لیلیٰ: مستقبل کی وہ خوفناک تصویر جب گاندھی کا نام اور تاج محل کا وجود مٹا دیا جائے گا!

نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی ویب سیریز ’لیلیٰ‘ ملک کے مستقبل کی ایسی خوفناک تصویر پیش کرتی ہے جسے دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

عمران خان

از۔ عمران خان

کسی بھی ملک کے حال میں رونما ہو رہے واقعات ہی اس ملک کا مستقبل طے کرتے ہیں۔ اگر ایک مذہب، ایک نظریہ کو فروغ دیا جانے لگے اور سماج کے دوسرے حصوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جائے اور اسے سیاسی طور پر غیر موزوں بنا دیا جائے تو اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا اس کا آسانی سے تصور کیا جا سکتا ہے۔

نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی ویب سیریز ’لیلیٰ‘ ملک کے مستقبل کی ایسی ہی خوفناک تصویر پیش کرتی ہے جسے دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔

یہ ویب سیریز ’پریاگ اکبر‘ کے شائع ہونے والے ’لیلیٰ‘ نام کے ناول پر مبنی ہے، جس کے ہدایت کار مشترکہ طور پر دیپا مہتا، شنکر رمن اور پون کمار ہیں۔ اہم اداکار ہما قریشی، راہل کھنہ، عارف ذکریہ، سنجے سوری، سیما بسواس اور آکاش کھورانا ہیں۔

سیریز میں شالنی پاٹھک (ہما قریشی) کا کردار اہم ہے، جس نے مسلمان لڑکے رضوان چودھری سے شادی کر لی ہے۔ شالنی اور رضوان’ آریہ ورت‘ نام کے ایک خیالی ملک کے رہائشی ہیں۔ آج کل جس طرح ’لو جہاد‘ کے نام پر شدت پسند ہنگامہ آرائی کرتے ہیں، 2047 کے’آریہ ورت‘ میں اس کا شدید روپ نظر آتا ہے اور شالنی کو مسلمان سے شادی کرنے کی سزا اس طرح دی جاتی ہے کہ اس کے گھر میں گھس کر شوہر کو قتل کر دیا جاتا ہے، بچی کو چھین لیا جاتا ہے اور شالنی کو اغوار کر کے ’ونیتا کلیان کیندر‘ نامی ایک ایسے قید خانے میں ڈال دیا جاتا ہے جہاں ’شدھی کرن‘ کے نام پر خواتین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ یہیں سے شالنی کی زندگی بدل جاتی ہے اور اس کے اذیت ناک سفر کے درمیان ’آریہ ورت‘ کی خوفناک تصویر نمایاں ہوتی ہے۔

دراصل آریہ ورت میں اگر الگ الگ کیٹیگری کے مرد اور عورت شادی کر لیتے ہیں، تو ان کے جو بچے پیدا ہوتے ہیں انہیں ’مِشرِت‘ یعنی مکسڈ بچے کہا جاتا ہے۔ ایسے بچوں کو سماج پر کلنک مانا جاتا ہے اور انہیں مٹا دیا جاتا ہے یا غائب کر دیا جاتا ہے۔ لیلیٰ بھی چونکہ ہندو ماں اور مسلم باپ کی اولاد ہے اس لئے وہ بھی غائب کر دی جاتی ہے۔ شالنی کو معلوم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں لیکن پھر بھی وہ اپنی بچی کے لئے سب کچھ سہتی ہے اور خطروں سے کھیل جاتی ہے۔

ہما قریشی نے ’لیلی‘ کے ذریعے اپنا ’ڈجیٹل ڈیبیو‘ کیا ہے اور اپنی پہلی ہی ویب سیریز میں چھا گئی ہیں، ان کی اتنی زبردست اداکاری کو دیکھ کر کہا جا رہا ہے کہ یہ ان کی اب تک کی سب سے بہترین کارکردگی ہے۔
ہما قریشی نے ’لیلی‘ کے ذریعے اپنا ’ڈجیٹل ڈیبیو‘ کیا ہے اور اپنی پہلی ہی ویب سیریز میں چھا گئی ہیں، ان کی اتنی زبردست اداکاری کو دیکھ کر کہا جا رہا ہے کہ یہ ان کی اب تک کی سب سے بہترین کارکردگی ہے۔

