قادر خان کی سالگرہ: اداکاری سے قبل ڈائیلاگ رائٹر بن کر جیتا دل، امیتابھ بچن کو دلائی خاص پہچان!

قادر خان نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہیں ’جوانی دیوانی‘ کے ڈائیلاگ لکھنے کے لیے 1500 روپے ملے تھے۔ اس کے بعد اگلی فلم کے لیے انہیں 21 ہزار روپے دیے گئے۔

(فائل فوٹو) بالی ووڈ کے مایہ ناز اداکار اور اسکرپٹ رائٹر قادر خان
i

بالی ووڈ میں جب بھی بہترین کامیڈین (مزاحیہ اداکار) اور ڈائیلاگ رائٹر (مکالمہ نگار) کی بات ہوتی ہے تو قادر خان کا نام ضرور آتا ہے۔ کبھی اپنی کامیڈی سے ناظرین کو ہنسانے والے تو کبھی ولن بن کر ڈرانے والے قادر خان نے ہندی سنیما میں اپنی الگ شناخت بنائی تھی۔ حالانکہ پردے پر لوگوں کو ہنسانے والے قادر خان کی اصل زندگی کافی مشکلات سے دوچار رہی۔ بچپن میں غریبی دیکھی، اہل خانہ کے لیے جدوجہد کی اور پھر اپنی محنت کے دَم پر بالی ووڈ میں بڑا مقام حاصل کیا۔ 22 اکتوبر 1937 کو افغانستان کے کابل میں پیدا ہوئے قادر خان کی آج 89ویں سالگرہ ہے۔ آئیے اس موقع پر ذیل میں جانتے ہیں ان کے بچپن، خاندان، فلمی کیریئر اور زندگی سے جڑے کچھ دلچسپ قصے۔

قادر خان کی پیدائش ایک عام خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد عبد الرحمٰن خان عربی اور اسلامی ادب کے ماہر تھے، ان کے ماں کا نام اقبال بیگم تھا۔ قادر خان کی پیدائش سے قبل ان کے 3 بھائیوں کی کم عمری میں ہی موت ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے ان کی ماں کافی پریشان رہنے لگی تھیں۔ ایک انٹرویو میں قادر خان نے بتایا تھا کہ ان کے بھائیوں کی موت کے بعد ماں کو لگنے لگا تھا کہ کابل کا ماحول ان کے بچوں کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاندان نے افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور ممبئی آ گئے۔ ممبئی پہنچنے کے بعد ان کا خاندان کماٹھیپورہ علاقے میں رہنے لگا۔ یہاں ایک چھوٹی سی چال میں ان کا بچپن گزرا۔ خاندان کی معاشی حالت اس قدر خراب تھی کہ کئی بار کھانے تک کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔


بالی ووڈ اداکار قادر خان ان شخصیات میں سے ایک تھے، جن کی زندگی بے حد سادہ ہونے کے باوجود بھی ایک دلچسپ کتاب کی طرح رہی۔ قادر خان نے اداکاری میں تو اپنا جلوہ بکھیرا ہی تھا، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ تعلیمی میدان میں بھی پیچھے نہیں تھے۔ دراصل قادر خان نے انجنیئرنگ کی تھی اور اپنی تعلیم مکمل کرنے بعد صدیقی کالج آف انجنیئرنگ میں پروفیسر بھی رہے۔

قادر خان کی زندگی کا ایک دلچسپ قصہ ان کی اداکاری کے شروعاتی دنوں سے جڑا ہے۔ انہیں بچپن سے ہی ڈرامہ میں حصہ لینے اور ڈائیلاگ بولنے کا شوق تھا۔ ایسے میں وہ ساؤتھ ممبئی کے ایک قبرستان میں جا کر تنہا ڈائیلاگ بولنے کی پریکٹس کیا کرتے تھے۔ وہاں انہیں کوئی پریشان نہیں کرتا تھا اور وہ کھل کر اپنی اداکاری کی مشق کر پاتے تھے۔ اسی دوران ایک اداکار کی نظر ان پر پڑی۔ انہوں نے قادر خان کی صلاحیت کو پہچانا، وہ اداکار اشرف خان تھے۔ انہوں نے قادر خان سے ڈرامہ میں کام کرنے کے بارے میں پوچھا۔ پھر یہیں سے قادر خان کا ڈرامہ میں کام کرنے کا سفر شروع ہوا اور انہوں نے تھیٹر کی دنیا میں اپنی پہچان بنائی۔


