کنگنا رناوت بامبے ہائی کورٹ سے رجوع، ایف آئی آر کو مسترد کرنے کی اپیل

انسٹاگرام پر سیکھ مخالف متنازعہ پوسٹ شیئر کرنے پر ممبئی پولیس نے بالی ووڈ اداکارہ کے خلاف ایف آئی درج کی تھی

کنگنا رناوت، تصویر ٹوئٹر
کنگنا رناوت، تصویر ٹوئٹر
user

محی الدین التمش

ممبئی:  اداکارہ کنگنا رناوت نے ان کے خلاف درج ایک ایف آئی آرکو کالعدم قراردینے کیلئے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ایک سکھ تنظیم کی شکایت پر ممبئی پولیس نے بالی ووڈ اداکارہ کے خلاف ایف آئی آر درج کیں تھیں۔

شکایت کنندگان نے الزام عائد کیا تھاکہ 21 نومبر کو بالی ووڈاداکارہ کنگنا رناوت نے انسٹاگرام پر ایک متنازعہ پوسٹ شیئرکی تھیں جس میں انہوں نے متنازعہ زرعی قوانین کیخلاف دہلی کی سرحد پراحتجاج کرنے والے کسانوں کو خالصتانی قراردیا تھا۔ اس معاملے میں ممبئی پولیس نے ان کے خلاف مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے الزام عائد کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی تھیں۔

ممبئی پولیس نے کنگنا رناوت کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 295 (اے)کے تحت مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزام  میں کس درج کیا تھا۔ کنگنا کے خلاف درج ایف آئی آر ممبئی اور دہلی کے مختلف گرودوارہ کمیٹیوں کے اراکین امرجیت سنگھ سندھو اور منجندر سنگھ سرسا اور جسپال سنگھ سدھو کی شکایت پر درج کی گئی تھیں۔ ان افراد نے کنگنا رناوت کی۲۰نومبر کی انسٹاگرام پوسٹ کو سیکھ کمیونیٹی کے خلاف تضحیک آمیز قراردیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔شکایت کنندگان کے مطابق متنازعہ پوسٹ میں اداکارہ نے پوری سیکھ کمیونیٹی کو خالصتانی دہشت گردقراردیا تھا۔ اس کے ساتھ ادکارہ نے اندراگاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ تھا کہ وزیراعظیم نے انہیں مچھروں کی طرح اپنے پیروں تلے روند ا تھا۔ کنگنا کی پوسٹ تضحیک آمیزتھی اور اس سے سیکھ سماج کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تھی۔

کنگنا رناوت نے اس معاملے کو لیکر بامبے ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے آزادی ء اظہاراور دستوری حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے ممبئی پولیس کے ذریعے درج کی گئی ایف آئی آر جو ختم کرنے کی گذاش کی ہے۔ 


کنگنا رناوت کے وکیل رضوان صدیقی کے ذریعے دائرعرضداشت میں کہاگیا ہیکہ بالی ووڈ اداکارہ کی متنازعہ پوسٹ پر ان کے خلاف ۲۹۵ اے یا کسی دوسری دفعات کی بناء پر کوئی کیس نہیں بنتا ہے۔ کنگنا نے دستورہندکے آرٹیکل 19(1)(اے) آزادیء اظہارکا حوالہ دیتے ہوئے کہاہیکہ انہوں متنازعہ کسان قانون کو واپس لئے جانے کے بعد متنازعہ تنطیم خالصتان کی شدید مذمت کی تھیں۔ کنگنا نے ایف آئی آر کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ان کے خلاف ایف آئی آر غلط طریقے سے درج کی گئی ہے۔ ادکارہ نے متنازعہ پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا انہوں نے آزادی ء اظہاراور دستوری حقوق کا استعمال کیا ہے۔ اس لحاظ سے ان کے خلاف درج ایف آئی آرکو منسوخ کیا جانا چاہئے۔ واضح رہے کہ کنگنا رناوت اس قبل متنازعہ بیانات کی بدولت سرخیوں میں رہیں ہیں۔ گذشتہ دنوں انہوں نے ملک کی آزادی کے متعلق ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے ایک نئے تنازعے ہوا دینے کی کوشیش کی تھیں ۔متنازعہ بیانات کی بناء پر ٹوئیٹر نے بھی ان کا اکاؤنٹ کچھ وقت کیلئے مسترد کردیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