معروف صحافی اور مڈڈے کے سابق آرٹ ڈائریکٹرعطاء اللہ خان کی کورونا نے جان لی 

وہ اپنے کام میں ماہر تھے اور ایک زندہ دل انسان تھے،جو اپنے ماتحت کام کرنے والوں کے ساتھ بہت خلوص اور محبت سے پیش آتے تھے

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

روزنامہ انقلاب ممبئی سے وابستہ رہے ایک سینئر فلمی صحافی اور انقلاب اور انگریزی شامنامہ مڈ ڈے کے سابق آرٹ ڈائرکٹر عطاء اللہ خان کا سعودی عرب کے مشہور شہر جدہ میں انتقال ہوگیا۔انہیں 5جون کو کورونا وائرس کے شبہ میں کنگ عبدالعزیز اسپتال میں علاج کے لیے داخل کیا گیا ،جہاں انہوں نے جمعہ کی شام عصر اور مغرب کے درمیان داعی اجل کو لبیک کہا۔پسماندگان میں اہلیہ،بیٹا اور بیٹی ہیں۔ انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔

عطاء اللہ خان نے روزنامہ انقلاب اور ادارہ کے فلمی رسالہ کہکشاں کو دیدہ زیب اور خوش رنگ بنانے کے لیے کافی محنت کی اور وہ ہمیشہ انقلاب کے مالکان اور چئیر مین خالد انصاری کے قریبی رہے۔1979 میں انقلاب سے جاری ہوئے شامنامہ مڈڈے کے لےآؤٹ اور آرٹ کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی ۔ انقلاب پبلیکشنز میں انہوں نے تقریباً 25 سال خدمت انجام دی اور 12سال قبل جدہ میں پرنٹنگ کے ہی شعبے سے وابستہ ہوگئے ۔

صحافی جاویدجمال الدین کے مطابق ایک فلمی صحافی کے طور پر انہوں نے قدآور فلمی اداکاروں سے کہکشاں اور انقلاب کے لیے انٹرویو کیے ،اس لمبی فہرست میں دلیپ کمار،نوشاد محمدرفیع ،جے راج،جانی واکر،محمود،ریکھا ،امین سیانی ،نروپارائے ،بندو اور لاتعداد اسٹارز شامل رہے ،لیکن اس کے ساتھ انہوں نے اخبار کےلے آؤٹ کو کبھی متاثر نہیں ہونے دیا اور ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی تمنا کی۔

جاوید نے مزید کہاکہ"میری لکھی گئی بانی انقلاب مرحوم عبدالحمید انصاری کی سوانح عمری "عبدالحمید انصاری ،انقلابی صحافی اور مجاہد آزادی ،کا سرورق بھی عطاء اللہ خان نے ہی تیار کیا تھا۔حال میں انہوں نے جدہ سے رابطہ کیا اور کتاب کی تیاری کے دوران پیش آنے والی باتوں کو یاد کیا اور ممبئی آنے پر ملاقات کا یقین دلایا تھا۔

مڈڈے ملٹی میڈیا کے سابق جنرل منیجر یونس صدیقی نے کہا کہ وہ اپنے کام میں ماہر تھے اور ایک زندہ دل انسان تھے،جو اپنے ماتحت کے ساتھ عملے سے بہت اچھی طرح خلوص اور محبت سے پیش آتے تھے بلکہ کام دوران پیش آنے والی پریشانیوں اور دشواریوں کو بحسن خوبی دور کرتے تھت۔یونس صدیقی کے مطابق فلموں سے کافی لگاؤ رہا اور محمد رفیع اور طلعت محمود کے عاشق تھے ،ہمیشہ فرصت میں سن کے نغمے گنگناتے رہتے تھے۔اردو دنیا ان کمی محسوس کرے گی۔عطاء اللہ خان کے انتقال پر اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر خلیل زاہد اور دیگر اراکین نے بھی گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے ۔