’آریہ ورت‘ کہنے کو ایک خیالی ملک ہے لیکن جگہ جگہ بھگوا رنگ اور گونجتے ہوئے منتروں سے یہ احساس ہو جاتا ہے کہ یہ کس ملک کا ’مستقبل‘ ہے۔ یہاں کا سپریم لیڈر ڈاکٹر جوشی ہے جو ایک تاناشاہ بن چکا ہے۔ سماج پانچ حصوں (ایک سے لے کر پانچ کیٹیگری) میں تقسیم ہو چکا ہے۔ پانچ کیٹیگری یعنی کہ ’پنچ کرمی‘ خدمت گاروں کا طبقہ ہے جنہیں غلاموں کی زندگی گزارنی ہوتی ہے۔ ایک ایک کٹیگری یا طبقہ کا ایک علیحدہ سیکٹر ہے جس میں لوگ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں لیکن بغیر اجازت کسی دوسرے سیکٹر میں جانے پر پابندی ہے۔ ان پانچ کیٹیگریوں کے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں انہیں دوش (دوشت یعنی ناپاک) کہا جاتا ہے، انہیں زبردستی شہروں سے بہار نکال دیا گیا ہے اور شہروں کے باہر فلک بوش دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ دوش افراد شہر کے باہر جھگیوں میں رہتے ہیں جہاں چاروں طرف گندگی اور کوڑے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ دوش بتاکر کن لوگوں کو سماج سے علیحدہ کیا گیا اس کا اندازہ گندی بستی کے گھروں میں نیلے اور ہرے رنگ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

دو سال کی ’محنت‘ کے بعد جوشی کے حکم سے تمام دوش لوگوں کو شہروں سے بہار نکالا گیا ہے اور اب وہاں بھی ان کی زندگی خطرے میں ہے کیونکہ ایک ایسا پروجیکٹ (اسکائی ڈوم) لانے کی تیاری ہے جس کے آغاز کے ساتھ ہی شہروں سے باہر رہنے والے تمام لوگوں کی نسل کشی یقینی ہے۔

اس سیریز کے دو مناظر قابل غور ہیں۔ شالنی (ہما قریشی) کا تعاقب کرتے ہوئے ’آریہ ورت‘ کے لوگ ایک دوشوں کی بستی تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں ایک کباڑ خانہ نما دکان میں گاندھی جی کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ جیسے ہی آہٹ ہوتی ہے وہ شخص گاندھی کی تصویر کو پلٹ دیتا ہے اور ’جوشی‘ کی تصویر کو سامنے کر دیتا ہے۔ بعد میں جب وہ لوگ چلے جاتے ہیں تو وہ پھر سے گاندھی کی تصویر کو سامنے کر دیتا ہے۔

دوسرے منظر میں بابری مسجد کی طرز پر تاج محل کو منہدم کئے جانے کی خبر ٹی وی پر نشر ہوتی ہے۔ اس منظر میں جنونی ہجوم اور کئی لیڈران تاج محل کو منہدم کر دینے کی خوشی مناتے نظر آتے ہیں۔

لیلیٰ: مستقبل کی وہ خوفناک تصویر جب گاندھی کا نام اور تاج محل کا وجود مٹا دیا جائے گا!

مذہبی جنون اور قدامت پسندی سے لبریز ’آریہ ورت‘ میں ٹیکنالوجی کی ترقی تو ظاہر ہوتی ہے، کمیونی کیشن کے نئے ذرائع ایجاد کر لئے گئے ہیں، کمپیوٹر مزید طاقت ور ہو گئے ہیں، سرویلانس اور سکورٹی زبردست ہو چکی ہے، ہتھیار بھی جدید ہو گئے ہیں لیکن پانی اور صاف ہوا کا بحران اپنی حدوں کو پار کر چکا ہے۔ ساتھ ہی انسانیت بھی مر چکی ہے اور گالی گلوچ پہلے سے بھی زیادہ عام ہو گئی ہے۔ ’آریہ ورت‘ میں حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی سزا موت ہے۔ لوگووں کی موب لنچنگ کرنا عام بات ہے اور باغیوں کو سر عام چوراہوں پر پھانسی دی جاتی ہے یا پھر نذر آتش کر دیا جاتا ہے۔ اس ٹوٹلی ٹیرین (تمام طرح کے اختیارات رکھنے والے) سماج میں ’جوشی جی‘ جو بھی کہیں وہی حرف آخر ہوتا ہے۔

یوں تو آریہ ورت میں مسلمانوں کا بھی ’اشرف گنج‘ نام سے سیکٹر ہے لیکن وہاں کے مسلمان بھی ’جوشی‘ کی ہر بات پر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ورنہ ان کی خیر نہیں!

ہمارا ملک ہندوستان بھی اگر موجودہ ڈھرے پر چلتا رہا تو یہ بھی ’آریہ ورت‘ بننے سے محض دو-چار قدم ہی دور ہے۔

Published: 18 Jun 2019, 9:10 PM