فلم اور تفریح

دیو آنند... ہندی سنیما کا وہ راجو ’گائیڈ‘ جسے کالا سوٹ پہننا منع تھا

آر کے نارائن فلم سے خوش نہیں تھے۔ خاص طور پر فلم کے اختتامیہ سے ناخوش تھے۔ لیکن ’گائیڈ‘ فلموں کی دنیا میں اتنا ہی اہم مقام رکھتی ہے جتنا کہ ہندوستانی ناولوں میں ’دی گائیڈ‘ ناول۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

پرگتی سکسینہ

ہندی فلموں کے سنہرے دور کا تذکرہ کیے بغیر ہندوستانی فلم کی بات کرنا بے معنی ہے اور ہندی فلموں کا سنہرا دور 26 سمتبر 1923 کو پیدا ہوئے دیو آنند کے بغیر ادھورا ہے۔ اپنے وقت کے سب سے دلکش اداکار مانے جانے والے دیو آنند کے بارے میں مشہور تھا کہ انھیں کالے سوٹ میں باہر نکلنے سے اس لیے منع کیا گیا تھا کہ کہیں ان پر جان چھڑکنے والی خاتون شیدائی ان سے ملنے کے لیے اونچی عمارتوں سے نیچے نہ کود جائیں۔ اور اسی لیے انھیں ’لیڈی کِلر‘ کا لقب بھی دیا گیا تھا۔

لاہور میں انگریزی ادب سے بی اے کرنے کے بعد دیو آنند ایک کلرک کی ملازمت کرنے لگے تھے۔ مشہور اداکار اشوک کمار کی حوصلہ افزائی اور مدد سے دیو آنند نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور اس کے بعد ان کا فلمی سفر کس عروج تک پہنچا یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔

دیو آنند نہ صرف یکے بعد دیگرے بہت کامیاب فلمیں بالی ووڈ کو دیں بلکہ ایک لبرل رومانٹک ہیرو کے طور پر بھی خود کو قائم کیا۔ ایک ایسا ہیرو جو اپنی سادگی بھری شخصیت کے باوجود سماج کی برائیوں کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ انھوں نے ’نو کیتن‘ کے نام سے اپنا ایک پروڈکشن ہاؤس بھی شروع کیا جس نے آگے چل کر ہندی فلم کو کئی بہت اچھی اور بامعنی فلموں کا تحفہ دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

دیو آنند اور اس وقت کی مشہور اور خوبصورت اداکارہ ثریا کے عشق کی داستان بھی بہت مشہور ہوئی۔ لیکن افسوس اتنے دلکش، تعلیم یافتہ اور لبرل نظریہ والے دیو آنند کی محبت پروان نہ چڑھ سکی کیونکہ مذہب ان کے لیے رخنہ انداز ہو گیا۔ ثریا تو دیو آنند کے پیچھے ہٹنے سے اس قدر ٹوٹ گئیں کہ انھوں نے تاعمر شادی ہی نہیں کی۔ قسم تو دیو آنند نے بھی کھائی تھی کہ وہ بھی زندگی بھر کنوارے ہی رہیں گے، لیکن لگاتار چار کامیاب فلموں (بازی، آندھیاں، ہاؤس نمبر 44 اور نو دو گیارہ) کی اپنی ہیروئن کلپنا کارتک سے انھوں نے آخر کار پانچویں فلم ٹیکسی ڈرائیور کی شوٹنگ کے درمیان ملے لنچ بریک کے دوران شادی کر لی۔

ہندی فلم کے کیری گرانٹ کے طور پر مشہور دیو آنند کا بطور پروڈیوسر اور ایکٹر سب سے بڑا پروجیکٹ تھا ’گائیڈ‘۔ دیو آنند ’ہم دونوں‘ فلم کی تشہیر کے لیے برلن فلم فیسٹیول میں گئے تھے جہاں انھوں نے آر کے نارائن کی کتاب ’دی گائیڈ‘ پڑھی۔ یہ ناول انھیں اتنا دلچسپ لگا کہ وہ ایک ہی بار میں سارا ناول پڑھ گئے۔ ناول کا ہیرو راجو ان کے ذہن کو بھا گیا اور انھوں نے فیصلہ کر لیا کہ اس ناول پر وہ بین الاقوامی سطح کی فلم بنائیں گے۔

