محمد رفیع کے انتقال پر شمی کپور نے کہا تھا ’میری آواز چھن گئی‘

محمد رفیع نے چالیس سال قبل ماہ رمضان کے الوداع جمعہ کی رات،جوکہ شب قدر تھی، داعی اجل کو لبیک کہا اور دوسرے روز ان کے جنازے میں ہزاروں لاکھوں چاہنے والوں کا سمندر امڈ پڑاتھا۔

تصویر بشکریہ نیشنل ہیرالڈ 
تصویر بشکریہ نیشنل ہیرالڈ
user

یو این آئی

مشہور و معروف گلوکار محمد رفیع کے انتقال کو چالیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے نغموں اور متاثر کن انداز کو ان کے شیدائی بھلا نہ سکے ہیں اور ان کی یاد ہر ایک شیدائی کے دل میں آج بھی اتنا عرصہ ہوجانے کے بعد بھی برقرار ہے۔

محمد رفیع نے چالیس سال قبل ماہ رمضان کے الوداع جمعہ کی رات،جوکہ شب قدر تھی، داعی اجل کو لبیک کہا اور دوسرے روز ان کے جنازے میں ہزاروں لاکھوں چاہنے والوں کا سمندر امڈ پڑاتھا۔تیز بارش کے ہوتے ہوئے باندرہ میں ان کی رہائش گاہ سے سانتا کروز مسلم قبرستان تک لوگ جنازے میں شریک رہے اور ایس وی روڈ اور لنکنگ روڈ پر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔جنازے کے جلوس میں کیاہندو کیا مسلمان ہر کوئی شریک تھا،آج بھی رات کے سناٹے میں ایف ایم پر ان کا کوئی درد بھرا نغمہ گونجتا ہے توان کے شیدائی مسرور ہو جاتے ہیں۔

محمد رفیع کے چاہنے والے نہ صرف ہندوستان میں ہیں بلکہ برصغیر اور خلیجی ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ان کے ایک چاہنے والا سعودی عرب کے شہر جدہ میں مقیم ہے ،افغان نسل امان اللہ کی ہندی فلموں سے قربت کی کوئی مثال نہیں پیش کی جاسکتی ہے۔انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کا نام رفیع ہی رکھا ہے ۔دراصل اتفاق سے اس کی پیدائش 40سال قبل اسی روز ہوئی جب رفیع صاحب کا انتقال ہواتھا۔

جدہ میں واقع ان کے کشادہ اور وسیع مکان میں ایک منی ٹھیٹر بھی ہے اور یہاں ہندی فلموں کا ذخیرہ پایا جاتا ہے،ان کے پاس 1935 سے لیکر حال تک کی نئی فلموں کی سی ڈی اور کیسیٹ موجود ہیں ، بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ امان اللہ کو ہندی فلموں کی گزشتہ سات آٹھ دہائیوں کی داستان زبانی یاد ہے اور ویسے اسے اس طرح سناتے ہیں جیسے وہ اس دور میں موجود تھے۔

محمد رفیع کے نام پر بیٹے کا نام۔رکھنے پر ان کی شدید مخالفت ہوئی تھی ،لیکن وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہے اور ان کے فیصلے پر سبھی کو کھلنا پڑاتھا۔ انہیں ہندی فلموں سے اس حدتک لگاؤ ہے کہ ایک اداکر کے بارے میں بتاسکتے ہیں اور محمد رفیع کا ایک ایک مشہورنغمہ اور فلم اور فن کار کا نام بتادیں گے۔امان اللہ بتاتے ہیں کہ رفیع صاحب کوکندن لال سہگل کی علالت کے سبب گانے کا موقعہ ملا۔رج کپور کی تین نسلوں کو پرتھوی راج،راج کپور اور رشی کپور اورندھیرکپور کو آواز دی جبکہ ان کے انتقال پر شمی کپور نے کہاتھاکہ "میری آواز چھین گئی۔"

امان اللہ نظامی کو جنون کی حد تک ہندی فلموں سے لگاؤ ہے اور جب بھی ممبئی تشریف لاتے ہیں ،جوہوقبرستان میں محمدرفیع کی قبرپر خراج عقیدت پیش کرنے پہنچتے ہیں اور نئے اداکار سے ملاقات کرنے سے نہیں چوکتے ہیں۔

next