قادر خان کالج کے دنوں میں ڈراموں میں کافی سرگرم تھے۔ ان کی اداکاری اور ان کے ڈائیلاگ بولنے کے انداز نے کئی لوگوں کو متاثر کیا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق معروف اداکار دلیپ کمار نے بھی کالج میں ان کا ڈرامہ دیکھا تھا اور ان کی صلاحیت سے متاثر ہوئے تھے۔ حالانکہ قادر خان کو فلمی دنیا میں ابتدائی شناخت ایک مصنف کے طور پر ملی۔ انہوں نے 1972 میں ریلیز ہوئی فلم ’جوانی دیوانی‘ کے ڈائیلاگ لکھے۔ اس کے بعد 1973 میں یش چوپڑا کی فلم ’داغ‘ سے قادر خان نے بطور اداکار بالی ووڈ میں ڈیبیو کیا۔ راجیش کھنہ، شرمیلا ٹیگور اور راکھی کی اداکاری والی اس فلم میں انہوں نے وکیل کا کردار ادا کیا تھا۔

قادر خان نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہیں ’جوانی دیوانی‘ کے ڈائیلاگ لکھنے کے لیے 1500 روپے ملے تھے۔ اس کے بعد اگلی فلم کے لیے انہیں 21 ہزار روپے دیے گئے۔ اس وقت بطور استاذ ان کی تنخواہ محض 400 روپے تھی۔ ایسے میں فلموں میں ملنے والی رقم ان کے لیے بہت بڑی تھی۔ ان کے کیریئر میں بڑی تبدیلی تب آئی جب فلم ساز منموہن دیسائی نے انہیں فلم ’روٹی‘ کے ڈائیلاگ لکھنے کا موقع دیا۔ اس کام کے لیے انہیں ایک لاکھ 21 ہزار روپے فیس ملی تھی۔


قادر خان صرف بہترین اداکار ہی نہیں بلکہ شاندار ڈائیلاگ رائٹر بھی تھے۔ انہوں نے ’امر اکبر اینتھنی‘، ’مقدر کا سکندر‘، ’لاوارث‘، ’شرابی‘، ’قلی‘ اور ’اگنی پتھ‘ جیسی فلموں کے لیے ڈائیلاگ لکھے۔ ان کی خاصیت تھی کہ سنجیدہ سے سنجیدہ بات کو بھی آسان اور اثردار الفاظ میں لکھتے تھے۔ امیتابھ بچن کے اینگری ینگ مین والے دور میں ان کے لکھے ڈائیلاگ کافی مقبول ہوئے۔ گویا کہ ایک طرح سے قادر خان نے امیتابھ بچن کو اپنے ڈائیلاگ سے خاص پہچان دی۔ قادر خان نے اپنے کیریئر میں 300 سے زائد فلموں میں اداکاری کی تھی۔ 1990 کی دہائی میں قادر خان کی پہچان کامیڈی فلموں سے مزید مضبوط ہوئی۔ گووندا کے ساتھ ان کی جوڑی ناظرین کو خوب پسند آئی۔ ’قلی نمبر1‘، ’ہیرو نمبر1‘، ’دولہے راجہ‘، ’آنکھیں‘ اور ’ساجن چلے سسرال‘ جیسی فلموں میں ان کی کامک ٹائمنگ نے لوگوں کا دل جیتا۔

قابل ذکر ہے کہ قادر خان اپنی زندگی کے آخری سالوں میں صحت سے متعلق پریشانیوں میں مبتلا تھے۔ وہ علاج کے لیے کناڈا میں رہ رہے تھے۔ 31 دسمبر 2018 کو 81 سال کی عمر میں ٹورنٹو میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ہندی سنیما میں ان کی خدمات کے لیے ہندوستانی حکومت نے 2019 میں انہیں بعد از مرگ ’پدم شری‘ سے نوازا۔ انہیں ’باپ نمبری بیٹا دس نمبری‘ کے لیے بہترین کامیڈین کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا تھا۔ اس کے علاوہ ’میری آواز سنو‘ ’انگار‘ کے لیے ڈائیلاگ رائٹنگ فلم فیئر ایوارڈ ملے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