ہدایت میں بنے سیریل’ مرزا غالب‘ میں اداکاری کی

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

بالی ووڈ میں نصیر الدین شاہ ایسے ستارے کی طرح ہیں جنہوں نے مضبوط اداکاری سے متوازی سنیما کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ فلموں میں خاص شناخت بنائی ہے۔

20 جولائی 1950 کو اتر پردیش کے بارہ بنکی میں پیدا ہوئے نصیر الدین شاہ نے ابتدائی تعلیم اجمیر اور نینی تال سے مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے گریجویشن کی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ سال 1971 میں اداکار بننے کا خواب لیے انہوں نے دہلی کے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلہ لیا۔

سال 1975 میں ان کی ملاقات مشہور فلم ساز اور ڈائریکٹر شیام بینیگل سے ہوئی۔ شیام بینیگل ان دنوں فلم ’نشانت‘ بنانے کی تیاری کر رہے تھے۔اس ملاقات کے دوران مسٹر بینیگل نے نصیر الدین کو ایک ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر دیکھا اور اپنی فلم میں کام کرنے کا موقع دیا۔

سال 1976 نصیر الدین کے فلمی کیریئر کے لئے اہم ثابت ہوا۔ اسی سال ان کی بھومیکا اورمنتھن جیسی کامیاب فلمیں بھی ریلیز ہوئیں۔ دودھ انقلاب پر بنی فلم منتھن میں ناظرین کو ان کی اداکاری کے نئے رنگ دیکھنے کو ملے۔ اس فلم کی تیاری کے لیے گجرات کے تقریباً پانچ لاکھ کسانوں نے اپنی فی دن ملنے والی اجرت میں سےدو دو روپے فلم سازوں کو دیئے تھے۔ یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی۔

سال 1977 میں اپنے دوست بینجامن گیلانی اور ٹام الٹر کے ساتھ مل کر نصیر الدین نے موٹیلے پروڈکشن نامی ایک تھیٹر گروپ قائم کیا، جس کے بینر تلے سیموئل بیکٹ کی ہدایت میں پہلا ڈرامہ ’ویٹنگ فارگوڈوٹ‘ پرتھوي تھیٹر میں پیش کیا گیا۔
سال 1979 میں آئی فلم اسپرش، میں نصیر الدین کی اداکاری کا ایک نیا انداز ناظرین کو دیکھنے کو ملا۔ اس فلم میں اندھے شخص کا کردار اداکرنا کسی بھی اداکار کے لیے بہت بڑا چیلنج تھا،چہرے کے تاثرات سے ناظرین کو سب کچھ بتا دینا نصیر الدین کی اداکاری کی صلاحیت کی ایسی مثال تھی جسے شاید ہی کوئی اداکار دہرا پائے۔ اس فلم میں لاجواب اداکاری کے لیے انہیں بہترین اداکار کے قومی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
سال 1980 میں آئی فلم آكروش نصیرالدین شاہ کے فلمی کیریئر کی اہم فلموں میں سے ایک ہے۔گووند نہلانی کی ہدایت کرد ہ اس فلم میں نصیر الدین ایک ایسے وکیل کے کردار میں نظر آئےجو سماج اور سیاست کی پرواہ کئے بغیر ایک بے قصور شخص کو پھانسی کے پھندے سے بچانا چاہتا ہے۔ اگرچہ اسے کافی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سال 1983 میں نصیر الدین شاہ کو سئی پرانجپے کی فلم’ کتھا‘ میں کام کرنے کا موقع ملا ،فلم کی کہانی میں کچھوے اور خرگوش کی دوڑکو علامتی انداز میں دکھایا گیا تھا ۔فلم میں فاروق شیخ نے خرگوش کا کردار اداکیا تھا جبکہ نصیر الدین شاہ کچھوے کے کردارمیں تھے۔

سال 1983 میں نصیر الدین شاہ کے فلمی کیریئر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’جانے بھی دو یارو ‘ریلیز ہوئی۔ کندن شاہ کی ہدایت میں بنی اس فلم میں نصیر الدین کی اداکاری کا نیا رنگ دیکھنے کو ملا ۔اس فلم سے پہلے ان کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ صرف سنجیدہ کردار ادا کرنے کے ہی قابل ہیں لیکن اس فلم میں انہوں نے اپنی زبردست مزاحیہ اداکاری سے شائقین کو مسحور کر دیا ۔
سال 1985 میں نصیر الدین کے فلمی کیریئر کی ایک اور اہم فلم مرچ مسالا ریلیز ہوئی۔ ملک کی آزادی سے پہلے کے پس منظر پر بنی فلم مرچ مسالا نے ڈائریکٹر کیتن مہتا کو بین الاقوامی شہرت دلائی تھی۔یہ فلم جاگیردارانہ نظام کے درمیان پستي عورت کی جدوجہد کی کہانی بیان کرتی ہے۔
80 کی دہائی کے آخری برسوں میں نصیر الدین شاہ نے کاروباری سنیما کی طرف بھی اپنا رخ کر لیا۔ اس دوران انہیں ہیرو ہیرا لال، مالامال،جلوہ ،تریدیو جیسی فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا جن کی کامیابی سے نصیر الدین شاہ کو کاروباری سنیما میں بھی مقام حاصل ہوگیا۔
۔90کی دہائی میں نصیر الدین نے ناظرین کی پسند کے پیش نظر چھوٹے پردے کا بھی رخ کیا اور سال 1988 میں گلزار کی ہدایت میں بنے سیریل’ مرزا غالب‘ میں اداکاری کی۔اس کے علاوہ سال 1989 میں’ بھارت ایک کھوج ‘سیریل میں انہوں نے مراٹھا سورمہ شیواجی کے کردار کو متحرک کر کے ناظرین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔

اداکاری میں یکسانیت سے بچنے اور خود کو کیریکٹر آرٹسٹ کے طور پر بھی پیش کرنے کے لیے 90 کی دہائی میں انہوں نے خود کو مختلف کردار میں ڈھالا۔ اس ترتیب میں 1994 میں آئی فلم ’مرسا ‘ میں وہ ویلین کا کردار اداکرنے سے بھی نہیں ہچکچائے۔ اس فلم میں بھی انہوں نے ناظرین کا دل جیت لیا اور اسی فہرست میں انہوں نے ٹکر، ہمت، سرفروش اور کرش جیسی فلموں میں بھی ویلین کا کردار ادا کرکے شائقین کا دل جیت لیا۔
نصیر الدین شاہ کے فلمی کریئر میں ان کی جوڑی سمیتا پاٹل کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ انہیں اب تک تین بار بہترین اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے، ساتھ ہی وہ تین بار نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازے جاچکے ہیں۔فلم کے میدان میں ان کی قابل ذکر خدمات کے پیش نظر حکومت ہند کی جانب سےانہیں پدم شري اور پدم بھوشن ایوارڈ سے بھی نوازاگیا ۔
نصیر الدین شاہ نے تین دہائی طویل فلمی کریئر میں اب تک تقریبا 200ً فلموں میں اداکاری کی ہے۔ وہ آج بھی اسی جوش وخروش کے ساتھ فلم انڈسٹری میں فعال ہیں۔

next