بہترین ویلن اور منفرد اداکاری کے بے تاج بادشاہ تھے امجد خان

اپنی منفرد اداکاری سے تقریباً تین دہائیوں تک ناظرین کا بھرپور انٹرٹنمنٹ کرنے والے عظیم اداکار امجد خان 27 جولائی 1992 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

امجد خان، تصویر یو این آئی
امجد خان، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

یوم وفات پر خاص

ممبئی: بالی ووڈ کی سپر ہٹ فلم ’’شعلے‘‘ کے کردار ’’گبر سنگھ‘‘ نے امجد خان کو فلم انڈسٹری میں ایک ایسی منفرد شناخت دلائی، جس کا ثانی آج تک کوئی نہیں ہے اس فلم میں گبر سنگھ کے کردار کے لئے پہلے ڈینی کا نام تجویز کیا گیا تھا، فلم شعلے كے گبر سنگھ والا کردار ڈینی کو دیا گیا تھا لیکن اس وقت فلم ’’دھرماتما‘‘ میں کام کرنے کی وجہ سے انہوں نے شعلے میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔ شعلے کے اسکرپٹ رائٹرسلیم خان کی سفارش پر رمیش سپی نے امجد خان کو گبر سنگھ کا کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔

جب سلیم خان نے امجد خان سے فلم شعلے میں گبر سنگھ کا کردار ادا کرنے کو کہا تو پہلے تو وہ گھبرا سے گئے لیکن بعد میں انہوں نے اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور چمبل کے ڈاکوؤں پر بنی کتاب ’ابھیشپت چمبل‘ کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ بعد میں جب فلم شعلے ریلیز ہوئی تو اان کا ادا کیا گیا کردار ’گبر سنگھ‘ شائقین میں اس قدر مقبول ہوا کہ لوگ گا ہے بگاہے ان کی آواز اور چال ڈھال کی نقل کرنے لگے۔ 12 نومبر 1940 کو پیدا ہوئے امجد خان کو اداکاری وراثت میں ملی تھی۔ ان کے والد جینت فلم انڈسٹری میں ویلن رہ چکے تھے۔ انہوں نے بطور اداکار اپنے کیریئرکا آغاز 1957 میں آئی فلم ’’اب دہلی دور نہیں ‘‘سے کیا تھا۔ اس فلم میں انہوں نے چائلڈ اسٹار کا کردار ادا کیا تھا۔

سال 1965 میں اپنی ہوم پروڈکشن میں بننے والی فلم 'پتھر کے صنم' کے ذریعے امجد خان بطور اداکار اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے تھے لیکن کسی وجہ سے فلم بن نہیں سکی۔ ستر کی دہائی میں انہوں نے ممبئی سے اپنی کالج کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد بطور اداکار کام کرنے کے لیے فلم انڈسٹری کا رخ کیا اور 1973 میں بطور اداکار انہوں نے فلم ’ہندوستان کی قسم‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا لیکن اس فلم سے سامعین کے درمیان وہ اپنی شناخت نہیں بنا سکے۔

اسی دوران امجد کو تھیٹر میں اداکاری کرتے دیکھ کر اسکرپٹ رائٹرسلیم خان نے امجد سے شعلے میں گبر سنگھ کے کردار کو ادا کرنے کی پیشکش کی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ فلم ’شعلے‘کی کامیابی سے امجد خان کے فلمی کیریئر میں زبردست تبدیلی آئی اور وہ کھلنائکی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کو مسحور نے لگے۔ سال 1977 میں آئی فلم ’شطرنج کے کھلاڑی‘میں انہیں عظیم ڈائریکٹر ستیہ جیت رے کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کے ذریعے بھی انہوں نے ناظرین کا دل جیت لیا۔

اپنی اداکاری میں یکسانیت سے بچنے کے لئے امجد خان نے خود کو کریکٹرایکٹر کے طور پیش کیا اور 1980 میں ریلیز فیروز خان کی سپر ہٹ فلم ’قربانی‘ میں اپنی مزاحیہ اداکاری سے شائقین کی بھرپور ستائش حاصل کی۔ سال 1981 میں ان کی اداکاری کی نئی شکل ناظرین کے سامنے آئی۔ پرکاش مہرا کی سپر ہٹ فلم ’لاوارث‘ میں وہ امیتابھ کے والد کا کردار ادا کرنے سے بھی نہیں هچكچائے۔ قبل ازیں انہوں نے فلم ’لاوارث‘ سے پہلے امیتابھ کے ساتھ کئی فلموں میں ویلن کا کردار نبھایا تھا۔

سال 1981 میں جلوہ گر فلم ’يارانہ‘ میں انہوں نے سپر سٹار امیتابھ بچن کے دوست کا کردار نبھایا اور ان پر فلمایا یہ نغمہ ’بشن چاچا کچھ گاؤ‘ بچوں کے درمیان بہت مقبول ہوا۔ اسی فلم میں اپنی بااثر اداکاری کیلئے انہیں اپنے فلمی کیریئر میں دوسری مرتبہ بہترین شریک فنکار فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ قبل ازیں 1979 میں بھی انہیں فلم دادا کے لئے بہترین سہ آرٹسٹ کا فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ علاوہ ازیں 1985 میں فلم ’ماں قسم‘ کے لیے امجد خان کو بہترین مزاحیہ اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔

سال 1983 میں امجد خان نے فلم ’چور پولیس‘ کے ذریعے ہدایتکاری کے میدان میں قدم رکھا لیکن یہ فلم باکس آفس پر بری طرح ناکام رہی، اس کے بعد 1985 میں انہوں نے فلم ’امیر آدمی غریب آدمی‘ کی ہدایت کاری کی لیکن یہاں بھی انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سال 1986 میں ایک حادثے کے دوران امجد خان موت کے منہ سے باہر نکلے تھے۔ علاج کے دوران دوائیوں کے مسلسل استعمال کرنے سے ان کی صحت میں مسلسل گراوٹ آتی رہی اور ان کا جسم بھاری ہوتا گیا۔

90 کی دہائی میں صحت خراب رہنے کی وجہ سے امجد خان نے فلموں میں کام کرنا کم کر دیا تھا۔ اپنی فلمی زندگی کے آخری دور میں وہ اپنے دوست امیتابھ کو لے کر فلم ’لمبائی چوڑائی‘ نام سے فلم بنانا چاہتے تھے لیکن ان کا یہ خواب ادھورا ہی رہ گیا۔ اپنی اداکاری سے تقریباً تین دہائیوں تک ناظرین کا بھرپور انٹرٹنمنٹ کرنے والے عظیم اداکار امجد خان 27 جولائی 1992 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

next