اسی دوران نوبل ایوارڈ یافتہ رائٹر پرلس ایس بَک نے ہدایت کار ٹیڈ دینیلوسکی کے ساتھ مل کر اسٹریٹن پروڈکشن کی شروعات کی تھی اور وہ کچھ ایک بار ہندوستانی تعاون سے فلم بنانے کی خواہش ظاہر کر چکی تھیں۔ دیو آنند نے فوراً پرل ایس بَک سے رابطہ کیا اور انھیں اس ناول کے بارے میں بتایا۔ بَک پہلے سے اس ناول سے واقف تھیں اس لیے وہ فوراً راضی بھی ہو گئیں۔ طے ہوا کہ فلم ہندی اور انگریزی دونوں میں بنے گی۔ انگریزی میں اس کی ہدایت کاری ٹیڈ ہی کریں گے اور ہندی میں دیو صاحب کے بڑے بھائی چیتن آنند۔ پھر دیو آنند رائٹر آر کے نارائن سے ملے اور انھیں ناول پر فلم بنانے کی منظوری دینے کے لیے رضامند کر لیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
دیو آنند ایک فلم میں کلپنا کارتک کے ساتھ

جب فلم بننی شروع ہوئی تو چیتن آنند نے محسوس کیا کہ ان کے اور ٹیڈ دینیلوسکی کے درمیان بڑی نااتفاقی ہو سکتی ہے۔ چونکہ ہندی اور انگریزی ایڈیشن کے بہت سے مناظر ایک ساتھ شوٹ کیے جانے تھے اس لیے چیتن آنند کو لگا کہ کشیدگی پیدا ہو اس سے پہلے کام چھوڑنا بہتر ہے۔ اس کے بعد ان کی جگہ لی دیو صاحب کے چھوٹے بھائی وجے آنند نے۔

راجو کے کردار میں تو دیو صاحب کو ہی ہونا تھا، لیکن اداکارہ روزی کے کردار کے لیے چیتن آنند چاہتے تھے کہ پریا راجونش کو تیار کیا جائے۔ لیکن دیو آنند نے صاف انکار کر دیا۔ وجینتی مالا اور پدمنی کو بھی کاسٹ نہیں کیا گیا کیونکہ ان کا قد پوری طرح ہندوستانی تھا اور ہدایت کار ٹیڈ دینیلوسکی کو وہ امریکی ناظرین کے مطابق نہیں لگا۔ دیو آنند شروع سے وحیدہ رحمن کو لینے کے حق میں تھے اور آخر کار وحیدہ کو ہی بطور ہیروئن لیا گیا۔

فلم کی شوٹنگ کے دوران رائٹر آر کے نارائن کو بھی دعوت دی گئی کہ ان کی موجودگی فلم کے لیے بے حد ضروری ہے۔ آر کے نارائن شوٹنگ میں موجود تو رہے لیکن انھیں احساس ہو گیا کہ فلم ناول سے ’کنیکٹ‘ کرے یہ ضروری نہیں۔ انھوں نے اپنے مضمون ’مس گائیڈیڈ گائیڈ‘ میں لکھا بھی ہے کہ ’’مجھے یہ محسوس ہونا شروع ہو گیا تھا کہ سنگل ڈائیلاگ ایک فلمساز کا خصوصی اختیار ہے اور اس میں مجھے بیچ بیچ میں اپنی بات نہیں رکھنی چاہیے۔ نہ معلوم کیوں ایسا لگتا تھا کہ انھیں میری موجودگی کی ضرورت تو ہے لیکن میری آواز کی نہیں۔ میرا صرف نظر آنا ضروری ہے، مجھے سنا جانا نہیں۔‘‘

بہر حال، تمام مشکلات اور نااتفاقیوں کے باوجود ’گائیڈ‘ بن کر تیار ہو گئی۔ انگریزی میں یہ فلم ڈوب گئی اور وجہ واضح تھے... کہانی کے جذبات کو چھوڑ کر ناظرین کی دلچسپی کو دھیان میں رکھا گیا تھا۔ لیکن ہندی میں فلم نہ صرف باکس آفس پر کامیاب ہوئی بلکہ تجزیہ کاروں نے بھی اس کی خوب تعریف کی۔

سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس فلم نے بے حد خوبصورتی اور حساسیت کے ساتھ بغیر کسی اخلاقی سبق کے ایک شادی شدہ شخص کے ناجائز رشتوں کو پردے پر پیش کیا۔ فلم کے نغموں میں بھی ایس ڈی برمن نے نئے تجربات کیے اور ایک ہی راگ میں ایک خوشنما نغمہ اور اس کے فوراً بعد ایک مایوسی بھرا نغمہ فلما کر ہدایت کار وجے آنند نے بھی ایک کامیاب تجربہ کیا۔

حالانکہ آر کے نارائن فلم سے خوش نہیں تھے، خاص کر فلم کے آخر سے۔ لیکن ’گائیڈ‘ فلموں کی دنیا میں اتنی ہی اہم جگہ رکھتی ہے جتنا کہ ہندوستانی ناولوں میں ’دی گائیڈ‘ ناول۔ اور اس کے لیے دیو آنند کے جذبے، ان کے جوش اور لگن کو ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔

Published: 26 Sep 2018, 8:12 PM